| تازہ ترین تحریریں
جاويد احمد غامدى
حج و عمرہ
وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ، یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ وَیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰی مَا رَزَقَھُمْ مِّنْ بَھِیْمَۃِ الْاَنْعَامِ. فَکُلُوْا مِنْھَا وََاَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ، ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَھُمْ وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَھُمْ وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ.(الحج٢٢: ٢٧-٢٩)
''اور لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمھارے پاس پیدل بھی آئیں گے اور اُن اونٹنیوں پر سوار ہو کر بھی جو سفر کی وجہ سے دبلی ہوگئی ہوں، وہ دور دراز کے گہرے پہاڑی راستوں سے چلتی ہوئی پہنچیں گی۔ اِس لیے (آئیں گے) کہ اپنے لیے منفعت کی جگہوں پر پہنچیں اور چند متعین دنوں میں اپنے اُن چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے اُن کو بخشے ہیں۔ (تم اُن کو ذبح کرو) تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست فقیروں کو بھی کھلاؤ۔ پھر چاہیے کہ یہ لوگ اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اوراِس قدیم گھر کا طواف کریں۔''
یہ صدا ہے جو صدیوں پہلے بلند ہوئی اور جس کے جواب میں 'لبیک لبیک' کہتے ہوئے ہم ام القریٰ مکہ میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بنائی ہوئی اُس مسجد کے لیے عزم سفر کرتے ہیں جسے بیت الحرام کہا جاتا ہے۔ یہ وہی بیت عتیق ہے جو امام فراہی کے الفاظ میں اِس وادی بطحا میں خدا کا پہلا گھر تھا اور جس کے حق میں ازل سے طے کر دیا گیا تھا کہ توحید سے انحراف کرنے والوں کو دور پھینکتا رہے۔ چنانچہ اِس کے باشندوں نے جب بت پرستی اختیار کرلی اور اِس کے جوار سے منتشر ہوئے تو پرستش کی غرض سے اِس معبد کے پتھر بھی ساتھ لیتے گئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام بابل سے ہجرت کے بعد اِس کو تلاش کرتے ہوئے یہاں پہنچے تو اِس کی پرانی تعمیر کا صرف ایک چمکتا ہوا پتھر باقی رہ گیا تھا۔ اسمٰعیل کی قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُنھیں حکم دیا کہ اِس معبد کو دوبارہ تعمیر کریں۔ چنانچہ باپ بیٹے، دونوں نے مل کر اِسی یادگار پتھر کے نیچے زمین کھودنا شروع کی۔ پرانی بنیادیں کچھ تگ و دو کے بعد نکل آئیں تو اُنھیں بلند کیا اور اِس پتھر کو عمارت کے ایک گوشے میں نصب کر دیا۔ اسمٰعیل اِسی گھر کی نذر کیے گئے تھے، لہٰذا وہ اِس کے خادم مقرر ہوئے اور اللہ کے حکم سے یہ صدا بلند کردی گئی کہ لوگ اب خداوند کی نذر چڑھانے کے لیے آئیں اور یہاں آکر توحید پر ایمان کا جو عہد اُنھوں نے باندھ رکھا ہے، اُسے تازہ کریں۔ اصطلاح میں اِس عمل کا نام حج و عمرہ ہے۔ یہ دونوں عبادات دین ابراہیمی میں عبادت کا منتہاے کمال ہیں۔ اپنے معبود کے لیے جذبہء پرستش کا یہ آخری درجہ ہے کہ اُس کے طلب کرنے پر بندہ اپنا جان و مال، سب اُس کے حضور میں نذر کر دینے کے لیے حاضر ہوجائے۔ حج و عمرہ اِسی نذر کی تمثیل ہیں۔ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کو ممثل کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عمرہ اجمال ہے اور حج اِس لحاظ سے اُس کی تفصیل کر دیتا ہے کہ اِس میں وہ مقصد بھی بالکل نمایاں ہو کر سامنے آجاتا ہے جس کے لیے جان و مال نذر کر دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ آدم کی تخلیق سے اُس کی جو اسکیم دنیا میں برپا ہوئی ہے، ابلیس نے پہلے دن ہی سے اُس کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے: 'قَالَ: فَبِمَآ اَغْوَیْْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمْ مِّنْ بَیْْنِ اَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ، وَعَنْ اَیْْمَانِہِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِہِمْ، وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ' 1 (بولا: اچھا تو چونکہ تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے، اِس لیے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اُن کی گھات لگا کر بیٹھوں گا، پھر آگے اور پیچھے، اور دائیں اور بائیں سے اُن پر تاخت کروں گا اور تو اُن میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا)۔ قرآن کا بیان ہے کہ ابلیس کا یہ چیلنج قبول کر لیا گیا ہے اور اللہ کے بندے اب قیامت تک کے لیے اپنے اِس ازلی دشمن اور اِس کی ذریت کے ساتھ برسر جنگ ہیں۔ 2 یہی اِس دنیا کی آزمایش ہے جس میں کامیابی اور ناکامی پر ہمارے ابدی مستقبل کا انحصار ہے۔ اپنا جان و مال ہم اِسی جنگ کے لیے اللہ کی نذر کرتے ہیں۔ انبیا علیہم السلام نے 'یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، کُوْنُوْا اَنصَارَ اللّٰہِ' 3 کی صدا تاریخ میں بارہا اِسی مقصد سے بلند کی ہے۔ ابلیس کے خلاف اِس جنگ کو حج میں ممثل کیا گیا ہے۔ یہ تمثیل اِس طرح ہے:
اللہ کے بندے اپنے پروردگار کی ندا پر دنیا کے مال و متاع اور اُس کی لذتوں اور مصروفیتوں سے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔
پھر 'لبیک لبیک' کہتے ہوئے میدان جنگ میں پہنچتے اور بالکل مجاہدین کے طریقے پر ایک وادی میں ڈیرے ڈال دیتے ہیں۔
اگلے دن ایک کھلے میدان میں پہنچ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے، اِس جنگ میں کامیابی کے لیے دعا و مناجات کرتے اور اپنے امام کا خطبہ سنتے ہیں۔
تمثیل کے تقاضے سے نمازیں قصر اور جمع کرکے پڑھتے اور راستے میں مختصر پڑاؤ کرتے ہوئے دوبارہ اپنے ڈیروں پر پہنچ جاتے ہیں۔
پھر شیطان پر سنگ باری کرتے، اپنے جانوروں کی قربانی پیش کرکے اپنے آپ کو خداوند کی نذر کرتے، سر منڈاتے اور نذر کے پھیروں کے لیے اصل معبد اور قربان گاہ میں حاضر ہو جاتے ہیں۔
پھر وہاں سے لوٹتے اور اگلے دو یا تین دن اِسی طرح شیطان پر سنگ باری کرتے رہتے ہیں۔
اس لحاظ سے دیکھیے تو حج و عمرہ میں احرام اِس بات کی علامت ہے کہ بندہء مومن نے دنیا کی لذتوں، مصروفیتوں اور مرغوبات سے ہاتھ اٹھا لیا ہے اور دو اِن سلی چادروں سے اپنا بدن ڈھانپ کر وہ برہنہ سر اور کسی حد تک برہنہ پا بالکل راہبوں کی صورت بنائے ہوئے اپنے پروردگار کے حضور میں پہنچنے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوا ہے۔
تلبیہ اُس صدا کا جواب ہے جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت الحرام کی تعمیر نو کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پتھر پر کھڑے ہوکر بلند کی تھی۔ 4 اب یہ صدا دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچ چکی ہے اور اللہ کے بندے اُس کی نعمتوں کا اعتراف اور اُس کی توحید کا اقرار کرتے ہوئے اِس صدا کے جواب میں 'لبیک، اللّٰہم لبیک' کا یہ دل نواز ترانہ پڑھتے ہیں۔
طواف نذر کے پھیرے ہیں۔ دین ابراہیمی میں یہ روایت قدیم سے چلی آ رہی ہے کہ جس کی قربانی کی جائے یا جس کو معبد کی خدمت کے لیے نذر کیا جائے، اُسے معبد یا قربان گاہ کے سامنے پھرایا جائے۔ تو رات کے مترجموں نے اِسی بات کو جگہ جگہ ہلانے کی قربانی اور خداوند کے آگے گزراننے سے تعبیر کیا ہے۔ مثال کے طور پر گنتی میں ہے:
''اور تو لاویوں کو خداوند کے آگے لا اور بنی اسرائیل اپنے ہاتھ اُن پر رکھیں۔ اور ہارون لاویوں کو بنی اسرائیل کی طرف سے ہلانے کی قربانی کی طرح خداوند کے آگے گزرانے، تب وہ خداوند کی خدمت کے لیے مخصوص ہوں گے۔ تب لاوی اپنے ہاتھ دونوں بیلوں کے سروں پر رکھیں۔ تب تو اُن میں سے ایک کو خطا کی قربانی کے لیے اور دوسرے کو خداوند کی سوختنی قربانی کے لیے لاویوں کے کفارے کے لیے گزران۔ اور تو لاویوں کو ہارون اور اُس کے بیٹوں کے سامنے کھڑا کر اور خداوند کی ہلانے کی قربانی کی طرح اُن کو گزران، کیونکہ وہ بنی اسرائیل کے درمیان سے مجھے نذر کر دیے گئے ہیں۔ میں نے بنی اسرائیل کے سب پہلوٹوں کے بدلے جو رحم کے کھولنے والے ہوں، اُن کو اپنے لیے لیا ہے۔''(٨: ١٠-١٦)
بائیبل کے عربی ترجمے میں اِس کے ليے 'ترددھم للرب' یا 'امام الرب' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے جس سے یہ مفہوم بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
حجر اسود کا استلام تجدید عہد کی علامت ہے۔ اِس میں بندہ اُس پتھر کو تمثیلاً اپنے پروردگار کا ہاتھ قرار دے کر اُس ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا اور عہدومیثاق کی قدیم روایت کے مطابق اُس کو چوم کر اپنے اِس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اسلام قبول کرکے وہ جنت کے عوض اپنا جان و مال، سب اللہ تعالیٰ کے سپرد کرچکا ہے۔
سعی اسمٰعیل علیہ السلام کی قربان گاہ کا طواف ہے۔ سیدنا ابراہیم نے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہوکر اِس قربان گاہ کو دیکھا تھا اور پھر حکم کی تعمیل کے لیے ذرا تیزی کے ساتھ چلتے ہوئے مروہ کی طرف گئے تھے۔ بائیبل میں یہ واقعہ اِس طرح بیان ہوا ہے:
''تیسرے دن ابراہیم نے نگاہ کی اور اُس جگہ کو دور سے دیکھا۔ تب ابراہیم نے اپنے جوانوں سے کہا: تم یہیں گدھے کے پاس ٹھیرو۔ میں اور یہ لڑکا، دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کرکے پھر تمھارے پاس لوٹ آئیں گے۔'' (پیدایش ٢٢: ٤-٥)
چنانچہ صفا و مروہ کا یہ طواف بھی نذر کے پھیرے ہی ہیں جو پہلے معبد کے سامنے اور اُس کے بعد قربانی کی جگہ پر لگائے جاتے ہیں۔ تورات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ جس طرح قربانی سے پہلے لگائے جاتے تھے، اِسی طرح قربانی کے بعد بھی اُس کا کوئی حصہ ہاتھ میں لے کر لگائے جاتے تھے۔ خروج میں ہے:
''اور تو ہارون کے تخصیصی مینڈھے کا سینہ لے کر اُس کو خداوند کے روبرو ہلانا تاکہ وہ ہلانے کا ہدیہ ہو۔ یہ تیرا حصہ ٹھیرے گا۔''(٢٩: ٢٦)
عرفات معبد کا قائم مقام ہے، جہاں شیطان کے خلاف اس جنگ کے مجاہدین جمع ہوتے، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور اِس جنگ میں کامیابی کے لیے دعا و مناجات کرتے ہیں۔
مزدلفہ راستے کا پڑاؤ ہے، جہاں وہ رات گزارتے اور صبح اٹھ کر میدان میں اترنے سے پہلے ایک مرتبہ پھر دعا و مناجات کرتے ہیں۔
رمی ابلیس پر لعنت اور اُس کے خلاف جنگ کی علامت ہے۔ یہ عمل اِس عزم کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ بندہء مومن ابلیس کی پسپائی سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوگا۔ یہ معلوم ہے کہ انسان کا یہ ازلی دشمن جب وسوسہ انگیزی کرتا ہے تو اِس کے بعد خاموش نہیں ہو جاتا، بلکہ یہ سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ تاہم مزاحمت کی جائے تو اِس کی تاخت بتدریج کمزور ہوجاتی ہے۔ تین دن کی رمی اور اِس کے لیے پہلے بڑے اور اِس کے بعد چھوٹے جمرات کی رمی سے اِسی بات کو ظاہر کیا گیا ہے۔
قربانی جان کا فدیہ ہے اور سر کے بال مونڈنا اِس بات کی علامت ہے کہ نذر پیش کردی گئی ہے اور اب بندہ اپنے خداوند کی اطاعت اور دائمی غلامی کی اِس علامت کے ساتھ اپنے گھر لوٹ سکتا ہے۔ یہ دین ابراہیمی کی ایک قدیم روایت ہے۔ چنانچہ تورات میں یہ قانون بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نذر کیا جائے، وہ اپنے سر کے بال اُس وقت تک نہ منڈوائے، جب تک نذر کے دن پورے نہ ہو جائیں۔ گنتی میں ہے:
''اور اُس کی نذارت کی منت کے دنوں میں اُس کے سر پر استرہ نہ پھیرا جائے، جب تک وہ مدت جس کے لیے وہ خداوند کا نذیر بنا ہے، پوری نہ ہو تب تک وہ مقدس رہے اور اپنے سر کے بالوں کی لٹوں کو بڑھنے دے۔''(٦: ٥)
''اور نذیر کے لیے شرع یہ ہے کہ جب اُس کی نذارت کے دن پورے ہوجائیں تو وہ خیمہء اجتماع کے دروازے پر حاضر کیا جائے ... پھر وہ نذیرخیمہء اجتماع کے دروازے پر اپنی نذارت کے بال منڈوائے۔''(٦: ١٣، ١٨)
اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کس قدر غیر معمولی عبادت ہے جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں کم سے کم ایک مرتبہ فرض قرار دی گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ایمان اور جہاد کے بعد اِسی کی فضیلت بیان کی ہے۔ 5 نیز فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر اُس میں کوئی شہوت یا نافرمانی کی بات نہ کرے تو وہ حج سے اِس طرح لوٹتا ہے، جس طرح اُس کی ماں نے اُسے آج جنا ہے۔ 6اِسی طرح آپ کا ارشاد ہے: عمرے کے بعدعمرہ اِن کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ ہے اور سچے حج کا بدلہ تو صرف جنت ہی ہے۔ 7
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 - الاعراف ٧: ١٦- ١٧۔
2 - الاعراف ٧ : ١٣ - ١٤۔
3 - الصف٦١: ١٤۔ ''ایمان والو، اللہ کے مددگار بنو۔''
4 - تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر٣/٢١٦۔
5 - بخاری، رقم ٢٦۔ مسلم، رقم٢٤٨۔
6 - بخاری، رقم ١٨١٩۔ مسلم، رقم ٣٢٩١۔
7 - بخاری، رقم ١٧٧٣۔ مسلم، رقم ٣٢٨٩۔
ـــــــــــــــــــــــــ
اس فارمیٹ میں اس سے زیادہ مضمون کی گنجایش نہیں ہے ، جس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں ۔ آپ سے التماس ہے کہ مضمون کے بقیہ حصے کے لیے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیجیے
واپس
|