| وقار ملك
کیا اسے بھی تعلیم کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟
سوال: معزز قارئین، تفریح کے مکالمہ میں اۤپ تفریح کی تعریف، ضرورت و اہمیت اور فقدان کی صورت میں ذہنی و جسمانی نقصانات، اسلام کا تفریح کے بارے میں تصور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی تفریحات، ان تفریحات کی موجودہ شکل کیا ہو سکتی ہے، ٹیلی ویژن، ڈش، سینما، تھیٹر جیسی عوامی مقبولیت کی حامل تفریحات کیسے جائز قرار پاسکتی ہیں؟ کے علاوہ اس موضوع سے متعلقہ کئی اور اہم و دلچسپ سوالات کے حوالے سے جاوید احمدغامدی صاحب کے خیالات ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اس موضوع کو اۤگے بڑھاتے ہوئے اۤج میرا ان سے پہلا سوال یہ تھا کہ سیکس کا تفریح کے ساتھ کیا تعلق ہے، اسلام میں سیکس کی کیا اہمیت ہے۔ کیا یہ فرائض میں شامل ہے یا پھر تفریح میں ان کا شمار ہوتا ہے؟ جاوید احمد غامدی کہہ رہے تھے کہ
جواب: انسانی فطرت میں جو جبلتیں رکھی گئی ہیں، ان میں سے سیکس بھی ایک جبلت ہے۔ اسلام اسے چند حدود کا پابند کرتا ہے۔ جن حدود کا وہ اسے پابند کرتا ہے، وہ اۤپ کو بھی معلوم ہیں اور مجھے بھی۔ اس میں ظاہر ہے کہ سب سے اہم چیز لذت اندوزی ہے، لہٰذا جب بھی انسان کے اندر جنسی جذبات پیدا ہوں گے، لذت اندوزی کے لیے پیدا ہوں گے، اسلام نے ان چند چیزوں کے سوا اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی، لہذا ہر شخص حدود میں رہتے ہوئے حظ اٹھا سکتا ہے۔ جب اۤپ کسی خاتون کو بیاہ کر لے اۤتے ہیں تو پھر یہ اس کا حق بن جاتا ہے اور اگر یہ حق ادا نہ کیا جائے تو یہ کافی وجہ ہے کہ کوئی خاتون علیحدگی اختیار کر لے۔ اسی سے اۤپ اس کی اہمیت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
سوال: سیکس ایجوکیشن کے بارے میں اۤپ کا نقطہء نظر کیا ہے۔ ایک تاثر یہ ہے کہ اس کے بغیر معاشرے میں گھٹن اور منفی اثرات نے جنم لیا ہے؟
جواب: میرے خیال میں سیکس کی تعلیم ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کے لیے موزوں عمر کا انتخاب بھی ضر وری ہے۔ جنسی تعلیم نہ ہونے کے نتیجے میں ہمارے ہاں نوجوانوں میں بہت سے جنسی امراض اور نفسیاتی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ صحیح جنسی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ خود تجربات کرتے ہیں اور بعض اوقات عطائیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، اس لیے جنسی تعلیم بے حد ضروری ہے۔
سوال: سیکس کے لیے عمر، جگہ اور طریقہء کار کیا ہونا چاہیے؟
جواب: اس کے لیے مناسب جگہ سکول اور موزوں عمر وہ ہے جب ایک لڑکا یا لڑکی بلوغت کی سطح پر پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ اساتذہ اگر اچھے اسلوب میں یہ تعلیم دیں تو میرا خیال ہے کہ اس کے بہت ہی خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے لیے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ ہمارا جو قدیم نصاب ہے، اس میں لوگ دو چیزیں لازماً پڑھتے تھے۔ ایک معاشرت سے متعلق ضروری فقہ، اس میں کم و بیش جنس کے متعلق تمام مسائل زیر بحث اۤ جاتے تھے۔ دوسرے شیخ سعدی کی کتب۔ ان کی معروف کتاب گلستان ہمارے ہاں ابتدائی نصاب کاحصہ رہی ہے۔ اس کا باب پنجم اسی موضوع یعنی ''در عشق و جوانی'' پر مشتمل ہے۔ یہ تاثر قطعی درست نہیں کہ جنسی تعلیم پر مغرب اصرار کر رہا ہے۔ ہم اس معاملہ میں ان سے بہت اۤگے ہیں اور ہماری تہذیب کا کمال یہ ہے کہ ہم نے فقہ میں اس کو دین اور شیخ سعدی کے حوالے سے ادب و اخلاق بنا کر پیش کر دیا ہے۔ اس طرح سے اس کے اندر جو غلاظت تھی، وہ نکال کر باہر رکھ دی، اور ہمارا ہزار سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس اسلوب میں تعلیم دینے سے سوسائٹی پر کوئی برا اثر مرتب نہیں ہوتا۔
سوال: مولویوں کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ یہ زیادہ تر خشک مزاج ہوتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے۔ اۤپ ذاتی طور پر کون سی تفریح انجوائے کرتے ہیں؟
جواب: میں مولویوں سے زیادہ واقف نہیں ہوں، لیکن جن جلیل القدر علما کو میں نے دیکھا ہے، ان میں سے دو غیر معمولی شخصیات سے میرا بڑا قریبی تعلق رہا ہے، ایک مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، دوسرے مولانا امین احسن اصلاحی۔ میں نے ان دونوں سے زیادہ شگفتہ مزاج لوگ زندگی میں کم ہی دیکھے ہیں۔ یہ دونوں شخصیات اخلاقی پاکیزگی اور شگفتہ مزاجی کا عمدہ نمونہ تھیں۔ ان کی مجلس میں بیٹھ کر طبیعت کی افسردگی دور ہو جاتی تھی۔ عمدہ جملے، شستہ مذاق، لطیف باتیں ہر لمحے صادر ہو رہی ہوتی تھیں۔ دونوں کے اتنے لطائف مجھے یاد ہیں کہ اگر ان کوجمع کر لیا جائے تو ایک چھوٹی سی کتاب بن سکتی ہے۔
جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، ميں بچپن ميں ادب اور فلسفے کا طالب علم ہوں۔ ميری بچپن ميں بہتر ين تفريح اعلیٰ ادب کا مطالعہ تھی اور اب بھی جب تھکان محسوس کرتا ہوں تو تفریح کی غرض سے ادبی چیزوں کا مطالعہ کرتا ہوں، اس کے علاوہ مجھے کسی اور قسم کی تفریح سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جن ادبی تحریروں کا مطالعہ کرتا ہوں، ان میں شاعری بھی ہے، ڈرامہ، افسانہ اور ناول بھی۔ اس کے علاوہ میں مناظر فطر ت کو بھی انجوائے کرتا ہوں، میں ان میں گھنٹوں بسر کرسکتا ہوں۔ طبعاً مجھے اس کے علاوہ کسی اور چیز سے تفریح کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بیوی، بچوں کے ساتھ جو رشتہ ہے، وہ اتنے گونا گوں پہلووں سے اۤدمی کی شخصیت کے لیے تسکین کا باعث بنتا ہے کہ اسے محض لفظ تفریح سے ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے انسان کو جو سکون، اطمینان اور مسرت حاصل ہوتی ہے، وہ تفریح سے بہت بالاتر چیز ہے، اس لیے میں نے ان کا تفریح کے ساتھ ذکرنہيں کیا۔
سوال: ابھی تک ہم نے تفریح کے حوالے سے جتنی گفتگو کی، وہ زیادہ تر حدود کی تفریح سمجھی جاتی ہے۔ اۤج کی عورت اسلام کی روشنی میں کس طرح اور کون کون سی تفریح سے لطف اندوز ہو سکتی ہے؟
جواب: میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ تفریحات کا تعلق کسی بھی قوم کی تہذیب اور ثقافت سے ہے۔ ان میں جیسے جیسے تبدیلی اۤئے گی، خواتین کے بارے میں پرانے جاگیردارانہ سماج کی اقدار جیسے جیسے بدلیں گی، مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی تفریح کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ اسلام کی عائد کردہ پابندی نہیں، بلکہ جاگیردارانہ سماج کی عائد کردہ پابندی ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ شہروں کی حد تک اب ہماری خواتین ان تمام تفریحات میں شامل ہو رہی ہیں جو مرد انجوائے کر رہے ہیں۔ وہ سیرگاہوں میں جاتی ہیں، تھیٹر میں جاتی ہیں، سینما میں جاتی ہیں، ٹیلی ویژن مردوں سے زیادہ خواتین دیکھتی ہیں۔ دیہات کی زندگی کو میں نے بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ چند جاگیرداروں کی خواتین کے علاوہ عام دیہاتی خواتین بھی میلوں ٹھیلوں میں ایسے ہی شریک ہوتی ہیں، جیسے مر د شریک ہوتے ہیں۔ میرے ساتھ کسی دیہاتی میلے میں چلیے، وہاں جتنے مرد ہوں گے، اتنی ہی عورتیں بھی ہوں گی۔
سوال: مگر ہمارے ہاں متوسط طبقہ کی خواتین تو بری طرح سے جکڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں؟
جواب: جی ہاں، چونکہ ہمارا متوسط طبقہ جاگیردارانہ سماج کی اقدار کا پابند ہے، اس لیے وہ نہ سادہ دیہاتی زندگی اختیار کر سکا ہے اور نہ اوپر اٹھ کر امرا کی زندگی میں داخل ہو سکا ہے، اس لیے ساری گھٹن اسی کے ہاں ہے۔
سوال: غامدی صاحب، کیا اۤپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اۤپ نے اپنی خواتین کو تفریح کے لیے کون کون سے مواقع فراہم کر رکھے ہیں یا پھر وہ بھی متوسط طبقہ کی خواتین کے زمرے میں اۤتی ہیں؟
جواب: میری طرف سے ان پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، البتہ میں نے ہمیشہ ان کے شعور کو اپیل کرنے کی کوشش کی ہے، مکالمہ کی اۤزادانہ فضا میں، میں نے اپنے نظریات ان کے سامنے رکھے ہیں۔ وہ پارک میں سیر کے لیے جاتی ہیں۔ عزیز و اقارب کے ہاں تقریبات میں بھی پوری دلچسپی کے ساتھ جاتی ہیں، البتہ میری بیگم صاحبہ کو طبعاً تفریحات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ دینی جذبات میں مجھ سے کہیں بڑھ کر ہیں، اس لیے وہ خود جو فیصلہ کرنا چاہتی ہیں، کر لیتی ہیں۔ میرے بچوں کی دینی تربیت میں مجھ سے کہیں زیادہ دخل میری اہلیہ کا ہے، وہ تو اخلاقی پاکیزگی اور تقویٰ کے معاملات میں اپنے پورے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہیں اور یہ چیزیں انھوں نے شعوری طور پر اختیار کی ہیں، کسی جبر کے طور پر نہیں۔
سوال: اۤج ملک کی اکثریت کے ذرائع اۤمدن بہت محدود ہیں۔ وہ اپنی محدود اۤمدنی میں کیسے تفریح کر سکتے ہیں۔ کیا انھیں تفریح کے لیے اگلے جہان کا انتظار کرنا ہو گا یا پھر ....؟
جواب: جتنی تفریحات اخلاقی پاکیزگی کے ساتھ انجوائے کی جا سکتی ہیں، ان پر کوئی زیادہ خرچ نہیں اۤتا۔ میں نے يہ دیکھا ہے کہ ہمارے معاشرے کے غربا ان معاملات میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ میلوں ٹھیلوں میں، شادی بیاہ کی تقریبات میں، دیہات کی تفریحی مجالس میں وہ پورے شوق سے شرکت کرتے ہیں، اور یہ بات میں ایک دیہاتی پس منظر کا اۤدمی ہونے کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ میں نے تو ریلوے لائن کے ساتھ بنے ہوئے کچے مکانوں میں لاتعداد رنگین ٹیلی ویژن دیکھے ہیں، میرا خیال ہے کہ تفریح میں معاشی حالات رکاوٹ نہیں بن رہے۔ لوگ ایک وقت کا فاقہ کر لیتے ہیں، مگر تفریح کو قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
سوال: مگر ایک شخص جس کی اۤمدنی انتہائی قلیل اور ذمہ داریاں انتہائی طویل ہیں، اسے کہاں فرصت ملے گی کہ وہ تفریح کر سکے۔ اس کے پاس نہ پیسہ ہے نہ وقت، جبکہ ذمہ داریوں کا ایک پہاڑ ہر وقت سامنے کھڑا دکھائی دیتا ہے؟
جواب: ایسا شخص بھی قرض اٹھا کر ٹیلی ویژن لے اۤئے گا۔ میرے حلقہء احباب میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جن کی اۤمدنی انتہائی قلیل ہے۔ ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں، مگر اس کے باوجود انھوں نے ٹیلی ویژن ضرور رکھا ہوا ہے اور چھوٹی موٹی تفریح کو انجوائے بھی ضرور کرتے ہیں۔
سوال: گپ شپ اور لطیفہ بازی كس حد تك تفريح میں شمار كيے جاتے ہیں؟
گپ شپ اور لطیفہ بازی قدیم زمانے سے تفریح حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں لوگ چوپالوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے کو داستانیں سناتے تھے، لطیفے سناتے تھے۔ البتہ ان میں اخلاقی پاکیزگی کا شعور ضرور برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح اۤپ کہتے ہیں کہ سگریٹ مضر صحت ہے، اسی طرح جو چیزیں انسان کی اخلاقی پاکیزگی کو مجروح کرتی ہیں، ان کے بارے میں انسان کو بیدار کرنا ہی مذہب کا مقصود ہے۔
سوال: تفریح کے حوالے سے کوئی ایسی اہم بات جو اۤپ کہنا چاہتے ہوں، مگر سوالات میں اس کا ذکر نہ اۤسکا؟
جواب: میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے میں لوگوں کو سب سے اہم بات یہ بتانے کی ہے کہ اسلام.... . تفریح کی جتنی بھی چيزیں ہیں.....ان کو ریاست اور قانون کا موضوع نہیں بناتا یعنی بالجبر نہیں ٹھونستا، بلکہ وہ فضا پیدا کرتا ہے جس میں پاکیزگی نشوونما پائے اور اخلاقی اۤلودگی سے لوگ نفرت کریں۔ اس کا بنیادی ذریعہ دعوت ہے، رائے عامہ کی تبدیلی ہے۔ اخلاقی اقدا کا شعور ہے۔ اسلام اسی کو ابھارنا چاہتا ہے۔ وہ اس معاملے میں کسی جبر کا قائل نہیں ہے۔
منگل ١٧ شوال ١٤٢٠ھ/٢٥ جنوری ٢٠٠٠
ـــــــــــــ
واپس
|