امام النواصب جاوید غامدی

Published On December 2, 2024
سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

حسن بن علی غامدی صاحب کا فکر فراہی کے تحت یہ دعوی ہے کہ حدیث قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کر سکتی (نہ تخصیص کر سکتی ہے نہ تنسیخ) اور چونکا رسول کی ذمہ داری بیان احکام مقرر کی گئی ہے (لتبين للناس ما نزل عليهم؛ ترجمہ: تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کر دیں جو آپ پر نازل ہوا) اور...

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

مفتی منیب الرحمن معراج کب ہوئی‘ اس کے بارے میں ایک سے زائدا قوال وروایات ہیں ‘ لیکن روایات کا یہ اختلاف واقعہ کی حقانیت پر اثرانداز نہیں ہوتا‘ کیونکہ اصل مقصود واقعے کا حق ہونا اور اس کا بیان ہے‘ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے تاریخ کا بیان ثابت نہیں ہے‘...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

مفتی منیب الرحمن جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :۔ چوں فنا اندر رضائے حق شود  بندۂ مومن قضائے حق شود  یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروقؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

مفتی منیب الرحمن دعا بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہوحتیٰ کہ گونگا بھی ہو‘ وہ اپنے رب سے براہِ راست التجا کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی...

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

ناقد : کاشف علی تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو...

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء   غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل...

احمد الیاس

ہر ضلالت کی طرح ناصبیت بھی اپنی ہر بات کی تردید خود کرتی ہے۔ ایک طرف یہ ضد ہے کہ سسر اور برادر نسبتی کو بھی اہلبیت مانو، دوسری طرف انتہاء درجے کی بدلحاظی اور بدتمیزی کے ساتھ امام النواصب جاوید غامدی کہتے ہیں کہ داماد اہلبیت میں نہیں ہوتا لہذا علی بن ابی طالب اہلبیت میں نہیں ہیں۔

یہ بات تو دین کی تھوڑی سی فہم رکھنے والا ایک ذہین بچہ بھی بخوبی سمجھتا ہے کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم دامادِ رسول ہونے سے پہلے رسول اللہ کے بھائی اور بیٹے ہیں۔ اہلبیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مولا علی کا داخلہ سیدّہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے نکاح کے سبب نہیں ہوا۔ آپ اپنی ولادت کے دن سے اہلبیت میں داخل تھے، صرف آپ نہیں بلکہ آپ کے والدین بھی اہلبیت کا حصہ ہیں۔

دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی فضیلت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلتوں میں بہت بعد میں آتی ہے۔ مولا کی اولین فضیلت اللہ کا خاص اور مقرب بندہ اور اس کے دین کا بے مثال حامی و مددگار ہونا ہے۔ باقی سب فضیلتیں (بشمول رکنیتِ اہلبیتِ رسول) اس کے بعد آتی ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ رسول اللہ ص کی عائلی زندگی کے معاملات عام لوگوں کی طرح ہرگز نہیں۔ عام مسلمان بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتا اور عام شخص کی نسل بیٹی سے نہیں، صرف بیٹے سے چلتی ہے۔ رسول اللہ ص کے معاملے میں یہ دونوں اصول اللہ کے حکم سے لاگو نہیں ہوتے۔ بالکل اس طرح آپ کے اہلبیت کو بھی عربیت یا عُرف کے حوالے سے دیکھنا کھلی جہالت ہے۔

رسول اللہ ص کے اہلبیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے وہ اپنے اہلبیت میں کہیں۔ مولا علی تو رسول اللہ کے خونی رشتے دار ہیں، ہم تو زید بن حارث، اسامہ بن زید اور سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اہلبیت میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں مگر اہلبیت کا مغز، اہلبیت کا وہ حصہ جسے اللہ نے رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔۔۔ اہل کسا، اہل مباہلہ یعنی علی و فاطمہ اور حسنین ہی ہیں۔

امہات المومنین کے اہلبیت میں سے ہونے میں بھی کوئی شک نہیں لیکن غامدی صاحب سے کروڑ درجے بہتر فہم دین رکھنے والے امام بخاری رح نے احادیث کے جو ابواب بنائے ہیں ان میں فضائل اہلبیت کی کئی خاص نوعیت کی عمومی احادیث (جن کا تعلق اہلبیت کے مرکز رشد و ہدایت ہونے سے ہے) امہات المومنین کے باب میں نہیں، حسنین کریمین کے باب میں ڈالی ہیں، حالانکہ ان میں حسنین کا نام لے کر ذکر بھی نہیں۔ یہی طرز عمل محدثین کے استاد امام احمد بن حنبل کے ہاں نظر آتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.