| تازہ ترین تحریریں
ریحان احمد یوسفی
رمضان کا مہینا ــــ حاصل کیا کرنا ہے؟
رمضان قمری تقویم کا نواں مہینا ہے۔ یہ مہینا مسلمانوں ہی کے لیے نہیں، انسانوں کے لیے بھی بہت اہم ہے۔ یہ وہ مہینا ہے جب گمراہی کے صحرا میں بھٹکتی انسانیت کی صداے العطش آسمان نے سنی اور باران ہدایت کو عرب کے بیابانوں پر برسنے کا حکم دیا۔ پھر اس سرزمين سے ہدایت کے وہ چشمے ابلے جن سے پوری انسانیت سیراب ہوگئی۔ یہ وہ مہینا ہے جب ظلم کی چکی میں پستی اور سسکتی ہوئی انسانیت کی صداے العدل کا جواب کائنات کے بادشاہ نے عدل سے نہیں، احسان سے دیا اس طرح کہ قیامت تک کے لیے قرآن کو وہ فرقان بنا کر زمين پر اتارا کہ جس کی ہدایت نے دھرتی کو امن و سکون سے بھر دیا۔
ماہ رمضان ايک دفعہ پھر اہل زمين کے سروں پر سایہ فگن ہونے کو ہے۔ اس حال میں کہ آج ہر طرف ظلم اور گمراہی کا دور دورہ ہے۔ انسانیت کے مصائب کا علاج آج بھی یہی ہے کہ قرآن کی ہدایت لوگوں کے سامنے رکھی جائے اور لوگ اسے قبول کرلیں۔ سو خیال و خامہ اسی خدمت کے لیے يکجا ہوتے ہیں۔
صاحب توحيد نے قرآن اور رمضان کا تعلق اس طرح بیان کیا ہے:
''رمضان کا مہینا ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا، لوگوں کے لیے رہنما بنا کر اور نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے سراسر ہدایت بھی ہیں اور حق و باطل کا فیصلہ بھی۔ ''(البقرہ٢ : ١٨٥)
قرآن کی ہدایت کیا ہے؟ اگر اسے ايک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ انسانوں کو اس مسئلے سے آگاہ کرنے آیا ہے جو انھیں ان کی موت کے بعد درپيش ہوگا۔ يعنی ان کے مالک کے حضور پيشی کامسئلہ، اپنے اعمال کی جواب دہی کا مسئلہ، جنت سے محرومی اور جہنم کی آگ کا مسئلہ، ابدی ذلت یا دائمی عيش کا مسئلہ، مگر بڑی عجيب بات ہے کہ یہ ہدایت جس کا تعلق دنیا سے نہیں آخرت سے ہے، زندگی سے نہیں موت سے ہے، انسانوں کی زندگی اور ان کی دنیا کے سارے مسائل کا واحد ممکنہ حل ہے۔
اس دنیا میں انسان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ یہ کہ وہ ايک فانی دنیا میں ابدی قیام کے اسباب ڈھونڈتا ہے، یہ کہ وہ ايک سرائے میں رہ کر کسی دائمی مستقر کے آرام ڈھونڈتا ہے۔ اقبال نے جو بات فرنگ کے لیے کہی تھی، وہ ہر فرزند زمین کے بارے میں درست ہے:
ڈھونڈرہا ہے فرنگ عيش جہاں کا دوام
وائے تمنائے خام وائے تمنائے خام
اس عيش اور آرام کی تلاش میں انسان خدا و آخرت کو بھول جاتا ہے۔ وہ فانی دنیا کو اپنا مقصد بناتا اور ہر اخلاقی قدر کو فراموش کردیتا ہے۔ نتيجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نوع انساں کا شکاری بن جاتا ہے۔ پھر ظلم اور گمراہی کی وہ ساری اقسام وجو دمیں آتی ہیں جن سے بحر و بر میں فساد پھيل جاتا ہے۔ انسانوں کی جان، مال، عزت و آبرو انھی جيسے انسانوں کے ہاتھوں پامال ہوتی ہے۔ انسان کا اخلاقی وجود اس کی حیوانی خواہشات کے سامنے ڈھير ہوجاتا ہے۔
اس صور ت حال کا واحد حل وہ قرآنی ہدایت ہے جو پوری قوت کے ساتھ قیامت کے ہول ناک زلزلے سے انسانوں کو ڈراتی ہے۔ وہ اس روز سے انسانوں کو خبردار کرتی ہے جب زمين کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی اور حسن و زينت کے تمام آثار مٹا کر زمين ايک چٹيل ميدان بنادی جائے گی۔ وہ دن کہ جب لوگ اپنے سوا ہر چيز کو بھول جائیں گے:
''اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ بے شک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہول ناک چيز ہے۔ جس دن تم اسے ديکھوگے، اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش ديکھوگے، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہول ناک چيز۔'' (الحج ٢٢ : ١ ۔٢)
جو لوگ قرآن کی اس پکار پر توجہ دیتے ہیں اور آخرت کی کامیابی کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں، قرآن ان کے سامنے ايک واضح نصب العين رکھتا ہے۔ فرمایا:
''بے شک فلاح پاگیاوہ شخص جس نے پاکيزگی اختیار کی''۔ (الاعلیٰ٨٧ : ١٤)
''اورنفس گواہی دیتا ہے اور جيسا اسے سنوارا۔ پھر اس کی نيکی اور بدی اسے سجھا دی کہ فلاح پاگیا وہ، جس نے اس کو پاک کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔'' (الشمس٩١: ٦۔١٠)
یہ آیات کھول کر بتاتی ہیں کہ آخرت کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ انسان اس دنیا میں اپنا تزکیہ کرتا ہے یا نہیں۔ یہ تزکیہ رہبانیت جيسی کوئی چيز نہیں، بلکہ ایمان و اخلاق کی آلایشوں سے خود کو بچانے کا عمل ہے۔ ان آیات سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ نفس انسانی میں خير و شر کا پورا شعور شروع دن ہی سے موجود ہے اور اسی علم کی بنیاد پر انسان یہ جانتا ہے کہ اسے اپنے آپ کو کن آلایشوں سے بچانا اور کن چيزوں کو اختیار کرنا ہے۔
یہ حقيقت ہے کہ دنیا میں انسان اخلاق سے عاری نہیں، بلکہ فطرت کا عطا کردہ پاکيزہ لباس پہن کر آتاہے۔ اس لباس فطرت کے دامن میں شرک کا کوئی داغ اور الحاد کا کوئی دھبا تک نہیں ہوتا۔ اس پر ظلم کی ميل اور ہوس کی گندگی نہیں لگی ہوتی، مگر دنیا میں موجود شيطانی ترغيبات، حیوانی خواہشات اور ماحول کے اثرات انسان کو گمراہی کے راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ فطرت میں موجود خير و شر کے تصورات کو بھول کر خواہش نفس کی پيروی اختیار کرتا ہے۔ جيسے جيسے وہ اس راہ پر آگے بڑھتا ہے، یہ گرد آلود راستہ دامن دل اور لباس فطرت کو غليظ سے غليظ تر کرتا چلاجاتا ہے۔ غفلت کی دھول اور سرکشی کی کالک فطرت کے حسن کو نری غلاظت میں بدل دیتی ہے۔ انسان پہلے پہل خير و شر کی تميز کھوتا ہے اور پھر معاشرے میں ہر شر خير اور ہر خير شر بن جاتا ہے۔ فطرت میں پيدا ہو جانے والی اس کجی کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں پيغمبر بھيجے، کتابیں اتاریں، بھولا ہوا سبق یاد دلایا اور آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اتارا۔ قرآن نہ صرف تزکیہ کے نصب العين کو انسانوں کے سامنے رکھتا ہے، بلکہ ایمان و اخلاق اور فکر و عمل کی آلایشوں کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔
قرآن کی اس ہدایت کی روشنی میں ہر بندہء مومن کی زندگی کا نصب العين یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فطرت میں موجود اور قرآن میں بیان کردہ ان آلایشوں سے بچائے۔ انسان جيسے ہی یہ عمل شروع کرتا ہے، اس کا براہ راست نتيجہ اس کے اخلاقی وجود پر مرتب ہوتا ہے۔ شرک و الحاد کی گندگی کو دھونے کے بعد انسان اپنے جيسے انسانوں کو خدا بناتا ہے نہ خواہش نفس کو اپنا معبود ٹھہراتا ہے۔ آخرت کی کامیابی کا نصب العين تقاضا کرتاہے کہ انسان کی جان، مال، وقت اور صلاحیت کا ايک حصہ لازماً ذاتی مفادات سے بلند ہو کر صرف کیا جائے۔ ايسے پاکيزہ لوگوں کے معاشرے میں نہ طاقت ور کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں اور نہ اہل ثروت غربا سے بے نیاز اپنی مستیوں میں مگن رہتے ہیں۔ انسان اپنے ابناے نوع کے ساتھ اس يقين کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں کہ کل روز قیامت ہر معاملہ رب العالمين کی عدالت میں پيش کیا جائے گا۔ وہ عدالت جہاں فيصلے مادی نہیں، بلکہ اخلاقی قانون کی بنیاد پر ہوں گے۔ چنانچہ دھوکا، فريب، بددیانتی، خیانت اور جھوٹ اور معاشرے میں پائی جانے والی ان جيسی تمام اخلاقی گندگیاں اوصاف حميدہ کے لیے جگہ چھوڑ دیتی ہیں۔ یوں دھرتی نور ایمان سے چمک اٹھتی ہے۔
فلاح آخرت اور اس کے لیے پاکيزگی کے حصول پر انسان کو متحرک کرنے والی سب سے بڑی چيز خدا کے حضور پيشی کا خوف، اس کی پکڑ کا انديشہ، اس کے عذاب کا ڈر اور اس کا تقویٰ ہے۔ یہ تقویٰ ہی وہ چيز ہے جو روزوں کی فرضیت کا سبب ہے۔ ارشاد ہوا:
'' ایمان والو، تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے، جس طرح تم سے پہلوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم اللہ سے ڈرنے والے بن جاؤ۔'' (البقرہ٢ : ١٨٣)
یہ تقویٰ کيسے پيدا ہوتا ہے۔ اس طرح کہ رمضان میں قرآن کی بار بار تلاوت انسان کو جہنم کے عذاب اور خدا کی پکڑ سے بے خوف نہیں رہنے دیتی۔ دوسری طرف روزے میں کھانے پينے سے رکنا انسان کو نہ صرف پرہيزگاری کے آداب سکھاتا ہے، بلکہ اسے اس مضبوط قوت ارادی سے آگاہ کرتا ہے جسے استعمال کر کے وہ ہر اخلاقی ناپاکی سے بچ سکتا ہے۔
سو اب جبکہ رمضان کی آمد آمد ہے، آئیے ـــ رمضان کے استقبال کا عزم کرتے ہیں۔ ايک ايسے معاشرے میں جہاں قرآن صرف ثواب کے لیے پڑھا جاتا ہے،آئیے ـــ قرآن کو ہدایت کے لیے پڑھنے کا عزم کرتے ہیں۔ یہ عزم کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے۔ یہ جاننے کے لیے پڑھیں گے کہ قرآن جس دن کی مصيبت سے خبردار کرنے آیا ہے، وہ کون سا دن ہے۔ فکر و عمل اور اخلاق و عقيدہ کی ان گندگیوں کو جاننے کےلیے پڑھیں گے جن سے بچے بغير جہنم کی آگ سے نہیں بچا جاسکتا ہے۔
رمضان ثواب کا مہینا ہے۔ آئیے ـــ اسے ہدایت کا مہینا بنا دیں۔ یہ بھوک پیاس سے رکنے کا مہینا ہے۔آئیے ـــ اسے تقویٰ حاصل کرنے کا مہینا بنا دیں۔ یہ قمری تقویم کا نواں مہینا ہے۔ آئیے ـــ اسے ايمانی تقويم کا پہلا مہینا بنا دیں۔
ـــــــــــــــــــ
واپس
|