مذہبی معیار اور پاکستانی اقدار
]روزنامہ "جنگ" میں
6جون 2006 کو شائع ہوا [
یونیسکو کے
مطابق ''جی ڈی پی'' کا کم از کم چار فیصد تعلیم پر خرچ ہونا ضروری ہے۔
پاکستان یونیسکو کے اس معیار تک پہنچنے میں ابھی بہت عرصہ لے گا۔ اسلام
آباد کی دو روزہ قومی تعلیمی کانفرنس میں بتایا گیا کہ بیس سال پہلے ملائیشیا
کے نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان آتے تھے اب پاکستان کے نوجوان
تعلیم کی تلاش میں ملائیشیا جا رہے ہیں جو تعلیم کے شعبہ پر اپنے سالانہ
بجٹ کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ (34 فیصد)
خرچ کرتا ہے۔ میرے دوست جاوید شاہین جن کے بچوں نے ملائیشیا میں تعلیم
حاصل کی ہے بتاتے ہیں کہ ملائیشیا کی ایک یونیورسٹی میں پاکستان کے تین
پروفیسر پڑھاتے تھےاور ہندوستان کے٨٨ پروفیسرز تدریس میں مصروف تھے۔
مہاتیر محمد نے کم از کم عرصے میں زیادہ سے زیادہ تعلیم
پھیلانے اور تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے اساتذہ کی تنخواہوں میں تین گنا اضافہ
کر دیا تھا۔ کچھ ایسا ہی طریق کار امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے اپنی گورنری کے
زمانہ میں اپنی سٹیٹ میں خواندگی اور تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے اختیار کیا
تھا اور اساتذہ کی تنخواہوں میں تین گنا اضافے کے علاوہ اساتذہ کے سالانہ ٹیسٹ اور
معیار تدریس کی بہتری کی پابندی بھی عائد کی تھی۔ وہ اپنی یاداشتوں کی کتاب مائی
لائف میں بتاتے ہیں کہ اساتذہ کے ٹیسٹ کی پابندی کی بہت مخالفت ہوئی تھی مگر یہ
تدریس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے ناگزیر تھا۔ تقریباً بیس فیصد ٹیچرز اس پابندی
کی وجہ سے یہ پیشہ چھوڑ گئے مگر 80 فیصد نے ٹیسٹ دینے اور معیار بہتر بنانے کے طریقہء
کار کو اپنا لیا۔ بل کلنٹن کو دوسری ٹرم کے لئے بھی گورنر منتخب کیا گیا اور ان
کی ریاست امریکہ کی تعلیم یافتہ ریاستوں میں شمار ہونے لگی۔
قومی تعلیمی کانفرنس کے دوران بتایا گیا کہ عوامی جمہوریہ
چین ورلڈ بینک سے قرضہ نہیں لیتا تھا جب چین نے عالمی بینک سے قرضہ لیا تو وہ چین
میں 25 یونیورسٹیاں تعمیر کرنے اور چلانے کے لئے تھا
اور چین نے اس قرضے سے یہ 25 یونیورسٹیاں تعمیر بھی
کیں اور انہیں چلا کر بھی دکھایا۔
قومی تعلیمی کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں ممتاز مذہبی
سکالر ڈاکٹر جاوید احمد غامدی نے مشورہ دیا کہ اسلامیات ( اسلامک سٹڈی ) کا مضمون
بچوں کو پانچویں جماعت کے بعد پڑھایا جائے۔ اس درجے سے پہلے کے تعلیمی درجوں میں
بچوں کو انسانیت اور اخلاقیات کی تعلیم دینے پر توجہ دی جائے۔ اختتامی تقریب کے
مہمان خصوصی وزیر اعظم شوکت عزیز نے غامدی صاحب کی اس تجویز یا مشورے کی مخالفت
ضروری سمجھی اور فرمایا کہ بچوں کو ابتدائی جماعتوں سے ہی دینی تعلیم دینے کی ضرورت
ہے اور اسی دینی اورمذہبی تعلیم سے وہ انسانیت اور اخلاقیات کا درس حاصل کریں گے۔
ڈاکٹر جاوید احمد غامدی صاحب اپنے اکثر ٹیلی ویژن پروگراموں اور لیکچروں میں یہ
خیال ظاہر کرتے ہیں کہ انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے اور پھر اپنے
خدا کو پہچانے۔ اپنے اس خیال کے مطابق ہی انہوں نے مذہبی تعلیم کی ابتداء پانچویں
جماعت کے بعد شروع کرنے اور اس سے پہلے اخلاقیات اور انسانیت کا درس دینے کی ضرورت
محسوس کی اور ان کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بچوں کو ابتداء ہی سے مختلف فرقوں
میں تقسیم ہونے سے بچایا جائے مگر وزیر اعظم شوکت عزیز غالباً اپنے سینٹ پیٹرک سکول
سسٹم کے تجربے سے گزرنے کی بنا پر یا شاید مکتب و مدارس کے اساتذہ کو خوش کرنے کے
لئے ایک ایسا اختلافی نوٹ پیش کر رہے تھے جو کچھ زیادہ اختلافی بھی نہیں تھا مگر
عام دیکھنے اور سننے والوں کو اختلافی دکھائی اور سنائی دے رہا تھا۔ اختتامی تقریب
کے بیشتر سامعین ڈاکٹر جاوید احمد غامدی کے اس نظریے سے متفق محسوس ہوتے تھے کہ
اخلاقیات کے بغیر ایمانیات بھی ممکن نہیں۔ ہمیں جہالت، پسماندگی اور انتہا پسندی
کے کلچر سے باہر نکلنے اور ترقی پسند قوموں کی راہوں پر چلنے کے لئے انسانیت کی
اعلیٰ قدروں کا احترام کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے خطاب کے دوران
ایک سے زیادہ مرتبہ ''مذہبی معیار اور پاکستانی اقدار کو پیش نظر رکھنے کا مشورہ
دیا''۔ لوگوں کی سمجھ میں مذہبی معیارتو آرہے تھے مگر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا
تھا کہ وزیر اعظم کی پاکستانی اقدار سے کیا مراد ہے؟ اور ان دونوں اصطلاحوں میں
تمیز کون کرے گا؟ شاید جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت سے تعلق رکھنے والوں کی سمجھ
میں آ رہا ہو۔ ایسی اصطلاحیں اس زمانے میں عام سنائی دیتی تھیں۔
واپس