HOME PAGE
 
 

منظورالحسن

توہين آميز خاکوں کي اشاعت

جاوید احمد غامدی کا نقطہء نظر

مغربی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت بدتہذیبی کی آخری انتہا ہے۔ یہ جسارت اس ہستی کے بارے میں کی گئی ہے: '' جسے خود عالم کے پروردگار نے رحمۃ للعلمین قرار دیا،جس کی پوشاک اور جس کی ران پر ابن مریم نے دیکھا کہ اس کا ایک نام لکھا ہوا ہے: خداوندوں کا خداوند اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے؛ وہ جو قیامت تک کے لیے سرور عالم ہے؛ جس کا قلم رو زمین کے سارے کناروں تک پھیلا ہوا ہے؛ جسے جوامع الکلم عطا ہوئے؛ جس کے لیے ساری دنیا مسجد بنا دی گئی؛ جس کی ہیبت سے کفر لرزہ براندام ہوا؛ جسے میزان عطا ہوئی اور اس کے ساتھ لوہا بھی کہ وہ اس کے ذریعے سے لوگوں پر خدا کی حجت ہر لحاظ سے پوری کر دے؛ جس پر نبوت ختم ہوئی؛ قرآن نازل ہوا اور جس کے بارے میں یہ فیصلہ لوح گیتی پر ثبت کر دیاگیا کہ صبح نشور تک اب خدا کی غیر متبدل ہدایت اس کی لائی ہوئی کتاب کے سوا کسی اور جگہ سے نہیں مل سکتی۔'' ــــــــــ جو دنیا کے ایک ارب سے زیادہ انسانوں کا ہادی اور پیشوا ہے، جسے وہ اپنے باپ سے بڑھ کر اہمیت دیتے ہیں، بلکہ باپ کیا چیز ہے، اس کا ذکر آئے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ 'بابی انت و امی' ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ ان کا ایمان ہے کہ وہ اگراس ہستی کو اپنے والدین، اپنی اولاد اور اپنے مال و جان سے بڑھ کر عزیز نہ سمجھیں تو ان کا ایمان ہی قائم نہیں رہتا۔ ان کی گردنیں اس کے نام پر جھک جاتی ہیں اور محض جھکتی ہی نہیں، کٹنے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں۔جس ہستی کا یہ مقام و مرتبہ ہے اور جس کے ساتھ لوگوں کے احترام کا یہ عالم ہے، اس کے بارے میں بدتہذیبی کا اظہار ایک جرم عظیم ہے۔ انسانیت کا مجموعی اخلاق اسے کسی صورت میں گوارا نہیں کر سکتا۔ ہم مسلمان ایسے اقدام کو اپنے دین کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اہل مغرب کو شاید یہ اندازہ نہیں ہے کہ انھوں نے بہت غلط میدان کا انتخاب کیا ہے۔ وہ اگر کوئی اور میدان منتخب کرتے تو شاید ہمیں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو جاتے، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں پوری امت جسد واحد کی حیثیت رکھتی ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق، محبت اور آپ کی حرمت کے احساس میں اس کے اندرنہ کوئی رخنہ ہے، نہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ ــــــــــــــــ عالمی افق پر یہ ایک نہایت حساس واقعہ ہے۔ چنانچہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے بہت سوچ سمجھ کر اور نہایت ذمہ داری کے ساتھ ہمیں اپنا لائحہء عمل ترتیب دینا چاہیے۔ ہمارے نزدیک اس ضمن میں چار اقدامات ناگزیر ہیں:ں
پہلا اقدام یہ ہے کہ ہم دنیا کو اور بالخصوص اہل مغرب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت سے آگاہ کریں۔ علما، صحافی، دانش ور، تجزیہ نگار قلم اٹھائیں اور نہایت دردمندی کے ساتھ دنیا کو یہ بتائیں کہ ہم اپنے پیغمبر سے غیر معمولی طور پرجذباتی تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارے لیے وہ افراد میں سے ایک فرد اور رہنماؤں میں سے ایک رہنما نہیں ہے، بلکہ پوری انسانیت میں تنہا وہی ہے جو ہمارے لیے ہدایت اور رہنمائی کا مرجع ہے۔ آدم و نوح، ابراہیم و موسیٰ، یوحنا و مسیح اور دیگر انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے لیے بھی ہمارے دلوں میں اسی جیسا احترام ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم انھیں بھی اسی کی تصدیق سے پہچانتے ہیں۔ ابوبکروعمر، عثمان وعلی، بلال وابوذر، معاویہ و حسین، خالد و طارق، ابو حنیفہ وشافعی، بخاری ومسلم، غزالی وابن تیمیہ اور سعدی واقبال اگر ہمارے ہیرو ہیں تواصل میں اسی کے تعلق اور اسی کی نسبت سے ہیں۔ ہم جسے دین کہتے ہیں، وہ اصل میں اسی کے قول و فعل اور تقریروتصویب کا نام ہے۔ چنانچہ ہمارے دلوں میں اس کا جو مقام و مرتبہ ہے، اس کے لیے اگر کوئی تعبیر ہو سکتی ہے تو بس یہی ہو سکتی ہے کہ ـــــ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر۔
ہم انھیں اس بات سے آگاہ کریں کہ ہمارا یہ تعلق محض عقیدت کی بنا پر نہیں، بلکہ خود دین کا تقاضا ہے۔ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر اس ہستی کے سامنے آواز بھی بلند ہو گئی تو اندیشہ ہے کہ اعمال ہی حبط ہو جائیں گے اور دین تو خیر لینا ہی اسی سے ہے، اگر کسی دنیوی معاملے میں بھی اس کا فیصلہ سامنے آ جائے تو ہمیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور اس طرح خم کرنا ہے کہ دل میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔ہماری رائے پر اس کا تاثر، ہماری ترجیح پر اس کا رجحان، ہمارے یقین پر اس کا گمان، ہماری تحقیق پر اس کا اجتہاد، ہماری تقریر پر اس کا قول اور ہمارے قول پر اس کا سکوت ہر لحاظ سے فائق ہے۔ اہل مغرب کے لیے ہو سکتا ہے کہ ان کا ملک، ان کی اقدار، ان کے اصول، ان کے قوانین بڑی اہمیت رکھتے ہوں، لیکن ہمارے لیے تو دنیا کی سب سے بڑی متاع رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔
انھیں یہ سمجھائیں کہ انھوں نے آزادی اظہار کی لے کو بڑھاتے بڑھاتے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ شایستگی، حفظ مراتب اور بزرگوں کا احترام جیسی تہذیبی اقدار ان کے لیے بے وقعت ہو گئی ہیں۔ چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے اکثر لوگ اب اس بات سے آشنا ہی نہیں رہے کہ پیغمبر کی ہستی کا کیا مقام ہوتا ہے۔وہ اگر کبھی اپنی ہی کتاب بائیبل سے رجوع کریں، تورات اور انجیل کا مطالعہ کریں تو ان پر یہ واضح ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو کیا حیثیت دی ہے۔
انھیں یہ باور کرائیں کہ خاکوں کی اشاعت درحقیقت کس درجے کی دل آزاری ہے۔ آپ ہمارے باپ کو گالی دے دیں تو ہو سکتا ہے کہ ہمارے جذبات و احساسات قابو میں رہیں، لیکن یہ تو وہ حریم ہے جہاں اگر قدم بھی غلط طریقے سے رکھ دیا جائے تو ہمارے جذبات بے اختیار ہو جاتے ہیں:ں ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا دوسرا اقدام یہ ہے کہ ان تصورات اور واقعات کی شرح و وضاحت کی جائے جن کی غلط تعبیر کر کے اسلام یا پیغمبر اسلام کی ذات اقدس کے بارے میں انگلی اٹھانے کی جسارت کی گئی ہے۔دعوت دین کے نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو ایسے موقعوں پراپنی بات نہایت موثر انداز سے پہنچائی جا سکتی ہے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ ایسی لغویات کا محرک جہاں حمیت جاہلی، حسدو تکبر، مفاد پرستی اور تنگ نظری جیسے معاندانہ جذبات ہو سکتے ہیں، وہاں اس کا سبب کم علمی یا غلط فہمی بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں ایک سچے داعی کے مقام پر کھڑے ہو کر دلیل و برہان اور علم و عقل کی بنیاد پر اپنی بات درد مندانہ تذکیر و نصیحت کے اسلوب میں پیش کرنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ سرکشوں اور ہٹ دھرموں پر اس کا کوئی اثر نہ ہو ، لیکن وہ لوگ جو محض کم فہمی کے باعث گمراہی کا شکار ہو گئے ہیں، عین ممکن ہے کہ وہ اس کے نتیجے میں راہ راست پر آ جائیں۔ چنانچہ ایسے موقع پر بہت سمجھ داری کے ساتھ ان موضوعات کا تعین کیا جائے جنھیں بنیاد بنا کر تنقید یا تضحیک کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی نظریہ یا عقیدہ ہو سکتا ہے، شریعت کا کوئی حکم ہو سکتا ہے، سیرت کا کوئی واقعہ ہو سکتا ہے۔ جس چیز کو بھی موضوع بنایا گیا ہے، اس کی نہایت تفصیل سے شرح و وضاحت کی جائے، اس کے بارے میں ہر سوال کا جواب دیا جائے، ہر اشکال کو رفع کیا جائے۔چنانچہ مثال کے طور پر اگر قرآن مجید کے یہ احکام سمجھ میں نہیں آ رہے کہ ''ایمان والو، تم یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ'' اور ''ان اہل کتاب سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کریں اور ماتحت بن کر زندگی بسر کریں۔'' اور''ان مشرکین کو جہاں پاؤ، قتل کرو'' یا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان فرمودات کی حکمت واضح نہیں ہو رہی کہ ''جو شخص اپنا دین تبدیل کرے، اسے قتل کر دو'' اور ''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیں'' تو ان پر قرآن و سنت کے دلائل سے یہ واضح کیا جائے کہ یہ کوئی عام احکام یا عام ارشادات نہیں ہیں۔ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے قانون رسالت سے ہے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست مخاطبین یعنی جزیرہ نماے عرب کے یہود و نصاریٰ اور بنی اسماعیل کے بارے میں ہیں۔
اسی طرح تعدد ازواج، غلامی، پردہ، شوہر کی قوامیت، قتل، چوری اور زنا کی سزائیں اور دیت اور شہادت جیسے معاملات کے حوالے سے اگرلوگ اسلام کے موقف سے ناواقف ہیں یا ان کی غلط تعبیرات کی وجہ سے الجھنوں اور غلط فہمیوں کا شکار ہیں توانھیں ان کی اصل نوعیت اور حکمت سے آگاہ کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے حوالے سے اگرکوئی اشکال سامنے آتا ہے تو اس کی وضاحت کی جائے۔ اس ضمن میں اصل حقائق اور ان کی حکمت سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کے غیر معمولی اخلاق وکردار سے بھی دنیا کو روشناس کرایا جائے۔

تیسرا اقدام یہ ہے کہ متعلقہ ممالک کا اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ ہم اگر اس موقعے پر قوی اور مقتدر ہوتے تو ہو سکتا ہے کہ امت کی سطح پر جہاد و قتال کا فیصلہ کرتے، مرتکبین کو پکڑتے ، عالمی عدالت انصاف میں ان پر مقدمہ چلاتے اورجرم ثابت ہونے پر انھیں کیفر کردار تک پہنچاتے، مگر اس وقت ہمارا جو حال ہے، اس کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ:ں نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے علم و ہنر، فکروفلسفہ، سیاست و معیشت، آلات حرب وضرب اور ذرائع ابلاغ کے معاملے میں ہماری حیثیت مغربی اقوام کے مقابلے میں محکوم محض کی ہے۔اس مادی زوال کے باوجود اگر ہم اپنے علم و عمل میں اللہ کی رسی یعنی قرآن مجید کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، باہم متحد ہوتے اور انفرادی اور اجتماعی معاملات میں اعلیٰ اخلاقیات پر کھڑے رہتے تو ہمارے لیے فضا سازگار ہوتی، مگر افسوس کہ ہم ان چیزوں سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس سب کچھ کے باوجود ہمارے پاس اقتصادی بائیکاٹ کا ہتھیار بہرحال موجود ہے اور اس کے ساتھ ہم ایک سادہ، مگر موثر جنگ لڑ سکتے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی بڑی بڑی منڈیاں ہیں جن میں مغربی ممالک اپنی مصنوعات کو فروخت کر کے زر مبادلہ حاصل کرتے اور اپنی معیشت کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان منڈیوں سے مغربی مصنوعات کا اخراج ان کے لیے کاری ضرب ہو سکتا اور انھیں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس اقدام کا اگر فیصلہ کیا جاتا ہے تو اسے بہت سوچ سمجھ کر اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کرنا چاہیے اور انفرادی یا گروہی سطح پر نہیں، بلکہ قومی سطح پر اور امت کی سطح پر کرنا چاہیے اورانصاف کے اصولوں کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے کرنا چاہیے۔
چوتھا اقدام یہ ہے کہ شایستگی اور تہذیب کے ساتھ پر امن مظاہرے کیے جائیں۔ دنیا میں اب یہ بات مسلم ہے کہ اگر آپ کے جذبات مجروح ہوئے ہیں یا آپ لوگوں تک کوئی پیغام پہچانا چاہتے ہیں تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے یہ لازم ہے کہ نہ کسی کی نکسیر پھوٹے، نہ کوئی بتی ٹوٹے، نہ نظام زندگی معطل ہو، نہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو، نہ کسی شخص کو نقصان پہنچے، نہ کسی سفارت خانے پر حملہ ہو، نہ کہیں آگ لگائی جائے اور نہ کسی بدتمیزی کا اظہار ہو۔ ہم اپنے جذبات کا اظہار کریں تو اپنے پیغمبر کے اخلاق عالیہ کو سامنے رکھ کر کریں۔ ہمارا اسلوب احتجاج ہی دنیا پر یہ واضح کر دے کہ یہ لوگ اس پیغمبر کی حرمت کے لیے نکلے ہیں جس نے انسان کی جان، مال اور آبرو کو حرمت کا درجہ دیا تھا۔ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا کہ تمھارے مال، تمھاری آبرو اور تمھاری جانیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح عرفہ کا یہ دن، ذوالحجہ کا یہ مہینا اور مکہ کا یہ شہر حرام ہے

ـــــــــــــــ

واپس

 

Copyright © Ghamidi.org All rights reserved.