٥۔ ادارہء علم و تحقیق المورد کا قیام
یہ ادارہ ١٩٩١ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا بنیادی
مقصد اسلامی علوم سے متعلق علمی اور تحقیقی کام، تمام ممکن ذرائع
سے وسیع پیمانے پر اس کی نشر و اشاعت اور اس کے مطابق لوگوں کی
تعلیم و تربیت کا اہتمام ہے۔
طرز فکر غامدی صاحب کے طرز فکر کا خلاصہ حسب ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا
جا سکتا ہے
ذہن میں پہلے سے موجود تصورات سے قطع نظر کر لیا جائے۔ |
o |
قرآن، سنت اور حدیث سے اخذ و استنباط کرتے ہوئے ان پر تدبر کے صول و
مبادی کو پوری طرح پیش نظر رکھا جائے۔ |
o |
دین کے کسی جز کو بیان کرتے ہوئے کل کو نظر انداز نہ ہونے دیا جائے۔ |
o |
علمی دیانت کی آخری حد تک پاس داری کی جائے۔ خواہ اس کی زد اپنے کسی اعتقاد
یا محبوب نظریے ہی پر کیوں نہ پڑے۔
|
o |
اس حقیقت کو دل و دماغ سے محو نہ ہونے دیا جائے کہ علمی خیانت کا جواب خدا کے حضور دینا پڑے گا۔ |
o |
صحیح بات سامنے آجانے کے بعد اگر سارا زمانہ بھی اس کے خلاف ہو تو اسے بیان کرنے سے گریز نہ کیا جائے۔ مگر اسلوب بہر حال شایستہ رہے۔ |
o |
اس سب کچھ کے بعد اپنا نقطہء نظر اس احساس کی بنا پر پیش کیا جائے کہ: ہم
اپنی بات کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر اس میں غلطی کا امکان تسلیم کرتے ہیں
اور اس کے برعکس بات کو صحیح نہیں سمجھتے، مگر اس میں صحت کا امکان تسلیم
کرتے ہیں۔ |
o |
_________
آرا و افکار
اصول دین، ماخذ دین، فقہ و شریعت اور قومی اور ملی امور کے حوالے سے ان کی اہم آرا حسب ذیل ہیں:
سنت
سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدیدواصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔ قرآن میں اس کا حکم آپ کے لیے اس طرح بیان ہوا ہے:
''پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔'' (النحل١٦:١٢٣)
اس ذریعے سے جو دین ہمیں ملا ہے،وہ یہ ہے:
عبادات
١۔ نماز ۔٢۔ زکوٰۃ اور صدقہء فطر۔٣۔ روزہ و اعتکاف ۔٤۔ حج و عمرہ ۔٥۔ قربانی اور ایام تشریق کی تکبیریں۔
معاشرت
١۔ نکاح و طلاق اور ان کے متعلقات ۔ ٢۔حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب۔
خورونوش
١۔ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کی حرمت۔ ٢۔ اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ۔
رسوم و آداب
١۔ اللہ کا نام لے کر اور دائیں ہاتھ سے کھانا پینا۔ ٢۔ ملاقات کے موقع پر 'السلام علیکم'اور اس کا جواب۔٣۔ چھینک آنے پر 'الحمدللہ 'اور اس کے جواب میں 'یرحمک اللہ ' ۔ ٤ ۔نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں میں اقامت ۔٥۔ مو نچھیں پست رکھنا ۔٦ ۔زیر ناف کے بال کاٹنا ۔ ٧۔بغل کے بال صاف کرنا۔ ٨۔ بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا ۔٩۔ لڑکوں کا ختنہ کرنا ۔ ١٠۔ ناک ،منہ اور دانتوں کی صفائی۔ ١١۔استنجا۔ ١٢۔ حیض و نفاس کے بعد غسل۔ ١٣۔غسل جنابت ۔١٤ ۔میت کا غسل۔ ١٥ ۔تجہیز و تکفین ۔ ١٦۔تدفین ۔١٧ ۔عید الفطر ۔ ١٨۔ عید الاضحی ۔
سنت یہی ہے اور اس کے بارے میں یہ بالکل قطعی ہے کہ ثبوت کے اعتبار سے اس میں اور قرآن مجید میں کوئی فرق نہیں ہے ۔وہ جس طرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے ملا ہے ،یہ اسی طرح ان کے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے اور قرآن ہی کی طرح ہر دور میں مسلمانوں کے اجماع سے ثابت قرارپائی ہے، لہٰذا اس کے بارے میں اب کسی بحث و نزاع کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔
حدیث
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل اور تقریر وتصویب کے اخبارِآحادجنھیں بالعموم ''حدیث'' کہا جاتا ہے ، ان کے بارے میں ہمارا نقطہء نظر یہ ہے کہ ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ کبھی درجہء یقین کو نہیں پہنچتا ، اس لیے دین میں ان سے کسی عقیدہ وعمل کا اضافہ بھی نہیں ہوتا۔ دین سے متعلق جو چیزیں ان میں آتی ہیں ،وہ درحقیقت، قرآن و سنت میں محصور اسی دین کی تفہیم و تبیین اور اس پرعمل کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہء حسنہ کابیان ہیں۔ حدیث کا دائرہ یہی ہے ۔ چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہو سکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبو ل کیا جا سکتا ہے۔
اس دائرے کے اندر ، البتہ اس کی حجت ہر اس شخص پر قائم ہو جاتی ہے جو اس کی صحت پر مطمئن ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل یا تقریر و تصویب کی حیثیت سے اسے قبول کر لیتا ہے ۔ اس سے انحراف پھر اس کے لیے جائز نہیں رہتا ، بلکہ ضروری ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی حکم یا فیصلہ اگر اس میں بیان کیا گیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔
اسلام میں سزائیں
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کی وساطت سے انسان کو جو شریعت دی، اس میں زندگی کے دوسرے معاملات کے ساتھ جان، مال، آبرو اور نظم اجتماعی سے متعلق تمام بڑے جرائم کی سزائیں بھی خود مقرر کر دی ہیں۔
یہ جرائم درج ذیل ہیں:
١ ۔ محاربہ اور فساد فی الارض، ٢۔قتل و جراحت، ٣۔ زنا، ٤۔ قذف، ٥۔ چوری،
ان جرائم کے بارے میں یہ چیز واضح رہنی چاہیے کہ ان کی سزا کا حکم مسلمانوں کو ان کی انفرادی حیثیت میں نہیں، بلکہ پورے مسلمان معاشرے کو دیا گیا ہے اور اس لحاظ سے ان کی حکومت سے متعلق ہے۔ چنانچہ کوئی شخص یا جماعت اگر کسی خطہء ارض میں سیاسی اقتدار نہیں ر کھتی تو اسے یہ حق ہر گز حاصل نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کوئی سزا کسی مجرم پر نافذ کرے۔
شریعت کے جرائم یہی ہیں۔ان کی ادنیٰ صورتوں اور ان کے علاوہ باقی سب جرائم کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ارباب حل و عقد پر چھوڑ دیا ہے۔ باہمی مشورے سے وہ اس معاملے میں جو قانون چاہیں، بنا سکتے ہیں۔ تاہم اتنی بات اس میں بھی طے ہے کہ موت کی سزا قرآن کی رو سے قتل اور فساد فی الارض کے سوا کسی جرم میں نہیں دی جا سکتی۔
محاربہ اور فساد فی الارض
محاربہ اور فساد فی الارض، یعنی اللہ اور رسول سے لڑنے اور ملک میں فساد برپا کرنے کے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ کوئی شخص یا گروہ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرکے لوگوں کی جان ومال، آبرو اور عقل و رائے کے خلاف برسر جنگ ہو جائے۔ چنانچہ ایک اسلامی حکومت میں جو لوگ زنا بالجبر کا ارتکاب کریں یا بدکاری کو پیشہ بنا لیں یاکھلم کھلا اوباشی پر اتر آئیں یا اپنی آوارہ منشی، بدمعاشی اور جنسی بے راہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و ناموس کے لیے خطرہ بن جائیں یا اپنی دولت و اقتدار کے نشے میں غریبوں کی بہو بیٹیوں کو سر عام رسوا کریں یا نظم ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں یا قتل و غارت، ڈکیتی، رہزنی، اغوا، دہشت گردی، تخریب، ترہیب اور اس طرح کے دوسرے سنگین جرائم سے حکومت کے لیے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر دیں، وہ سب اسی محاربہ اور فساد فی الارض کے مجرم قرارپائیں گے۔ان کی سرکوبی کے لیے یہ چار سزائیں بیان ہوئی ہیں:
تقتیل، یعنی عبرت ناک طریقے سے قتل
تصلیب، یعنی عبرت ناک طریقے سے سولی
ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دینا،
نفی، یعنی جلا وطنی۔
قتل کی سزا
قتل کی سزا کے لیے قرآن میں قصاص کا حکم آیا ہے۔ یہ ایک فرض ہے جو اسلامی حکومت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کیا گیا ہے۔اسلامی معاشرے کے لیے اسی میں زندگی ہے اور مسلمانوں کے لیے یہ اللہ کا نازل کردہ قانون ہے جس سے انحراف صرف ظالم ہی کرتے ہیں، لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کے علاقے میں اگر کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اس کے قاتلوں کا سراغ لگائے، انھیں گرفتار کرے اور قانون کے مطابق مقتول کے اولیا کی مرضی ان پر ٹھیک ٹھیک نافذ کر دے۔
دیت
قتل خطا اور قتل عمد، دونوں میں قرآن کا حکم یہی ہے کہ دیت معاشرے کے دستور اور رواج کے مطابق ادا کی جائے۔ قرآن نے خود دیت کی کسی خاص مقدار کا تعین کیا ہے نہ عورت اور مرد، غلام اور آزاد، مسلم اور غیر مسلم کی دیتوں میں کسی فرق کی پابندی ہمارے لیے لازم ٹھیرائی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے فیصلے اپنے زمانے میں عرب کے دستور کے مطابق کیے۔ فقہ و حدیث کی کتابوں میں دیت کی جو مقداریں بیان ہوئی ہیں، وہ اسی دستور کے مطابق ہیں۔ عرب کا یہ دستور اہل عرب کے تمدنی حالات اور تہذیبی روایات پر مبنی تھا۔ زمانے کی گردش نے کتاب تاریخ میں چودہ صدیوں کے ورق الٹ دیے ہیں۔ تمدنی حالات اور تہذیبی روایات، ان سب میں زمین و آسمان کا تغیر واقع ہو گیا ہے۔ اب ہم دیت میں اونٹ دے سکتے ہیں، نہ اونٹوں کے لحاظ سے اس دور میں دیت کا تعین کوئی دانش مندی ہے۔ عاقلہ کی نوعیت بالکل بدل گئی ہے اور قتل خطا کی وہ صورتیں وجود میں آ گئی ہیں جن کا تصور بھی اس زمانے میں ممکن نہیں تھا۔ قرآن مجید کی ہدایت ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے ہے، چنانچہ اس نے اس معاملے میں معروف کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ قرآن کے اس حکم کے مطابق ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کا پابند ہے۔ ہمارے معاشرے میں دیت کا کوئی قانون چونکہ پہلے سے موجود نہیں ہے، اس وجہ سے ہمارے ارباب حل و عقد کو اختیار ہے کہ چاہیں تو عرب کے اس دستور کو برقرار رکھیں اور چاہیں تو اس کی کوئی دوسری صورت تجویز کریں۔ بہرحال، وہ جو صورت بھی اختیار کریں گے، معاشرہ اسے قبول کر لیتا ہے تو ہمارے لیے وہی معروف قرار پائے گی۔ پھر معروف پر مبنی قوانین کے بارے میں یہ بات بھی بالکل بدیہی ہے کہ حالات اور زمانہ کی تبدیلی سے ان میں تغیر کیا جا سکتا ہے اور کسی معاشرے کے اولوالامر، اگر چاہیں تو اپنے اجتماعی مصالح کے لحاظ سے انھیں نئے سرے سے مرتب کر سکتے ہیں۔
زنا کی سزا
زانی مرد ہو یا عورت، اس کا جرم اگر ثابت ہو جائے تو اس کی پاداش میں اسے سو کوڑے مارے جائیں گے۔ ...مجرم کو یہ سزا مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دی جائے گی تاکہ اس کے لیے یہ فضیحت اور دوسروں کے لیے باعث نصیحت ہو۔ ...اس سزا کے بعد مسلمانوں میں سے کسی پاک دامن مرد یا عورت کو اس زانی یا زانیہ کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہیے۔ ...سرقہ کی طرح یہ سزا بھی اس جرم کی انتہائی سزا ہے اور صرف انھی مجرموں کو دی جائے گی جن سے جرم بالکل آخری صورت میں سرزد ہو جائے اور اپنے حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں۔ چنانچہ پاگل، بدھو، مجبور، سزا کے تحمل سے معذور اور جرم سے بچنے کے لیے ضروری ماحول، حالات اور حفاظت سے محروم سب لوگ اس سے یقینا مستثنیٰ ہیں۔ ... اس کی تہمت کے قانون سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ قرآن مجید اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے مجرم اپنے جرم کا خود اقرار کریں یا جو لوگ اس پر مطلع ہوں، وہ ضرور ہی اس کی خبر حکام تک پہنچائیں۔
چوری کی سزا
' قطع ید' یعنی ہاتھ کاٹ دینے کی سزا چور مرد اور چور عورت کے لیے ہے۔ قرآن نے اس کے لیے 'سارق' اور 'سارقۃ ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ عربی زبان کے اسالیب بلاغت سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ یہ صفت کے صیغے ہیں جو وقوع فعل میں اہتمام پر دلالت کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق فعل سرقہ کی کسی ایسی ہی نوعیت پر کیا جا سکتا ہے جس کے ارتکاب کو چوری اور جس کے مرتکب کو چور قرار دیا جا سکے۔ چنانچہ اگر کوئی بچہ اپنے باپ یا کوئی عورت اپنے شوہر کی جیب سے چند روپے اڑا لیتی ہے یا کوئی شخص کسی کی بہت معمولی قدروقیمت کی کوئی چیز چرا لے جاتا ہے یا کسی کے باغ سے کچھ پھل یا کسی کے کھیت سے کچھ سبزیاں توڑ لیتا ہے یا بغیر کسی حفاظت کے کسی جگہ ڈالا ہوا کوئی مال اچک لیتا ہے یا آوارہ چرتی ہوئی کوئی گائے یا بھینس ہانک کر لے جاتا ہے یا کسی اضطرار اور مجبوری کی بنا پر اس فعل شنیع کا ارتکاب کرتا ہے تو بے شک، یہ سب ناشایستہ افعال ہیں اور ان پر اسے تادیب و تنبیہ بھی ہونی چاہیے، لیکن یہ وہ چوری نہیں ہے جس کا حکم قرآن میں بیان ہوا ہے۔ یہ انتہائی سزا ہے اور صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب مجرم اپنے جرم کی نوعیت اور اپنے حالات کے لحاظ سے کسی رعایت کا مستحق نہ رہا ہو۔
جہاد
جہاد کا حکم قرآن میں دو صورتوں کے لیے آیا ہے:
ایک، ظلم و عدوان کے خلاف،
دوسرے، اتمام حجت کے بعد منکرین حق کے خلاف۔
پہلی صورت شریعت کا ابدی حکم ہے اور اس کے تحت جہاد اسی مصلحت سے کیا جاتا ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ دوسری صورت کا تعلق شریعت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے ہے جو اس دنیا میں ہمیشہ انھی لوگوں کے ذریعے سے روبہ عمل ہوتا ہے جنھیں اللہ تعالیٰ ''شہادت'' کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ حق کی ایسی گواہی بن جاتے ہیں کہ اس کے بعد کسی کے لیے اس سے انحراف کی گنجایش باقی نہیں رہتی۔ انسانی تاریخ میں یہ منصب آخری مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی قوم بنی اسمٰعیل کو حاصل ہوا ہے۔ ...مسلمان اپنی انفرادی حیثیت میں آیات قتال کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ حدودوتعزیرات کی طرح ان آیات کے مخاطب بھی وہ بحیثیت جماعت ہیں اور اس معاملے میں کسی اقدام کا حق بھی ان کے نظم اجتماعی ہی کو حاصل ہے۔
نصرت الہٰی
جنگ میں نصرت الہٰی کا معاملہ الل ٹپ نہیں ہے کہ جس طرح لوگوں کی خواہش ہو، اللہ کی مدد بھی اسی طرح آ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک قاعدہ مقرر کر رکھا ہے اور وہ اسی کے مطابق اپنے بندوں کی مدد فرماتے ہیں۔ سورہء انفال کی آیات ٦٥۔٦٦ پر تدبر کیجیے تو معلوم ہو تا ہے کہ نصرت الہٰی کا یہ ضابطہ درج ذیل تین نکات پر مبنی ہے :
اول یہ کہ اللہ کی مدد کے لیے سب سے بنیادی چیز صبر و ثبات ہے۔ مسلمانوں کی کسی جماعت کو اس کا استحقاق اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا، جب تک وہ یہ صفت اپنے اندر پیدا نہ کر لے۔ اس سے محروم کوئی جماعت اگر میدان جہاد میں اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔ 'صابرون' اور 'صابرۃ ' کی صفات سے ان آیتوں میں یہی بات واضح کی گئی ہے۔ 'واللّٰہ مع الصابرین' کے الفاظ بھی آیات کے آخر میں اسی حقیقت پر دلالت کرتے ہیں۔
دوم یہ کہ جنگ میں اترنے کے لیے مادی قوت کا حصول ناگزیر ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے، اللہ کے حکم سے ہوتا ہے اور آدمی کا اصل بھروسا اللہ پروردگارعالم ہی پر ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا عالم اسباب کے طور پر بنائی ہے۔ دنیا کی یہ اسکیم تقاضا کرتی ہے کہ نیکی اور خیر کے لیے بھی کوئی اقدام اگر پیش نظر ہے تو اس کے لیے ضروری وسائل ہرحال میں فراہم کیے جائیں۔ یہ اسباب و وسائل کیا ہونے چاہییں؟ دشمن کی قوت سے ان کی ایک نسبت اللہ تعالیٰ نے انفال کی ان آیتوں میں قائم کر دی ہے۔ یہ اگر حاصل نہ ہو تو مسلمانوں کو اس کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ جہاد کے شوق میں یا جذبات سے مغلوب ہو کر اس سے پہلے اگر وہ کوئی اقدام کرتے ہیں تو اس کی ذمہ داری انھی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس صورت میں ان کے لیے کسی مدد کا ہر گز کوئی وعدہ نہیں ہے۔
سوم یہ کہ مادی قوت کی کمی کو جو چیز پورا کرتی ہے، وہ ایمان کی قوت ہے۔ ' علم ان فیکم ضعفًا' اور 'بانھم قوم لایفقہون' میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ 'ضعف ' کا لفظ عربی زبان میں صرف جسمانی اور مادی کمزوری کے لیے نہیں آتا، بلکہ ایمان و حوصلہ اور بصیرت و معرفت کی کمزوری کے لیے بھی آتا ہے۔ اسی طرح ' لا یفقہون' کے معنی بھی یہاں اس کے مقابلے میں ایمانی بصیرت سے محرومی ہی کے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ منکرین حق چونکہ اس بصیرت سے محروم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس نعمت سے خوب خوب نوازا ہے، اس لیے تم اگر ہزار کے مقابلے میں سو بھی ہو گے تو اللہ کی نصرت سے تمھیں ان پر غلبہ حاصل ہو جائے گا۔
سورہ کے نظم سے واضح ہے کہ یہ نسبت معرکہئ بدر کے زمانے کی ہے۔ اس کے بعد بہت سے نئے لوگ اسلام میں داخل ہوئے جو عزم و بصیرت کے لحاظ سے 'سابقون الاولون' کے ہم پایہ نہیں تھے۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی تعداد اگرچہ بہت بڑھ گئی، لیکن ایمان کی قوت اس درجے پر نہیں رہی جو 'سابقون الاولون' کو حاصل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اب یہ نسبت ایک اور دو کی ہے، مسلمانوں کے اگر سو ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر اور ہزار ثابت قدم ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غلبہ پا لیں گے۔
نصرت الہٰی کا یہ ضابطہ قدسیوں کی اس جماعت کے لیے بیان ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اور براہ راست اللہ کے حکم سے میدان جہاد میں اتری۔ بعد کے زمانوں میں، اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کی ایمانی حالت کے پیش نظر یہ نسبت کس حد تک کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔
دین کی دعوت و تبلیغ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
''اور سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس کام کے لیے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو انذار کرتے، جب (علم حاصل کر لینے کے بعد) اُن کی طرف لوٹتے، اس لیے کہ وہ بچتے۔'' (التوبہ٩:١٢٢)
دعوت کا یہ حکم علما کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے، لیکن ان کی ہرجماعت میں سے کچھ لوگوں کو لازماً اس مقصد کے لیے نکلنا چاہیے کہ وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی قوم کے لیے نذیر بن کر اسے آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کریں۔
سورہء توبہ کی اس آیت پر غور کیجیے تو اس سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دعوت کا جو حکم اس میں بیان ہوا ہے، اس کا مکلف اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کو قرار نہیں دیا۔ آیت کی ابتدا ہی اس جملے سے ہوئی ہے کہ سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس کام کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ یہ ظاہر ہے کہ ایک بدیہی حقیقت ہے۔ سب لوگ نہ ایک جیسی صلاحیت لے کر پیدا ہوئے ہیں اور نہ اس دنیا میں ایک جیسے مواقع ہی انھیں حاصل ہوتے ہیں۔ دین کا عالم بن کر اپنی قوم کو انذار کیا جائے، اس کی توقع ہر مسلمان سے نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اس آیت میں صاف واضح کر دی ہے کہ تمام مسلمانوں کو نہیں، بلکہ ان کے ہر گروہ میں سے چند لوگوں ہی کو اس کام کے لیے نکلنا چاہیے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ اس کام کے لیے نکلنے کا حوصلہ کریں، ان کے لیے ضروری ہے کہ پہلے دین کا گہرا علم حاصل کریں۔ اس کے لیے آیت میں ' لیتفقھوا فی الدین' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دین میں بصیرت پیدا کریں، اس کے فہم سے بہرہ مند ہوں اور اس کی حقیقتوں کو سمجھیں۔ لوگوں کے لیے اندھے راہ بتانے والے بن کر نہ اٹھیں، بلکہ اٹھنے سے پہلے دین کو اس طرح جان لیں جس طرح کہ اسے جاننے کا حق ہے۔ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قرآن و سنت سے براہ راست تعلق پیدا کرنے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس کام کے لیے اٹھنے والے قرآن و سنت کے علوم میں گہری بصیرت پیدا کریں تاکہ پورے اعتماد کے ساتھ وہ لوگوں کے سامنے دین کی شرح و وضاحت کر سکیں۔
تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ دین کا علم حاصل کر لینے کے بعد دعوت کی جو ذمہ داری انھیں ادا کرنی ہے، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ''انذار'' اور صرف ''انذار''ہے، یعنی یہ کہ حیات اخروی کی تیاریوں کے لیے لوگوں کو بیدار کیا جائے۔ یہ اگر غور کیجیے تو بعینہ وہی کام ہے جو اللہ کے نبی اور رسول اپنی قوم میں کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے بعد ''انذار'' کا کام اس امت کے علما کو منتقل ہوا ہے اور ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری اب قیامت تک انھیں ہی ادا کرنی ہے۔
چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دعوت کے ہر داعی کے لیے اصل مخاطب کی حیثیت اس کی اپنی قوم ہی کو حاصل ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے: 'ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم' ( اور اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتے، جب ان کی طرف لوٹتے )۔ آیت کا یہی حصہ ہے جس سے اس دعوت کا دائرہ بالکل متعین ہو جاتا ہے اور اس چیز کے لیے کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی کہ اس کے داعی اصل حق داروں کو چھوڑ کر یہ دولت جہاں تہاں دوسروں میں بانٹتے پھریں۔
پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دعوت کا مقصد ہر حال میں یہی ہونا چاہیے کہ لوگ اللہ پروردگار عالم کے معاملے میں متنبہ رہیں۔ آیت میں یہ مقصد 'لعلھم یحذرون' ( تا کہ وہ بچیں ) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ یعنی لوگ محتاط رہیں کہ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دین کے جو مطالبات بھی ان سے متعلق ہوتے ہیں، ان کے بارے میں غفلت، تساہل یا تمرد اور سرکشی کا رویہ دنیا اور آخرت میں ان کے لیے ہلاکت کا باعث نہ بن جائے۔ دنیا کی قیادت صالحین کو منتقل ہو جائے، دین کا غلبہ قائم ہو جائے اور اللہ کی بات ہر بات سے اونچی قرار پائے۔ یہ بے شک، ہر داعی کی تمنا ہو سکتی ہے اور ہونی چاہیے، لیکن دعوت کا اصلی مقصد اس آیت کی رو سے یہی ہے کہ لوگ آخرت کے عذاب سے بچیں اور قیامت میں انھیں کسی رسوائی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
منکر کو ہاتھ سے ہٹا دینے کے معنی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
'' تم میں سے کوئی شخص ( اپنے دائرہء اختیار میں ) کوئی برائی دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ ہاتھ سے اس کا ازالہ کرے۔ پھر اگر اس کی ہمت نہ ہو تو زبان سے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے ناگوار سمجھے اور یہ ایمان کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔'' (مسلم، رقم٤٩)
'ان لم یستطع' کے الفاظ یہاں اس استطاعت کے لیے استعمال نہیں ہوئے جو آدمی کو کسی چیز کا مکلف ٹھیراتی ہے، بلکہ ہمت اور حوصلے کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں جو ایمان کی قوت اور کمزوری سے کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا ہرشخص کے دائرہء اختیار میں اس کا پہلا کام یہی ہے کہ خود دین ہی کی کوئی مصلحت مانع نہ ہو تو قوت سے منکر کو مٹا دے۔ زبان سے روکنے کا درجہ اس دائرے میں دوسرا ہے اور دل کی نفرت وہ آخری درجہ ہے کہ آدمی اگر اس پر بھی قائم نہ رہا تو اس کے معنی پھر یہی ہیں کہ ایمان کا کوئی ذرہ بھی اس میں باقی نہیں رہ گیا ہے۔
قرآن کی تصریحات، دین کے مسلّمات، رسولوں کی سیرت اور روایت کے اپنے الفاظ کی روشنی میں اس کی صحیح تاویل یہی ہے جو ہم نے بیان کر دی ہے۔ شوہر، باپ، حکمران سب اپنے اپنے دائرہء اختیار میں لاریب، اسی کے مکلف ہیں کہ منکر کو قوت سے مٹا دیں۔ اس سے کم جو صورت بھی وہ اختیار کریں گے، بے شک، ضعف ایمان کی علامت ہے۔ لیکن اس دائرے سے باہر اس طرح کا اقدام جہاد نہیں، بلکہ بدترین فساد ہے جس کے لیے دین میں ہرگز کوئی گنجایش ثابت نہیں کی جا سکتی۔ قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ داعی کی حیثیت سے خدا کے کسی پیغمبر کو بھی تذکیر اور بلاغ مبین سے آگے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی گئی۔ ارشاد فرمایا ہے:
'' تم نصیحت کرنے والے ہو، تم ان پر کوئی داروغہ نہیں ہو۔ ''(الغاشیہ٨٨: ٢١۔٢٢)
رہن
آدمی سفر میں ہو او رکوئی لکھنے والا نہ ملے تو قرض کا معاملہ رہن قبضہ کرانے کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات، البتہ واضح کر دی گئی ہے کہ رہن کی اجازت صرف اسی وقت تک ہے، جب تک قرض دینے والے کے لیے اطمینان کی صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔ اللہ کا حکم ہے کہ یہ صورت پیدا ہو جائے تو قرض پر گواہی کرا کے رہن رکھی ہوئی چیز لازماً واپس کر دینی چاہیے۔
گواہی / شہادت
دو مردوں اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی کا جو ضابطہ سورہء بقرہ کی آیات ٢٨٢۔ ٢٨٣ میں بیان ہوا ہے، اس کا موقع اگرچہ متعین ہے، لیکن ہمارے فقہا نے اسے جس طرح سمجھا ہے، اس کی بنا پر ضروری ہے کہ یہ دو باتیں اس کے بارے میں بھی واضح کر دی جائیں:
ایک یہ کہ واقعاتی شہادت کے ساتھ اس ضابطے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف دستاویزی شہادت سے متعلق ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ دستاویزی شہادت کے لیے گواہ کا انتخاب ہم کرتے ہیں اور واقعاتی شہادت میں گواہ کاموقع پر موجود ہونا ایک اتفاقی معاملہ ہوتا ہے۔ ہم اگر کوئی دستاویز لکھتے ہیں یا کسی معاملے میں کوئی اقرار کرتے ہیں تو ہمیں اختیار ہے کہ اس پر جسے چاہیں، گواہ بنائیں۔ لیکن زنا، چوری، قتل، ڈاکا اور اس طرح کے دوسرے جرائم میں جو شخص بھی موقع پر موجود ہوتا ہے، وہی گواہ قرار پاتا ہے۔ چنانچہ شہادت کی ان دونوں صورتوں کا فرق اس قدر واضح ہے کہ ان میں سے ایک کو دوسری کے لیے قیاس کا مبنیٰ نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری یہ کہ آیت کے موقع و محل اور اسلوب بیان میں اس بات کی گنجایش نہیں ہے کہ اسے قانون و عدالت سے متعلق قرار دیا جائے۔ اس میں عدالت کو مخاطب کر کے یہ بات نہیں کہی گئی کہ اس طرح کا کوئی مقدمہ اگر پیش کیا جائے تو مدعی سے اس نصاب کے مطابق گواہ طلب کرو۔ اس کے مخاطب ادھار کا لین دین کرنے والے ہیں اور اس میں انھیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر ایک خاص مدت کے لیے اس طرح کا کوئی معاملہ کریں تو اس کی دستاویز لکھ لیں اور نزاع اور نقصان سے بچنے کے لیے ان گواہوں کا انتخاب کریں جو پسندیدہ اخلاق کے حامل، ثقہ، معتبر اور ایمان دار بھی ہوں اور اپنے حالات و مشاغل کے لحاظ سے اس ذمہ داری کو بہتر طریقے پر پورا بھی کر سکتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں اصلاً مردوں ہی کو گواہ بنانے اور دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ گھر میں رہنے والی یہ بی بی اگر عدالت کے ماحول میں گھبراہٹ میں مبتلا ہو تو گواہی کو ابہام و اضطراب سے بچانے کے لیے ایک دوسری بی بی اس کے لیے سہارا بن جائے۔ اس کے یہ معنی، ظاہر ہے کہ نہیں ہیں اور نہیں ہو سکتے کہ عدالت میں مقدمہ اسی وقت ثابت ہو گا، جب کم سے کم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں اس کے بارے میں گواہی دینے کے لیے آئیں۔ یہ ایک معاشرتی ہدایت ہے جس کی پابندی اگر لوگ کریں گے تو ان کے لیے یہ نزاعات سے حفاظت کا باعث بنے گی۔ لوگوں کو اپنی صلاح و فلاح کے لیے اس کا اہتمام بہرحال کرنا چاہیے، لیکن مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ کوئی نصاب شہادت نہیں ہے جس کی پابندی عدالت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی تمام ہدایات کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ طریقہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف ہے، گواہی کو زیادہ درست رکھنے والا ہے اور اس سے شبہوں میں پڑنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
قانون وراثت
١۔ مرنے والے کی اولاد میں اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہی ہو تو لڑکے کو لڑکی کا دونا ملے گا۔
٢۔ لڑکے اور لڑکیاں اس سے زیادہ ہوں تو میت کا ترکہ اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر رہے۔
٣ ۔ اولاد میں صرف لڑکے یا لڑکیاں ہی ہوں تو سارا ترکہ دونوں میں سے جو موجود ہو گا، اسے دیا جائے گا۔ ...اولاد ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے ٦/١ ہے۔ اولاد نہ ہو اور والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لیے٣/١، لیکن اگر بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی ٦/١ ۔...اور باپ کے لیے بھی وہی ٦/١۔...جن رشتہ داروں کو اللہ تعالیٰ نے کسی میت کے وارث قرار دیا ہے، ان کے بارے میں مبنی بر انصاف قانون وہی ہے جو اس نے خود بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ اس کی طرف سے اس قانون کے نازل ہو جانے کے بعد اب کسی مرنے والے کو عام حالات میں اللہ کے ٹھیرائے ہوئے ان وارثوں کے حق میں وصیت کا اختیار باقی نہیں رہا۔ چنانچہ وارثوں کے لیے اگر کوئی وصیت وہ اب کرے گا تو صرف اس صورت میں کرے گا، جب ان میں سے کسی کی کوئی ضرورت یا اس کی کوئی خدمت یا اس طرح کی کوئی دوسری چیز اس کا تقاضا کرتی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آیت میں جس منفعت کے کم یا زیادہ ہونے کا علم اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دیا گیا ہے، وہ رشتہ داری کی منفعت ہے۔ اس کا ان ضرورتوں اور منفعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جو ہمارے لیے معلوم اور متعین ہوتی ہیں۔ ...وراثت کا حق جس بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قرابت نافعہ ہے اور حصوں میں فرق کی وجہ بھی ان کے پانے والوں کی طرف سے مرنے والے کے لیے ان کی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہی ہے۔ چنانچہ لڑکوں کا حصہ اسی بنا پر لڑکیوں سے دوگنا رکھا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ والدین، اولاد، بھائی بہن، میاں بیوی اور دوسرے اقربا کے تعلق میں یہ منفعت بالطبع موجود ہے اور عام حالات میں یہ اسی بنا پر بغیر کسی تردد کے وارث ٹھیرائے جاتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجائے سراسر اذیت بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علت حکم کا یہ بیان تقاضا کرتا ہے کہ اسے وراثت سے محروم قرار دیا جائے۔ ...اور تمھاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو،اس کا نصف تمھیں ملے گا،اگر ان کے اولاد نہیں ہے۔ اور اگر وہ صاحب اولاد ہیں تو ترکے کا ایک چوتھائی حصہ تمھارا ہے جبکہ وصیت جو انھوں نے کی ہو،وہ پوری کر دی جائے اور قرض جو ان کے ذمہ ہو،وہ ادا کر دیا جائے۔ اور ان کے لیے تمھارے ترکے کا چوتھائی ہے، اگر تمھارے اولاد نہیں ہے اور اگر اولاد ہو تو تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ ان کا ہے، جبکہ وصیت جو تم نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض جو تم نے چھوڑا ہو، وہ ادا کر دیا جائے۔ ...بھائی بہن صرف اولاد کی غیرموجودگی میں وارث ہوتے ہیں۔ اولاد موجود ہو تو میت کے ترکہ میں ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، الّا یہ کہ مرنے والا نساء کی آیت ١٢ میں کلالہ کے حکم عام کے تحت ان میں سے کسی کو وارث بنا دے۔
اسلامی ریاست میں قانون سازی کا بنیادی اصول
اللہ و رسول کی یہ حیثیت ابدی ہے کہ جن معاملات میں بھی کوئی حکم انھوں نے ہمیشہ کے لیے دے دیا ہے، ان میں مسلمانوں کے اولوالامر کو،خواہ وہ ریاست کے سربراہ ہوں یا پارلیمان کے ارکان، اب قیامت تک اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اولوالامر کے احکام اس اطاعت کے بعد اور اس کے تحت ہی مانے جا سکتے ہیں۔ اس اطاعت سے پہلے یا اس سے آزاد ہو کر ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ چنانچہ اسلامی ریاست میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو اللہ و رسول کے احکام کے خلاف ہو یا جس میں ان کی ہدایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہو ۔اہل ایمان اپنے اولوالامر سے اختلاف کا حق بے شک، رکھتے ہیں، لیکن اللہ اور رسول سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا، بلکہ اس طرح کا کوئی معاملہ اگر اولوالامر سے بھی پیش آ جائے او راس میں قرآن و سنت کی کوئی ہدایت موجود ہو تو اس کا فیصلہ لازماً اس ہدایت کی روشنی ہی میں کیا جائے گا۔
اسلامی ریاست کے دینی فرائص
سورہء حج کی آیت ٤١ وہ دینی فرائض بیان کرتی ہے جو کسی خطہء ارض میں اقتدار حاصل ہو جانے کے بعد مسلمانوں کے نظم اجتماعی پر عائد ہوتے ہیں۔ نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ ادا کی جائے، بھلائی کی تلقین کی جائے اور برائی سے روکا جائے،یہ چار باتیں اس آیت میں مسلمانوں پر ان کی اجتماعی حیثیت میں لازم کی گئی ہیں۔
مسلمان کی قانونی تعریف
جو لوگ یہ تین شرطیں پوری کر دیں، اس سے قطع نظر کہ اللہ کے نزدیک ان کی حیثیت کیا ہے، قانون و سیاست کے لحاظ سے وہ مسلمان قرار پائیں گے اور وہ تمام حقوق انھیں حاصل ہو جائیں گے جو ایک مسلمان کی حیثیت سے اسلامی ریاست میں ان کو حاصل ہونے چاہییں:
اولاً، کفر و شرک سے توبہ کر کے وہ اسلام قبول کر لیں۔
ثانیاً، اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر نماز کا اہتمام کریں۔
ثالثاً، ریاست کا نظم چلانے کے لیے اس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں۔
فرد سے ریاست کے مطالبات کی حد
اسلامی ریاست اپنے مسلمان شہریوں کو کسی جرم کے ارتکاب سے روک سکتی اور اس پر سزا تو دے سکتی ہے، لیکن دین کے ایجابی تقاضوں میں سے نماز اور زکوٰۃ کے علاوہ کسی چیز کو بھی قانون کی طاقت سے لوگوں پر نافذ نہیں کرسکتی۔ وہ، مثال کے طور پر، انھیں روزہ رکھنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ ان میں سے کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو جانے کے باوجود کہ وہ صاحب استطاعت ہے، اسے حج پر جانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتی۔ جہاد و قتال کے لیے جبری بھرتی کا کوئی قانون نافذ نہیں کر سکتی۔ مختصر یہ کہ جرائم کے معاملے میں اس کا دائرہء اختیار آخری حد تک وسیع ہے، لیکن شریعت کے اوامر میں سے ان دو ــــــ نماز اور زکوٰۃ ــــــ کے سوا باقی سب معاملات میں یہ صرف ترغیب و تلقین اور تبلیغ و تعلیم ہی ہے جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کی اصلاح کے لیے جدوجہد کرسکتی ہے۔ اس طرح کے تمام معاملات میں اس کے سوا کوئی چیز اس کے دائرہء اختیار میں نہیں ہے۔
نظم حکومت
مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی اساس 'امرھم شورٰی بینھم' ہے، اس لیے ان کے امرا و حکام کا انتخاب اور حکومت و امارت کا انعقاد مشورے ہی سے ہو گا اور امارت کا منصب سنبھال لینے کے بعد بھی وہ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اجتماعی معاملات میں مسلمانوں کے اجماع یا اکثریت کی رائے کو رد کر دیں۔
مہر
یہ مہر کیا ہے؟ مردو عورت نکاح کے ذریعے سے مستقل رفاقت کا جو عہد باندھتے ہیں، اس میں نان ونفقہ کی ذمہ داریاں ہمیشہ سے مرد اٹھاتا رہا ہے، یہ اس کی علامت (Token ) ہے۔ قرآن میں اس کے لیے 'صدقۃ ' اور 'اجر' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی وہ رقم جو عورت کی رفاقت کے صلے میں اس کی ضرورتوں کے لیے دی جائے۔ نکاح اور خطبے کی طرح یہ بھی ایک قدیم سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں اسی طرح رائج تھی۔ بائیبل میں بھی اس کا ذکر اسی حیثیت سے ہوا ہے۔ ...مہر کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی گئی۔ اسے معاشرے کے دستور اور لوگوں کے فیصلے پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ عورت کی سماجی حیثیت اور مرد کے معاشی حالات کی رعایت سے وہ جتنا مہر چاہیں، مقرر کر سکتے ہیں۔
خاندان کی سربراہی
انسان کے لیے جدوجہد اور مسابقت کا اصلی میدان اس کی خلقی صفات نہیں ہیں، اس لیے کہ خلقی صفات کے لحاظ سے بعض کو بعض پر فی الواقع ترجیح حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذہنی، کسی کو جسمانی، کسی کو معاشی اور کسی کو معاشرتی برتری کے ساتھ پیدا کیا اور دوسروں کو اس کے مقابلے میں کم تر رکھا ہے۔ مردو عورت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں زوجین کا تعلق ایک کو فاعل اور دوسرے کو منفعل بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ فعلیت جس طرح غلبہ، شدت اور تحکم چاہتی ہے، انفعالیت اسی طرح نرمی، نزاکت اور اثرپزیری کا تقاضا کرتی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ یہ ان کی خلقی صفات ہیں۔ ان میں اگر مسابقت اور تنافس کا رویہ اختیار کیاجائے گا تو یہ فطرت کے خلاف جنگ ہو گی جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ بالآخر دونوں اپنی بربادی کا ماتم کرنے کے لیے باقی رہ جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا میدان بھی ہے اور وہ اکتسابی صفات کا میدان ہے۔ یہ نیکی، تقویٰ، عبادت، ریاضت اور علم و اخلاق کا میدان ہے۔ قرآن نے اس کے لیے جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کی جامع تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ مسابقت اور تنافس کا میدان درحقیت یہی ہے۔ اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں، بلکہ مسابقت اس میدان میں اتنی ہی محمود ہے، جتنی خلقی صفات کے میدان میں مذموم ہے۔ مرد بڑھے تو اسے بھی اپنی جدوجہد کا پھل ملے گا اور عورت بڑھے تو وہ بھی اپنی تگ و دو کا ثمرہ پائے گی۔ بانو، باندی، آزاد، غلام، شریف، وضیع، خوب صورت، بدصورت اور بینا و نابینا، سب کے لیے یہ میدان یکساں کھلا ہو اہے۔ دوسروں پر فضیلت کی خواہش ہو تو انسان کو اس میدان میں خدا کا فضل تلاش کرنے کے لیے نکلنا چاہیے۔ اپنی محنت غلط میدان میں بربادکرنے سے لاحاصل تصادم اور بے فائدہ تنازعات کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ حوصلہ آزمانے اور ارمان نکالنے کے لیے صحیح میدان یہ ہے۔ جس کو اترنا ہو، وہ اس میدان میں اترے۔
خاندان کا ادارہ بھی، اگر غور کیجیے تو ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے، اسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے۔ سربراہی کا مقام اس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا تھا اور عورت کو بھی۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ مرد کو دیا گیا ہے۔ سورہء نساء کی آیت ٣٤ میں اس کے لیے ' قوامون علی النساء' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان میں ' قام' کے بعد 'علی' آتاہے تو اس میں حفاظت، نگرانی، تولیت اور کفالت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔ سربراہی کی حقیقت یہی ہے اور اس میں یہ سب چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔
تعدد ازواج
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
''اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کی ) جو (مائیں) تمھارے لیے جائز ہوں، اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو۔ پھر اگر اِس بات کا ڈر ہو کہ (اِن کے درمیان ) انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی یا پھر وہ جو ملک یمین کی بنا پر تمھارے قبضے میں ہوں۔ یہ اِس بات کے زیادہ قرین ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو۔ اور اِن عورتوں کو بھی اِن کے مہر دو، اُسی طرح جس طرح مہر دیا جاتا ہے۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اُسے شوق سے کھالو۔ '' (النساء ٤:٣۔٤ )
اس آیت کے مخاطب یتیموں کے سرپرست ہیں۔ اس میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ یتیموں کے اموال و املاک اور حقوق کی نگہداشت جیسی کچھ ہونی چاہیے، وہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور وہ تنہااس ذمہ داری سے حسن و خوبی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہو سکتے تو انھیں چاہیے کہ ان کی ماؤں میں سے جو ان کے لیے جائز ہوں، ان کے ساتھ نکاح کر لیں۔ وہ اگر اس ذمہ داری میں شریک ہو جائیں گی تو وہ زیادہ بہتر طریقے پر اسے پورا کر سکیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیموں کے ساتھ جو دلی تعلق ان کی ماؤں کو ہو سکتا ہے اور ان کے حقوق کی نگہداشت جس بے داری کے ساتھ وہ کر سکتی ہیں، وہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔
اس سے واضح ہے کہ یہ آیت اصلاً تعدد ازواج سے متعلق کوئی حکم بیان کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی، بلکہ یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر تعدد ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب کے لیے نازل ہوئی ہے جو عرب میں پہلے سے موجود تھا۔ قرآن نے دوسرے مقامات پر صاف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے، اس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مردو عورت میں رشتہئ نکاح سے قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسانیت کی ابتدا سیدنا آدم سے ہوئی ہے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی بیوی پیدا کی تھی۔ یہ تمدن کی ضروریات اور انسان کے نفسی، سیاسی اور سماجی مصالح ہیں جن کی بنا پر تعدد ازواج کا رواج کم یا زیادہ،ہر معاشرے میں رہا ہے اور انھی کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کسی شریعت میں اسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ یہاں بھی اسی نوعیت کی ایک مصلحت میں اس سے فائدہ اٹھانے کی طرف رہ نمائی فرمائی گئی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ دو شرطیں اس پر عائد کر دی ہیں:
ایک یہ کہ یتیموں کے حقوق کی نگہداشت جیسی مصلحت کے لیے بھی عورتوں کی تعداد کسی شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ ١٤؎
دوسری یہ کہ بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ آدمی اگر اسے پورا نہ کرسکتا ہو تو اس طرح کی کسی اہم دینی مصلحت کے پیش نظر بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے۔
طلاق
میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکے تو انبیا علیہم السلام کے دین میں علیحدگی کی گنجایش ہمیشہ رہی ہے۔ اصطلاح میں اسے طلاق کہا جاتا ہے۔...
طلاق سے پہلے: طلاق کا یہ حکم جس صورت حال سے متعلق ہے، اس کی نوبت پہنچنے سے پہلے ہر شخص کی خواہش ہونی چاہیے کہ جو رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو گیا ہے، اسے ممکن حد تک ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کی جائے۔ سورہء نساء میں اللہ تعالیٰ نے اسی بنا پر شوہر کو اجازت دی ہے کہ وہ بیوی کے نشوز پر اس کی تادیب کر سکتا ہے۔ لیکن اصلاح کی تمام ممکن تدابیر اختیار کر لینے کے بعد بھی اگر صورت حال بہتر نہیں ہوتی اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ رشتہ قائم نہ رہ سکے گا تو طلاق سے پہلے آخری تدبیر کے طور پر اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے قبیلہ،برادری اور ان کے رشتہ داروں اور خیر خواہوں کو اسی سورہ میں ہدایت فرمائی ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر معاملات کو سدھارنے کی کوشش کریں۔
طلاق کا حق: طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ عورت کی حفاظت اور کفالت کی ذمہ داری ہمیشہ سے مرد پر ہے اور اس کی اہلیت بھی قدرت نے اسے ہی دی ہے۔ قرآن نے اسی بنا پر اسے قوام قرار دیا اور بقرہ ہی کی آیت ٢٢٨ میں بہ صراحت فرمایا ہے کہ ' لِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ ' (شوہروں کو ان پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے)۔ چنانچہ ذمہ داری کی نوعیت اور حفظ مراتب،دونوں کا تقاضا ہے کہ طلاق کا اختیار بھی شوہر ہی کو دیا جائے۔
اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ عورت اگر علیحدگی چاہے تو وہ طلاق دے گی نہیں، بلکہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پا کر یہ مطالبہ مان لے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت عدالت سے رجوع کر سکتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو عدالتوں کے لیے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ اتنی بات اگر متحقق ہو جاتی ہے کہ عورت اپنے شوہر سے بے زار ہے اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی توشوہر کو حکم دیا جائے کہ اس نے مہر کے علاوہ کوئی مال یا جائداد اگر بیوی کو دی ہوئی ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے تو واپس لے کر اسے طلاق دے دے۔
طلاق کا طریقہ:
شوہر خود طلاق دے یا بیوی کے مطالبے پر اسے علیحدہ کر دینے کا فیصلہ کرے، دونوں ہی صورتوں میں اس کا جو طریقہ ان آیات میں بتایا گیا ہے، وہ یہ ہے:
١۔ طلاق عدت کے لحاظ سے دی جائے گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی کو فوراً علیحدہ کر دینے کے لیے طلاق دینا جائز نہیں ہے۔ یہ جب دی جائے گی، ایک متعین مدت کے پورا ہو جانے پر مفارقت کے ارادے سے دی جائے گی۔ عدت کا لفظ اصطلاح میں اس مدت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں بیوی شوہر کی طرف سے طلاق یا اس کی وفات کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح نہیں کر سکتی۔ یہ مدت چونکہ اصلاً مقرر ہی اس لیے کی گئی ہے کہ عورت کے پیٹ کی صورت حال پوری طرح واضح ہو جائے، اس لیے ضروری ہے کہ بیوی کو حیض سے فراغت کے بعد اور اس سے زن و شو کا تعلق قائم کیے بغیر طلاق دی جائے۔ ہر مسلمان کو اس معاملے میں اس غصے کے باوجود جو اس طرح کے موقعوں پر بیوی کے خلاف پیدا ہو جاتا ہے، اللہ، اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔
٢۔ عدت کے پورا ہونے تک شوہر کو رجوع کا حق ہے۔ ' فاذا بلغن اجلھن، فامسکوھن بمعروف، او فارقوھن بمعروف' (پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمے تک پہنچ جائیں تو یا انھیں بھلے طریقے سے نکاح میں رکھویا بھلے طریقے سے الگ کردو) کے الفاظ میں یہ بات قرآن نے ان آیات میں واضح کر دی ہے۔ پھر سورہء بقرہ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کی طرح رجوع کا یہ حق بھی شوہر کو اس لیے دیا گیا ہے کہ خاندان کے نظم کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بیوی کے مقابلے میں اس کے لیے ایک درجہ ترجیح کا رکھا ہے۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حقوق صرف شوہروں کے ہیں، بیویوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے کہ عورتوں پر جس طرح ان کے شوہروں سے متعلق حقوق ہیں،اسی طرح ان کے بھی حقوق ہیں۔ بنی آدم کے لیے یہ حقوق کوئی اجنبی چیز نہیں ہیں۔ وہ ان سے ہمیشہ واقف رہے ہیں۔ لہٰذا شوہروں کا فرض ہے کہ وہ اپنے حقوق کے مطالبے کے ساتھ دستور کے مطابق بیوی کے حقوق کا بھی لحاظ کریں۔
٣۔ شوہر رجوع نہ کرے تو عدت کے پورا ہو جانے پر میاں بیوی کا رشتہ ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ہدایت فرمائی ہے کہ یہ خاتمے کو پہنچ رہی ہو تو شوہر کو فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اسے بیوی کو روکنا ہے یا رخصت کردینا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں اللہ کا حکم ہے کہ معاملہ معروف کے مطابق، یعنی بھلے طریقے سے کیا جائے۔
٤۔ عدت کے دوران میں شوہر رجوع کر لے تو عورت بدستور اس کی بیوی رہے گی، لیکن اس کے معنی کیا یہ ہیں کہ شوہر اسی طرح جب چاہے بار بار طلاق دے کر عدت میں رجوع کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب قرآن نے یہ دیا ہے کہ طلاق اور طلاق کے بعد رجوع کا یہ حق ہر شخص کو ایک رشتہئ نکاح میں دو مرتبہ حاصل ہے: اَلطَّلَاقُ مَرَّاتانِ، فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ، اَوْتَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ ' (اس طلاق کا حق دو مرتبہ ہے، پھر بھلے طریقے سے روک لینا ہے یا خوبی کے ساتھ رخصت کر دینا ہے)۔ یعنی آدمی طلاق دے کر رجوع کر لے تو عورت کے ساتھ اس کی پوری ازدواجی زندگی میں اس کو ایک مرتبہ پھر اسی طرح طلاق دے کر عدت کے دوران میں رجوع کر لینے کا حق حاصل ہے،لیکن اس کے بعد یہ حق باقی نہیں رہتا۔ چنانچہ ایک رشتہء نکاح میں دو مرتبہ رجوع کے بعد تیسری مرتبہ پھر علیحدگی کی نوبت آ گئی اور شوہر نے طلاق دے دی تو اس کے نتیجے میں عورت ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو جائے گی، الا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ ہو اور وہ بھی اسے طلاق دے دے۔
٥۔ شوہر طلاق دے یا رجوع کرے، دونوں ہی صورتوں میں فرمایا ہے کہ اپنے اس فیصلے پر وہ دو ثقہ مسلمانوں کو گواہ بنا لے اور گواہوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ کے لیے اپنی اس گواہی پر قائم رہیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بعد میں کسی بات کا انکار نہ کرے اور اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو اس کا فیصلہ آسانی کے ساتھ ہو جائے۔ مزید یہ کہ اس معاملے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں اور لوگوں کے لیے ہر چیز بالکل واضح اور متعین رہے۔
یہ طلاق کا صحیح طریقہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے مطابق اپنی بیوی کو علیحدہ کرتایا علیحدگی کا فیصلہ کر لینے کے بعد اس کی طرف مراجعت کرتا ہے تو اس کے یہ فیصلے شرعاً نافذ ہو جائیں گے، لیکن کسی پہلو سے اس کی خلاف ورزی کر کے اگر طلاق دی جاتی ہے تو یہ پھر ایک قضیہ ہے جس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
متعہ اور حلالہ
نکاح کی اصل فطرت یہی ہے کہ وہ زندگی بھر کے سنجوگ کے ارادے کے ساتھ عمل میں آئے۔ اگر کوئی نکاح واضح طور پر محض ایک معین و مخصوص مدت تک ہی کے لیے ہو تو اس کو متعہ کہتے ہیں او رمتعہ اسلام میں قطعی حرام ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس نیت سے کسی عورت سے نکاح کرے کہ اس نکاح کے بعد طلاق دے کر وہ اس عورت کو اس کے پہلے شوہر کے لیے جائز ہونے کا حیلہ فراہم کرے تو شریعت کی اصطلاح میں یہ حلالہ ہے اور یہ بھی اسلام میں متعہ ہی کی طرح حرام ہے۔ جو شخص کسی کی مقصد بر آری کے لیے یہ ذلیل کام کرتا ہے، وہ درحقیقت ایک قرم ساق یا بھڑوے یا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے ' کرایے کے سانڈ ' کا رول ادا کرتا ہے اور ایسا کرنے والے اور ایسا کروانے والے پر اللہ کی لعنت ہے۔
مردو زن کا اختلاط
اخلاقی مفاسد سے معاشرے کی حفاظت اور باہمی تعلقات میں دلوں کی پاکیزگی قائم رکھنے کے لیے اختلاط مردو زن کے آداب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مقرر فرمائے ہیں۔ سورہء نور کی آیات ٢٧۔٣١ میں یہ اس تنبیہ کے ساتھ بیان ہوئے ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں جانے اور ملنے جلنے کا یہی طریقہ لوگوں کے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ وہ اگر اسے ملحوظ رکھیں گے تو یہ ان کے لیے خیرو برکت کا باعث ہو گا۔ لیکن اس میں ایک ضروری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ کو علیم و خبیر سمجھتے ہوئے اس طریقے کی پابندی کریں اور اس بات پر ہمیشہ متنبہ رہیں کہ ان کا پروردگار ان کے عمل ہی سے نہیں، ان کی نیت اور ارادوں سے بھی پوری طرح واقف ہے۔
یہ آداب درج ذیل ہیں:
١۔ ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی ضرورت پیش آ جائے تو بے دھڑک اور بے پوچھے اندر داخل ہونا جائز نہیں ہے۔ اس طرح کے موقعوں پر ضروری ہے کہ آدمی پہلے گھر والوں کو اپنا تعارف کرائے،جس کا شایستہ او رمہذب طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا جائے۔ اس سے گھر والے معلوم کر لیں گے کہ آنے والا کون ہے، کیا چاہتا ہے اور اس کا گھر میں داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں۔ اس کے بعد اگر وہ سلام کا جواب دیں اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو، اجازت دینے کے لیے گھر میں کوئی موجود نہ ہو یا موجود ہو اور اس کی طرف سے کہہ دیا جائے کہ اس وقت ملنا ممکن نہیں ہے تو دل میں کوئی تنگی محسوس کیے بغیر واپس چلا جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی وضاحت میں فرمایا ہے کہ اجازت کے لیے تین مرتبہ پکارو، اگر تیسری مرتبہ پکارنے پر بھی جواب نہ ملے تو واپس ہو جاؤ۔
اسی طرح آپ کا ارشاد ہے کہ اجازت عین گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر اور اندر جھانکتے ہوئے نہیں مانگنی چاہیے، اس لیے کہ اجازت مانگنے کا حکم تو دیا ہی اس لیے گیا ہے کہ گھر والوں پر نگاہ نہ پڑے۔
٢۔ ان جگہوں کے لیے یہ پابندی، البتہ ضروری نہیں ہے جہاں لوگوں کے بیوی بچے نہ رہتے ہوں۔ قرآن نے اس کے لیے ' بیوتًا غیر مسکونۃ ' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یعنی ہوٹل، سرائے، مہمان خانے، دکانیں، دفاتر، مردانہ نشست گاہیں وغیرہ۔ ان میں اگر کسی منفعت اور ضرورت کا تقاضا ہو تو آدمی اجازت کے بغیر بھی جا سکتا ہے۔ اجازت لینے کی جو پابندی اوپر عائد کی گئی ہے، وہ ان جگہوں سے متعلق نہیں ہے۔
٣۔ دونوں ہی قسم کے مقامات پر اگر عورتیں موجود ہوں تو اللہ کا حکم ہے کہ مرد بھی اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور عورتیں بھی۔ اس کے لیے اصل میں 'یغضوا من ابصارھم ' کے الفاظ آئے ہیں۔ نگاہوں میں حیا ہو اور مردو عورت ایک دوسرے کے حسن و جمال سے آنکھیں سینکنے، خط و خال کا جائزہ لینے اور ایک دوسرے کو گھورنے سے پرہیز کریں تو اس حکم کا منشا یقینا پورا ہو جاتا ہے، اس لیے کہ اس سے مقصود نہ دیکھنا یا ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے، بلکہ نگاہ بھر کر نہ دیکھنا اور نگاہوں کو دیکھنے کے لیے بالکل آزاد نہ چھوڑ دینا ہے۔ اس طرح کا پہرا اگر نگاہوں پر نہ بٹھایا جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں یہ آنکھوں کی زنا ہے۔ اس سے ابتدا ہو جائے تو شرم گاہ اسے پورا کر دیتی ہے یا پورا کرنے سے رہ جاتی ہے۔ چنانچہ یہی نگاہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اسے فوراً پھیر لینا چاہیے۔
٤۔ اس طرح کے موقعوں پر شرم گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ تعبیر ناجائز شہوت رانی سے پرہیز کے لیے اختیار کی گئی ہے، لیکن سورہء نور کی ان آیات میں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد عورتوں اور مردوں کا اپنے صنفی اعضا کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ مردو زن ایک جگہ موجود ہوں تو چھپانے کی جگہوں کو اور بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ چھپانا چاہیے۔ اس میں ظاہر ہے کہ بڑا دخل اس چیز کو ہے کہ لباس باقرینہ ہو۔ عورتیں او رمرد، دونوں ایسا لباس پہنیں جو زینت کے ساتھ صنفی اعضا کو بھی پوری طرح چھپانے والا ہو۔ پھر ملاقات کے موقع پر اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اٹھنے بیٹھنے میں کوئی شخص برہنہ نہ ہونے پائے۔ شرم گاہوں کی حفاظت سے یہاں قرآن کا مقصود یہی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرت میں غض بصر کے ساتھ یہ چیز بھی پوری طرح ملحوظ رکھی جائے۔
٥۔ عورتوں کے لیے، بالخصوص ضروری ہے کہ وہ زیب و زینت کی کوئی چیز اپنے قریبی اعزہ اور متعلقین کے سوا کسی شخص کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں۔ اس سے زیبایش کی وہ چیزیں، البتہ مستثنیٰ ہیں جو عادۃً کھلی ہوتی ہیں۔ یعنی ہاتھ، پاؤں اور چہرے کا بناؤ سنگھار اور زیورات وغیرہ۔ اس کے لیے اصل میں 'الا ما ظھر منھا' کے جو الفاظ آئے ہیں، ان کا صحیح مفہوم عربیت کی رو سے وہی ہے جسے زمخشری نے ' الا ما جرت العادۃ والجبلۃ علی ظھورہ والاصل فیہ الظھور' کے الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔ یعنی وہ اعضا جنھیں انسان عادۃً اور جبلی طور پر چھپایا نہیں کرتے اور وہ اصلاً کھلے ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان اعضا کے سوا باقی ہر جگہ کی زیبایش عورتوں کو چھپا کر رکھنی چاہیے، یہاں تک کہ مردوں کی موجودگی میں اپنے پاؤں زمین پر مار کر چلنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ ان کی چھپی ہوئی زینت ظاہر نہ ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پرعورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے کو سخت ناپسند فرمایا ہے۔
جن اعزہ اور متعلقین کے سامنے اظہار زینت کی یہ پابندی نہیں ہے، وہ یہ ہیں:
١۔ شوہر، ب۔ باپ، ج۔ شوہروں کے باپ، د۔ بیٹے، ہ۔ شوہروں کے بیٹے، و۔ بھائی، ز۔بھائیوں کے بیٹے، ح۔ بہنوں کے بیٹے، ط۔ اپنے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتیں، ی۔ غلام، ک۔ وہ لوگ جو گھر والوں کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور زیردستی کے باعث یا کسی اور وجہ سے انھیں عورتوں کی طرف رغبت نہ ہو سکتی ہو،ل۔بچے جو ابھی بلوغ کے تقاضوں سے واقف نہ ہوئے ہوں۔
٦۔ عورت کا سینہ بھی چونکہ صنفی اعضا میں سے ہے، پھر گلے میں زیورات بھی ہوتے ہیں، اس لیے ایک مزید ہدایت یہ فرمائی ہے کہ اس طرح کے موقعوں پر اسے دوپٹے سے ڈھانپ لینا چاہیے۔ اس سے، ظاہر ہے کہ گریبان بھی فی الجملہ چھپ جائے گا۔ یہ مقصد اگر دوپٹے کے سوا کسی اور طریقے سے حاصل ہو جائے تو اس میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ مدعا یہی ہے کہ عورتوں کو اپنا سینہ اور گریبان مردوں کے سامنے کھولنا نہیں چاہیے، بلکہ اس طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے کہ نہ وہ نمایاں ہو اور نہ اس کی زینت ہی کسی پہلو سے نمایاں ہونے پائے۔
عام حالات میں آداب یہی ہیں،لیکن مدینہ میں جب اشرار نے مسلمان شریف زادیوں پر تہمتیں تراشنا اور انھیں تنگ کرنا شروع کیا تو سورہء احزاب میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، آپ کی بیٹیوں اور عام مسلمان خواتین کو مزید یہ ہدایت فرمائی کہ اندیشے کی جگہوں پر جاتے وقت وہ اپنی کوئی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں تاکہ دوسری عورتوں سے الگ پہچانی جائیں اور ان کے بہانے سے کوئی انھیں اذیت نہ دے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورتیں جب رات کی تاریکی میں یا صبح منہ اندھیرے رفع حاجت کے لیے نکلتی تھیں تو یہ اشرار ان کے درپے آزار ہوتے اور اس پر گرفت کی جاتی تو فوراً کہہ دیتے تھے کہ ہم نے تو فلاں اور فلاں کی لونڈی سمجھ کر ان سے فلاں بات معلوم کرنا چاہی تھی۔
سورہء احزاب کی آیت ٥٨ میں 'ان یعرفن فلا یوذین' کے الفاظ اور ان کے سیاق و سباق سے بالکل واضح ہے کہ یہ کوئی مستقل حکم نہ تھا، بلکہ ایک وقتی تدبیر تھی جو اوباشوں کے شرسے مسلمان عورتوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی نوعیت کی بعض مصلحتوں کے پیش نظر، عورتوں کو تنہا لمبا سفر کرنے اور راستوں میں مردوں کے ہجوم کا حصہ بن کر چلنے سے منع فرمایا۔ لہٰذامسلمان خواتین کو اگر اب بھی اس طرح کی صورت حال کسی جگہ درپیش ہو تو وہ ایسی کوئی تدبیر دوسری عورتوں سے اپنا امتیاز قائم کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے اختیار کر سکتی ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی رعایت سے اور خاص آپ کی ازواج مطہرات کے لیے بھی اس سلسلہ کی بعض ہدایات اسی سورہء احزاب میں بیان ہوئی ہیں۔ عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے ان ہدایات کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
غلامی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
''اور تمھارے غلاموں میں سے جومکاتبت چاہیں، اُن سے مکاتبت کر لو، اگر اُن میں بھلائی دیکھتے ہو اور ( اِس کے لیے) اللہ کا وہ مال اُنھیں دو جو اُس نے تمھیں عطا فرمایا ہے۔'' (النور٤٢: ٣٣)
سورہء نور کی اس آیت میں غلاموں سے مکاتبت کا حکم بیان ہوا ہے۔ قرآن کے زمانہء نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا، جس طرح اب سود کو سمجھا جاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خریدو فروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ اس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو ان کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی اس کے سوا کوئی صورت باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اور عورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔ یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر یہ قانون نازل فرمایا۔ اس میں مکاتبت کا جو لفظ استعمال ہوا ہے،یہ ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی غلام اپنے مالک سے یہ معاہدہ کر لے کہ وہ فلاں مدت میں اس کو اتنی رقم ادا کرے گایا اس کی کوئی متعین خدمت انجام دے گا اور اس کے بعد آزاد ہو جائے گا۔ سورہء نور کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ وہ اگر یہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس کی یہ درخواست لازماً قبول کر لی جائے۔ اس کے ساتھ مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ وہ بیت المال سے، جسے یہاں اللہ کا مال کہا گیا ہے، اس طرح کے غلاموں کی مدد کریں ۔ آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ مکاتبت کا یہ حق جس طرح غلاموں کو دیا گیا ہے، اسی طرح لونڈیوں کو بھی دیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی آزادی کی تحریراس پر جب چاہیں، رقم کر سکتے ہیں۔
غلامی سے متعلق یہ آخری حکم ہے۔ اس سے پہلے جو ہدایات وقتاً فوقتاً دی گئیں اور جن سے بتدریج اس رواج کو مسلمانوں کے معاشرے سے ختم کرنا ممکن ہوا، وہ یہ ہیں:
١۔ قرآن نے اپنی دعوت کی ابتدا ہی میں غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا اور لوگوں کو نہایت موثر الفاظ میں اس کی ترغیب دی۔ چنانچہ اس کے لیے ' فَکُّ رَقَبَۃٍ ' یعنی گردنیں چھڑانے کی تعبیر اختیار کی گئی جس کی تاثیر کا اندازہ ہر صاحب ذوق بہ آسانی کر سکتا ہے۔ قرآن میں جہاں یہ الفاظ آئے ہیں، وہاں سیاق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حصول سعادت کی راہ میں سب سے بڑا اور پہلا قدم قرار دیا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طریقے سے لوگوں کو اس کی ترغیب دی اور فرمایا: جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے ہر عضو کو دوزخ سے نجات دے گا۔
٢۔ لوگوں کو تلقین کی گئی کہ جب تک وہ انھیں آزاد نہیں کرتے، ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ زمانہء جاہلیت میں ان کے مالک جس طرح خود مختار اور مطلق العنان تھے، اسے ختم کر دیا گیا اور انھیں بتایا گیا کہ غلام بھی انسان ہیں اور ان کے انسانی حقوق کے خلاف کوئی رویہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔
٣۔ قتل خطا، ظہار اور اس طرح کے بعض دوسرے گناہوں میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ اور صدقہ قرار دیا گیا۔
٤۔ تمام ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کر دینے کی ہدایت کی گئی تا کہ وہ اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے دوسروں کے برابر ہو سکیں۔
٥۔ یہ نکاح اگر دوسروں کی لونڈیوں سے کیا جائے تو اس میں چونکہ نکاح اور ملکیت کے حقوق میں تصادم کا اندیشہ تھا،اس لیے احتیاط کی تاکید کی گئی۔ تاہم انھیں اجازت دی گئی کہ وہ اگر آزاد عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہیں رکھتے تو ان لونڈیوں میں سے جو مسلمان ہوں اور پاک دامن رکھی گئی ہوں، ان کے مالکوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کر لیں۔ پھر اس نکاح میں بھی حکم دیا گیا کہ ان کا مہر انھیں لازماً دیا جائے تاکہ بتدریج وہ آزاد عورتوں کے معیار پر آ جائیں۔
٦۔ زکوٰۃ کے مصارف میں ایک مستقل مد 'فِی الرِّقَابِ' بھی رکھی گئی تاکہ غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی اس مہم کو بیت المال سے بھی تقویت بہم پہنچائی جائے۔
٧۔ زنا کو جرم قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے تمام اڈے آپ سے آپ بند ہو گئے اور اگر کسی نے خفیہ طریقے سے اس کاروبار کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو اسے نہایت عبرت ناک سزا دی گئی۔
٨۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ سب اللہ کے غلام ہیں،لہٰذالونڈیوں اور غلاموں کے لیے 'عبد' ا ور 'امۃ' کے الفاظ استعمال کرنے کے بجائے 'فتی' ا ور ' فتاۃ ' کے الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ ان کے بارے میں لوگوں کی نفسیات بدلے اور صدیوں سے جو تصورات قائم کر لیے گئے ہیں، وہ تبدیل ہو جائیں۔
٩۔ غلاموں کے فراہم ہونے کا ایک بڑا ذریعہ اس زمانے میں اسیران جنگ تھے۔ مسلمانوں کے لیے اس کا موقع پیدا ہوا تو قرآن نے واضح کر دیا کہ جنگی قیدیوں کے معاملے میں دو ہی صورتیں ہوں گی: انھیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا یا بغیر کسی معاوضے کے احسان کے طو رپر رہا کیا جائے گا۔ ان کے علاوہ کوئی صورت اب مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رہی۔
__________