HOME PAGE
 
تازہ ترین تحریریں

جاوید احمد غامدی

روزے کا مقصد

[مصنف کی کتاب ''قانون عبادات'' کے مضمون ''روزہ'' سے انتخاب۔]

روزے کا مقصد قرآن مجید نے سورہء بقرہ میں یہ بیان کیا ہے کہ لوگ خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ اس کے لیے اصل میں 'لعلکم تتقون' کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی تمھارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔ قرآن کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی یہ ہیں کہ انسان اپنے شب و روز کو اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کے اندر رکھ کر زندگی بسر کرے اور اپنے دل کی گہرائیوں میں اس بات سے ڈرتا رہے کہ اس نے اگر کبھی ان حدود کو توڑا تو اس کی پاداش سے اللہ کے سوا کوئی اس کو بچانے والا نہیں ہو سکتا۔
روزے سے یہ تقویٰ کس طرح پید اہوتا ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں:
پہلی یہ کہ روزہ اس احساس کو آدمی کے ذہن میں پور ی قوت کے ساتھ بیدار کردیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے۔ نفس کے چند بنیادی مطالبات پر حرمت کا قفل لگتے ہی یہ احساس بندگی پیدا ہونا شروع ہوتا اور پھر بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ روزہ کھولنے کے وقت تک یہ اس کے پورے وجود کا احاطہ کر لیتا ہے۔ فجر سے مغرب تک کھانے کا ایک نوالہ اور پانی کا ایک قطرہ بھی روزے دار کے حلق سے نہیں گزرتا اور وہ ان چیزوں کے لیے نفس کے ہرمطالبے کو محض اپنے پروردگار کے حکم کی تعمیل میں پورا کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ روزے کا یہ عمل جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو یہ حقیقت روزے دار کے نہاں خانہء وجود میں اتر جاتی، بلکہ اس کی جبلت میں پیوست ہو جاتی ہے کہ وہ ایک پروردگار کا بندہ ہے اور اس کے لیے زیبا یہی ہے کہ زندگی کے باقی معاملات میں بھی تسلیم و اعتراف کے ساتھ وہ اپنے مالک کی فرماں روائی کے سامنے سپر ڈال دے اور خیال و عمل، دونوں میں اپنی آزادی اور خود مختاری کے ادعا سے دست بردار ہوجائے۔ اس سے، ظاہر ہے کہ خدا پر آدمی کا ایمان ہر لحاظ سے زندہ ایمان بن جاتا ہے، جس کے بعد وہ محض ایک خدا کو نہیں، بلکہ ایک ایسی سمیع و بصیر، علیم و حکیم اور قائم بالقسط ہستی کو مانتا ہے جو اس کے تمام کھلے اور چھپے سے واقف ہے اور جس کی اطاعت سے وہ کسی حال میں انحراف نہیں کر سکتا۔ تقویٰ پیدا کرنے کے ليے سب سے مقدم چیز یہی ہے۔
دوسری یہ کہ روزہ اس احساس کو بھی دل کے اعماق اور روح کی گہرائیوں میں اتار دیتا ہے کہ آدمی کو ایک دن اپنے پروردگار کے حضور میں جواب دہی کے لیے پیش ہونا ہے۔ ماننے کو تو یہ بات ہر مسلمان مانتا ہے، لیکن روزے میں جب پیاس تنگ کرتی، بھوک ستاتی اور جنسی جذبات پوری قوت کے ساتھ اپنی تسکین کا تقاضا کرتے ہیں تو ہرشخص جانتا ہے کہ تنہا یہی احساس جواب دہی ہے جو آدمی کو بطن و فرج کے ان مطالبات کو پورا کرنے سے روک دیتا ہے۔ رمضان کا پورا مہینا ہر روزگھنٹوں وہ نفس کے ان بنیادی تقاضوں پر محض اس لیے پہرا لگائے رکھتا ہے کہ اسے ایک دن اپنے مالک کو منہ دکھانا ہے۔ یہاں تک کہ سخت گرمی کی حالت میں حلق پیاس سے چٹختا ہے، برفاب سامنے ہوتا ہے، وہ چاہے تو آسانی سے پی سکتا ہے، مگر نہیں پیتا؛ بھوک کے مارے جان نکل رہی ہوتی ہے، کھانا موجود ہوتا ہے، مگر نہیں کھاتا؛ میاں بیوی جوان ہیں، تنہائی میسر ہے، چاہیں تو اپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں، مگر نہیں کرتے۔ یہ ریاضت کوئی معمولی ریاضت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں جواب دہی کا احساس اس سے دل و دماغ میں پوری طرح راسخ ہوجاتا ہے۔ تقویٰ پیدا کرنے کے لیے، اگر غور کیجیے تو دوسری موثر ترین چیز یہی ہے۔
تیسری یہ کہ تقویٰ کے لیے صبر ضروری ہے، اورر وزہ انسان کو صبر کی تربیت دیتا ہے۔ بلکہ صبر کی تربیت کے لیے اس سے زیادہ آسان اور اس سے زیادہ موثر کوئی دوسرا طریقہ شاید نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں ہم جس امتحان سے دوچار ہیں، اس کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ ایک طرف ہمارے حیوانی وجود کی منہ زور خواہشیں ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہے کہ ہم اس کے حدود میں رہ کر زندگی بسر کریں؟ یہ چیز قدم قدم پر صبر کا تقاضا کرتی ہے۔ سچائی، دیانت، تحمل، بردباری، عہد کی پابندی، عدل و انصاف، عفو و درگزر، منکرات سے گریز، فواحش سے اجتناب اور حق پر استقامت کے اوصاف نہ ہوں تو تقویٰ کے کوئی معنی نہیں ہیں، اور صبر کے بغیر یہ اوصاف، ظاہر ہے کہ آدمی میں کسی طرح پیدا نہیں ہو سکتے۔
روزے کا مقصد یہی تقویٰ ہے اور اس کے لیے اللہ نے رمضان کا مہینا مقرر فرمایا ہے۔ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ اس مہینے میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا ہے۔ روزے کے مقصد سے اس کا کیا تعلق ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے:
''غور کرنے والے کو اس حقیقت کے سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں پیش آسکتی کہ خدا کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے اور عقل سے بھی بڑی نعمت قرآن ہے، اس لیے کہ عقل کو بھی حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو عقل سائنس کی ساری دوربینیں اور خردبینیں لگا کر بھی اندھیرے میں بھٹکتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے جس مہینے میں دنیا کو یہ نعمت ملی، وہ سزاوار تھا کہ وہ خدا کی تکبیر اور اس کی شکر گزاری کا خاص مہینا ٹھیرا دیا جائے تاکہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر و عظمت کا اعتراف ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے۔ اس شکر گزاری اور تکبیر کے لیے اللہ تعالیٰ نے روزوں کی عبادت مقرر فرمائی جو اس تقویٰ کی تربیت کی خاص عبادت ہے جس پر تمام دین و شریعت کے قیام و بقا کا انحصار ہے، اور جس کے حاملین ہی کے لیے درحقیقت قرآن ہدایت بن کرنازل ہوا ہے۔ ... گویا اس حکمت قرآنی کی ترتیب یوں ہوئی کہ قرآن حکیم کا حقیقی فیض صرف ان لوگوں کے لیے خاص ہے جن کے اندر تقویٰ کی روح ہو اور اس تقویٰ کی تربیت کا خاص ذریعہ روزے کی عبادت ہے۔ اس وجہ سے رب کریم و حکیم نے اس مہینے کو روزوں کے لیے خاص فرما دیا جس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن اس دنیا کے لیے بہار ہے اور رمضان کا مہینا موسم بہار اور یہ موسم بہار جس فصل کو نشوونما بخشتا ہے، وہ تقویٰ کی فصل ہے۔'' (تدبرقرآن١ /٤٥١)
یہ مقصد روزے سے لازماً حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ روزہ رکھنے والے ان خرابیوں سے بچیں جو اگر روزے کو لاحق ہوجائیں تو اس کی تمام برکتیں ختم ہوجاتی ہیں۔ یہ خرابیاں اگرچہ بہت سی ہیں، مگر ان میں سے بعض ایسی ہیں کہ ہر روزے دار کو ان کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
ان میں سے ایک خرابی یہ ہے کہ لوگ رمضان کو لذتوں اور چٹخاروں کا مہینا بنا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں جو خرچ بھی کیا جائے، اس کا اللہ کے ہاں کوئی حساب نہیں ہے۔ چنانچہ اس طرح کے لوگ اگر کچھ کھاتے پیتے بھی ہوں تو ان کے لیے یہ پھر مزے اڑانے اور بہار لوٹنے کا مہینا ہے۔ وہ اس کو نفس کی تربیت کے بجائے اس کی پرورش کا مہینا بنا لیتے ہیں اور ہر روز افطار کی تیاریوں ہی میں صبح کو شام کرتے ہیں۔ وہ جتنا وقت روزے سے ہوتے ہیں، یہی سوچتے ہیں کہ سارے دن کی بھوک پیاس سے جو خلا ان کے پیٹ میں پیدا ہوا ہے، اسے وہ اب کن کن نعمتوں سے بھریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو روزے سے وہ کچھ پاتے ہی نہیں، اور اگر کچھ پاتے ہیں تو اسے وہیں کھو دیتے ہیں۔
اس خرابی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر کام کی قوت کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن اس کو جینے کا مقصد نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی اہتمام کے مل جائے، اس کو اللہ کا شکر کرتے ہوئے کھا لے۔ گھر والے جو کچھ دستر خوان پر رکھ دیں، وہ اگر دل کو نہ بھی بھائے تو اس پر خفا نہ ہو۔ اللہ نے اگر مال و دولت سے نوازاہے تو اپنے نفس کو پالنے کے بجائے اسے غریبوں اور فقیروں کی مدد اور ان کے کھانے پلانے پرخرچ کرے۔ یہ چیز یقینًا اس کے روزے کی برکتوں کو بڑھائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ انفاق کے معاملے میں یہی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس کا بیان ہے کہ حضور عام حالات میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے، لیکن رمضان میں تو گویا سراپا جود و کرم بن جاتے تھے۔
دوسری خرابی یہ ہے کہ بھوک اور پیاس کی حالت میں چونکہ طبیعت میں کچھ تیزی پیدا ہو جاتی ہے، اس وجہ سے بعض لوگ روزے کو اس کی اصلاح کا ذریعہ بنانے کے بجائے، اسے بھڑکانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں۔ وہ اپنے بیوی بچوں اور اپنے نیچے کام کرنے والوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے، جو منہ میں آیا، کہہ گزرتے، بلکہ بات بڑھ جائے تو گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتے ہیں، اور بعض حالتوں میں اپنے زیر دستوں کو مارنے پیٹنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیتے ہیں کہ روزے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔
اس کا علاج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ آدمی اس طرح کے موقعوں پر روزے کو اشتعال کا بہانہ بنانے کے بجائے اس کے مقابلے میں ایک ڈھال کی طرح استعمال کرے، اور جہاں اشتعال کا کوئی موقع پیدا ہو، فوراً یاد کرے کہ میں روزے سے ہوں۔ آپ کا ارشاد ہے: روزے ڈھال ہیں، لہٰذا تم میں سے جس شخص کا روزہ ہو، وہ نہ بے حیائی کی باتیں کرے، اورنہ جہالت دکھائے۔ پھر اگر کوئی گالی دے یا لڑنا چاہے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میرے بھائی میں روزے سے ہوں۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ روزہ رکھنے والا اگر غصے اور اشتعال کے ہر موقع پر یاددہانی کا یہ طریقہ اختیار کرے گا تو آہستہ آہستہ دیکھے گا کہ اس نے اپنے نفس کے شیطان پر اتنا قابو پا لیا ہے کہ وہ اب اسے گرا لینے میں کم ہی کامیاب ہوتا ہے۔ شیطان کے مقابلے میں فتح کا یہ احساس اس کے دل میں اطمینان اور برتری کا احساس پیدا کرے گا اور روزے کی یہی یاددہانی اس کی اصلاح کا ذریعہ بن جائے گی۔ پھر وہ وہیں غصہ کرے گا، جہاں اس کا موقع ہوگا۔ وقت بے وقت اسے مشتعل کر دینا کسی کے لیے ممکن نہ رہے گا۔
تیسری خرابی یہ ہے کہ بہت سے لوگ جب روزے میں کھانے پینے اور اس طرح کی دوسری دل چسپیوں کو چھوڑتے ہیں تو اپنی اس محرومی کا مداوا ان دل چسپیوں میں ڈھونڈنے لگتے ہیں جن سے ان کے خیال میں روزے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ وہ بہل جاتا ہے۔ وہ روزہ رکھ کر تاش کھیلیں گے، ناول اور افسانے پڑھیں گے، نغمے اور غزلیں سنیں گے، فلمیں دیکھیں گے، دوستوں میں بیٹھ کر گپ ہانکیں گے اور اگر یہ سب نہ کریں گے تو کسی کی غیبت اور ہجو ہی میں لپٹ جائیں گے۔ روزے میں پیٹ خالی ہو تو آدمی کو اپنے بھائیوں کا گوشت کھانے میں ویسے بھی بڑی لذت ملتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات صبح اس مشغلے میں پڑتے ہیں اور پھر موذن کی اذان کے ساتھ ہی اس سے ہاتھ کھینچتے ہیں۔
اس خرابی کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کا ادب سمجھے اور کوشش کرے کہ کم سے کم اناپ شناپ کہنے اور جھوٹی سچی اڑانے کے معاملے میں تو اس کی زبان پر تالا لگا رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔
اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ جو وقت ضروری کاموں سے بچے، اس میں آدمی قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے اور دین کو سمجھے۔ وہ روزے کی اس فرصت کو غنیمت جان کر اس میں قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعاؤں کا کچھ حصہ یاد کر لے۔ اس طرح وہ روزے میں ان مشغلوں سے بچے گا اور بعد میں یہی ذخیرہ اللہ کی یاد کو اس کے دل میں قائم رکھنے کے لیے اس کے کام آئے گا۔
چوتھی خرابی یہ ہے کہ آدمی بعض اوقات روزہ اللہ کے لیے نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں اور ملنے جلنے والوں کی ملامت سے بچنے کے لیے رکھتا ہے اور کبھی لوگوں میں اپنی دین دار ی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے یہ مشقت جھیلتا ہے۔ یہ چیز بھی روزے کو روزہ نہیں رہنے دیتی۔
اس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روزے کی اہمیت ہمیشہ اپنے نفس کے سامنے واضح کرتا رہے اور اسے تلقین کرے کہ جب کھانا پینا اور دوسری لذتیں چھوڑ ہی رہے ہو تو پھر اللہ کے لیے کیوں نہیں چھوڑتے۔ اس کے ساتھ رمضان کے علاوہ کبھی کبھی نفلی روزے بھی رکھے اور انھیں زیادہ سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرے۔ اس سے امید ہے کہ اس کے یہ فرض روزے بھی کسی وقت اللہ ہی کے لیے خالص ہوجائیں گے۔

ــــــــــــــــــــــ

واپس

 
     
© 2006 Ghamidi.org All rights reserved.