HOME PAGE
 
 

تازہ ترین تحریریں

خورشید ندیم

لال مسجد اور جنرل مشرف صاحب کا خطاب

[ لال مسجد کے سانحے پر ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ظلم و بربریت کے اس مظاہرے میں کس کا کتنا کردار ہے، اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا، لیکن جو کچھ سامنے آیا ہے، اس کی بنا پر ان لوگوں کی رائے زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتی ہے جو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہیں ــــ اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس قوم کو ایسے حادثوں سے آیندہ محفوظ رکھے۔ آمین۔
یہ جناب خورشید ندیم کے کا شذرہ ہے جو انھوں نے اس حادثے کے موقع پر تحریر کیا تھا۔ اس میں انھوں نے اپنے زاویے سے اس حادثے پر تبصرہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بارے میں ان کی کسی رائے یا کسی تجزیے سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اس کے پس منظر اور پیش منظر کے حوالے سے جو سوالات انھوں نے اٹھائے ہیں، وہ ہم سب کے لیے قابل غور ہیں۔ مدیر]

    ١٠ جولائی کی شام کچھ اس طرح اتری کہ رنج و الم کے سایے اس کی تاریکی میں اضافہ کر گئے۔ میری زندگی میں ایسے لمحات بہت کم آئے ہیں، جب غم اور غصہ یوں باہم مل گئے ہوں۔ غم کے اسباب تو واضح تھے تاہم اس کا تعین مشکل تھا کہ اس غصے کا مخاطب کون ہے۔ کوئی ایک یا وہ سب جنھوں نے اپنے نظریات، خیالات، طرز عمل، بے حسی یا پھر نا اہلی سے معصوم بچوں اور دین سے محبت رکھنے والوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ دو دن بعد جب میں نے ٹیلی وژن پر عبدالرشید غازی کو موت کی آغوش میں سوتے دیکھا تو یہ منظر اداسی میں اور اضافہ کر گیا۔ لال مسجد کے تناظر میں جنم لینے والے یہ مناظر، مدتوں اس قوم کی یادداشت سے محو نہ ہوسکیں گے۔ غم اور غصے کا یہ تاثر برسوں ان کا پیچھا کرے گا۔
اس حادثے کے بعد جنرل پرویز مشرف صاحب نے اپنے خطاب میں ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دی ہے۔ جب وہ تقریر فرما رہے تھے تو گمان یہی ہے کہ انھوں نے ''ہم سب'' میں خود کو شامل کیا ہو گا، لیکن ان کے خطاب میں اس کی کوئی شہادت موجود نہیں تھی۔ البتہ، دوسروں کے گریبان میں جھانکنے کے بے شمار شواہد ضرور موجود تھے۔ یہی آج اس قوم کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ہر ریاستی ادارہ، حکومت، علما و مذہبی سیاست دان اور قومی رہنما سب دوسروں کا احتساب کر رہے ہیں اور''ہم سب'' سے خود کو مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔
آج خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ریاستی ادارہ اور حکومت اس سوال پر غور کرے کہ اس حادثے کے وقوع پذیر ہونے میں اس کا کیا کردار تھا۔ جو ادارہ آج اللہ کے گھر کو اسلحے سے ''پاک'' کر کے مشرف صاحب کی تحسین کا مستحق بنا ہے، اس پر یہ سوال ابھی تک قرض ہے کہ اللہ کے اس گھر کو اسلحے سے ''ناپاک'' کس نے کیا تھا؟ ١٨٦٥ء میں دار العلوم دیوبند کی بنیاد رکھنے سے لے کر ١٩٧٩ء کے افغان جہاد تک، کوئی ایک واقعہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی دینی مدرسہ بحیثیت ادارہ کسی عسکری سرگرمی میں ملوث ہوا ہو۔ آخر اچانک وہ کیا تبدیلی آئی جس نے سو سالہ تاریخ کو پلک جھپکنے میں بدل دیا؟ ان بوریا نشینوں کے پاس راتوں رات دنیاوی وسائل اور اسلحہ کہاں سے آیا؟ آج مدرسہ کلچر میں جو غیر معمولی تبدیلی آئی ہے، ریاستی ادارے کہاں تک اس کے ذمہ دار ہیں؟ اسی طرح اس سوال کا جواب بھی ابھی تک نہیں مل سکا کہ وہ غیر ملکی دہشت گرد کہاں ہیں، جو اس مدرسے میں پناہ گزین تھے؟ طارق عظیم صاحب اور عبدالرشید غازی صاحب کے مابین گفتگو کی جو ٹیپ حکومت نے جاری کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات پر اتفاق تھا۔ اس کے باوجود قتل عام کو کیوں ناگزیر سمجھا گیا؟
آج خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ علماے کرام اور دینی مدارس کے ذمہ داران اس پر غور کریں کہ جن لوگوں نے مدرسے کی سو سالہ تاریخ سے انحراف کیا، ان کے ساتھ انھیں کیا معاملہ کرنا چاہیے؟ مدرسے کے قیام کا بنیادی مقصد دینی روایت کی حفاظت اور ایک مسلمان معاشرے کی مذہبی ضروریات کی تکمیل ہے، جس میں دینی تعلیم کی ضرورت بھی شامل ہے۔ مدرسے نے اس ذمہ داری کو کہاں تک نبھایا؟ لال مسجد میں موجود اسلحے کے بارے میں حکومتی دعووں کی تکذیب کے باوجود، اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ عبدالرشید غازی صاحب اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلح تھے اور انھوں نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کیا۔ جس نے ہتھیار اٹھائے ہی نہ ہوں، اس کی طرف سے پھینکنے سے انکار ایک بے معنی بات ہے۔ یہ طرز عمل کسی مدرسے کے ایک ذمہ دار کے کس حد تک شایان شان ہے اور آج اس صورت حال کو کیسے تبدیل کیا جائے کہ دینی مدارس ہمیشہ کی طرح اپنا اصل کردار ادا کرتے رہیں؟
آج خود احتسابی کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ اس سوال پر غور کرے کہ وہ دینی مدارس کو جو وسائل فراہم کر رہا ہے، کیا وہ انھی مقاصد کے لیے صرف ہوتے ہیں، جن کے لیے وہ ایثار کرتا ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ ان مدارس کے زیادہ تر وسائل اس معاشرے سے جمع ہوتے ہیں۔ معاشرہ یہ خیال کرتا ہے کہ لوگوں کو دینی تعلیم دی جانی چاہیے اور یہاں ایسے ادارے موجود ہوں جو اس کی مذہبی ضروریات کی تکمیل کریں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے سماج میں کوئی ایک فرد ایسا نہیں ہو گا جو ان مدارس کی اس لیے معاونت کرتا ہو کہ وہ برائی کو ہاتھ سے مٹانے کے لیے نکلیں یا ملک میں اسلام کے سیاسی غلبے کی جدوجہد کریں۔ کیا معاشرہ اس بارے میں سوچنے کے لیے تیار ہے کہ وہ انھی مدارس کی مدد کرے جو اپنا اصل فریضہ سر انجام دے رہے ہیں اور ان مدارس سے تعاون نہ کرے جو اس فریضے سے انحراف کر رہے ہیں؟ سماج کو اس سوال پر بھی غور کرنا ہو گا کہ آج کس طرح کی دینی تعلیم اس کی ضرورت ہے۔
آج حکومت اور ریاستی اداروں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اس حادثے کی تمام تر ذمہ داری غازی برادران اور اہل مدرسہ پر ڈال رہے ہیں۔ وہ تمام سوالات جن کا میں نے ذکر کیا اور جو آج قومی میڈیا میں تواتر اور شدت کے ساتھ اٹھائے جا رہے ہیں، حکومتی ایوانوں میں ان کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جنرل پرویز مشرف صاحب کا قوم سے خطاب اس کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ اس بارے میں حکومتی تکبر کا یہ عالم ہے کہ وہ کسی مطالبے کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں۔ ١٢ مئی کو جب کراچی میں قتل عام ہوا اور تمام سول سوسائٹی نے اس کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تو مشرف صاحب نے حقارت کے ساتھ بیک جنبش قلم اسے مسترد کر دیا۔ اب ایک بار پھر یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ لال مسجد کے حادثے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے بھی ایک عدالتی کمیشن بنایا جائے۔ تا دم تحریر حکومت خاموش ہے اور امکان یہی ہے کہ اس مطالبے کا انجام بھی پہلے مطالبے کی طرح ہو گا، یعنی

یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا

علما اور دینی مدارس کے منتظمین بھی حکومت ہی کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں اور اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ میرے علم کی حد تک علما اور وفاق المدارس کا کوئی ایک اجلاس ایسا نہیں ہوا جو اس پر غور کرتا کہ اس حادثے نے دینی مدارس کے مستقبل پر کیا اثرات ڈالے ہیں اور ان اداروں کو خالصتاً مذہبی تعلیم کے ادارے بنانے کے لیے کیا اقدام کیے جائیں۔ اسی طرح مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا کیسے سدباب ہو سکتا ہے۔ علما اور دینی مدارس کے منتظمین نے یہ موقف اختیار کیا کہ لال مسجد والوں کے مطالبات درست ہیں، لیکن طریقہء کار غلط ہے۔ میں اس نقطہء نظر کو کبھی سمجھ نہیں سکا۔ کوئی فرد یا گروہ جب اپنی حدود سے تجاوز کر کے کوئی مطالبہ کرتا ہے، تو وہ درست کیسے ہو سکتا ہے؟ دینی مدارس کا کام دینی تعلیم کا فروغ اور اس کی روایت کا علمی دفاع ہے۔ اسلام کا سیاسی غلبہ یا نفاذ اسلام، ان کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ اگر دینی مدرسے سے متعلق کوئی آدمی سمجھتا ہے کہ اس وقت یہ کام ضروری ہے تو اسے مدرسہ چھوڑ کر کوئی سیاسی جماعت بنانی چاہیے یا پہلے سے موجود کسی سیاسی جماعت میں شامل ہو جانا چاہیے۔ مدرسے کا فورم اس کام کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کل قائداعظم یونیورسٹی یا پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کا کوئی گروہ اٹھے اور یہ مطالبہ شروع کر دے کہ پاکستان کو ایک سیکولر ریاست ہونا چاہیے۔ یا وہ طلبا کا ایک جتھا منظم کرے اور کسی مدرسے یا دینی دعوت کے ادارے پر پل پڑے جو اس کے خیال میں ملک کے سیکولر تشخص کو مجروح کر رہا ہے۔ اگر کوئی ایسا پروفیسر ہو گا تو ہم اس سے بھی یہی کہیں گے کہ یہ تمھارا منصب نہیں ہے۔ تمھیں اگر اس کام سے دل چسپی ہے تو درس و تدریس کو خیر باد کہو اور کوئی سیاسی جماعت بناؤ یا پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جاؤ۔ دنیا میں ہر کام کے آداب اور حدود ہوتے ہیں۔ ان سے تجاوز ہی کسی موقف کے غلط ہونے کے لیے کافی ہے۔ نفاذ اسلام کا مطالبہ قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں۔ وہ اسی کام کے لیے بننے والی جماعتوں میں شامل ہیں اور ان کے اس حق سے کسی کو اصولی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ماضی میں جب شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے ملت کے سیاسی وجود کے لیے کام کرنا چاہا تو جمعیت علماے ہند کے فورم کو استعمال کیا، دار العلوم دیوبند کو اس کا مرکز نہیں بنایا۔ آج مسئلہ یہ نہیں ہے کہ نفاذ اسلام کا مطالبہ غلط ہے یا صحیح ہے، مسئلہ یہ ہے کہ جو یہ مطالبہ کر رہا ہے، کیا ملکی قانون، سماجی اخلاقیات اور شریعت نے اسے یہ حق دیا ہے؟
سول سوسائٹی بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابہام کا شکار ہے۔ کوئی حکومت کا حامی ہے اور کوئی لال مسجد والوں کا۔ آج اس کا اصل کام یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے دینی مدارس کس حد تک وہ ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، جن کے لیے وہ وجود میں آئے ہیں اور کیا سماجی سطح پر کوئی ایسا طریقہء کار وضع کیا جا سکتا ہے، جس سے معاشرہ ان کی نگرانی کی ذمہ داری ادا کرے تاکہ وہ اپنے مینڈیٹ سے انحراف نہ کریں۔ اسی طرح آج معاشرے کو جس دینی تعلیم کی ضرورت ہے، اس کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔
جنرل مشرف صاحب نے اگر آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کا مشورہ دیا ہے تو ہم سب کو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے، لیکن اس پر عمل کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے خود اپنی مثال پیش کریں اور اس کا آغاز اس ادارے کے احتساب سے کریں جس کے وہ اس وقت آئینی سربراہ ہیں اور جس نے انھیں وردی پہنا رکھی ہے۔

__________

واپس

 

Copyright © Ghamidi.org All rights reserved.