| تازہ ترین تحریریں
وحید الدین خاں
روزہ کیا ہے
روزہ کے لیے اصل عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے معنی ہیں رکنا (Abstinence )۔ روزہ میں چونکہ آدمی کھانے پینے سے اور دوسری خواہشات سے رک جاتا ہے، اس لیے اس کو صوم کا نام دیا گیا۔
اسلامی شریعت میں روزہ مسلسل ایک مہینے کے لیے ہے۔ ہر سال قمری کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان کے مہینے میں یہ روزہ رکھا جاتا ہے۔ سال میں ایک مہینے کا یہ روزہ ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس کو رکھنے کی طاقت رکھتا ہو۔
یہ روزہ رمضان کے مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور مہینے کی آخری تاریخ کو ختم ہوتا ہے۔ چونکہ اس کا انحصار چاند کو دیکھنے پر ہے، اس لیے وہ کبھی ٢٩ دن کا ہوتا ہے اور کبھی ٣٠ دن کا۔
صبح کو روزہ شروع کرنے سے پہلے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو سحری کہتے ہیں۔ اس سحری کا وقت صبح صادق (Morning twilight ) کے ظہور تک رہتا ہے۔ روزہ کھولنے کے لیے جو کھانا کھایا جاتا ہے اس کو افطار کہتے ہیں۔ اس کا وقت سورج ڈوبنے کے فوراً بعد شروع ہوتا ہے۔ روزہ دار پر کھانے پینے وغیرہ کی جو پابندی ہے وہ صرف دن کے لیے ہے، رات کے وقت کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔
شام کو روزہ کھولتے وقت جو دعا پڑھی جاتی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے: خدایا، میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا اور تیری اجازت سے افطار کیا۔ یہ دعا روزہ کی روح کو بتاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کی اصل روح یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بنائے۔ یہ پابندی پوری زندگی میں مطلوب ہے۔ رمضان کے مہینے کا روزہ اسی پابند زندگی کی ایک سالانہ علامتی مشق ہے۔
اسلام کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو امتحان (Test ) کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کو جو آزادی ملی ہے وہ اس لیے ہے کہ وہ اس کو خود اپنی مرضی سے خدا کے حکموں کی پابندی میں استعمال کرے۔ آزادی کے اس پابند استعمال کے لیے آدمی کو اپنی خواہشوں کو روک لگانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے سیلف کنٹرول کی استعداد درکار ہے۔ روزہ اسی سیلف کنٹرول کی سالانہ تربیت ہے۔
سیلف کنٹرول والی زندگی کے لیے صبر کی ضرورت ہے۔ روزہ یہی صبر کی صفت آدمی کے اندر پیدا کرتا ہے۔ اسی بنا پر حدیث میں روزہ کو صبر کا مہینا (شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ دنیا میں اسلامی طرز کی زندگی گزارنے کے لیے سب سے زیادہ جس چیز کی اہمیت ہے، وہ صبر ہے۔ اسی لیے قرآن (١٠: ٣٩) میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو خدا کے ہاں بے حساب اجر دیا جائے گا۔
بے حساب اجر کی یہی خوش خبری حدیث میں روزہ کے لیے بھی بتائی گئی ہے۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے نیک اعمال کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا (بے حساب) بدلہ دوں گا۔ (بخاری و مسلم)
بے حساب بدلہ کا استحقاق اصلاً صبر کے لیے ہے۔ صبر اسلام میں سب سے بڑی نیکی اور سب سے زیادہ قابل قدر صفت ہے۔ روزہ آدمی کو اسی صابرانہ زندگی کے لیے تیار کرتا ہے، اسی لیے روزہ پر بھی بے حساب انعام رکھ دیا گیا۔
پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ کسی کو گالی دے اور نہ کسی سے جھگڑا کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرے تو وہ اس سے کہہ دے کہ: ''میں ایک روزہ دار آدمی ہوں۔''
یہی وہ چیز ہے جس کو صبر یا پابندی کہا گیا ہے۔ یعنی اشتعال کا موقع پیش آئے تو اس پر بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسروں کے منفی رویہ کے باوجود اپنے آپ کو مثبت رویہ پر قائم رکھنا۔ کوئی شخص زیادتی کرے تب بھی یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جوابی زیادتی سے بچانا۔
روزہ ایک سالانہ تربیتی کورس ہے جو آدمی کو اسی ضبط نفس کے قابل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر ضبط نفس آ جائے اس کے اندر وہ طاقت آ گئی جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو تھامے، جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو شریعت کی مقرر کی ہوئی اخلاقی حد پر باقی رکھے اور صحیح اور مطلوب زندگی گزارے۔
روزہ میں کھانا اور پانی پینا چھوڑنا علامتی طور پر غیر مطلوب چیزوں کو چھوڑنے کا سبق ہے۔ اسی لیے پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو آدمی جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔ (بشکریہ ''الرسالہ'' جنوری ١٩٩٨، ٤-٥)
ـــــــــــــــــــــــــ
واپس
|