امام النواصب جاوید غامدی

Published On December 2, 2024
علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

علامہ غامدی اور امت کے اجماعی مسائل

 ناقد : مولانا الیاس گھمن تلخیص : زید حسن   غامدی صاحب نے دین کو بگاڑ کر پیش کیا ہے ۔ اور وہ بدعت کا نہیں الحاد کا فتنہ ہیں  کیونکہ شریعت کے ثابت شدہ مسئلے کا انکار الحاد ہے ۔ غامدی صاحب نے بھی بہت سے مسلم مسائل کا انکار کیا ہے ۔ انکے نظریات کی مثالیں   انکی اپنی...

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

غامدی صاحب کی انتہاپسندی

 محمد عبدالاکرم سہیل محترم جاوید احمد غامدی علم دین کے اعتبار سے دنیا کی ایک قابل قدر شخصیت ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں فرقہ بندی کو مٹانے کیلئے آپ نے جس کار تجدید کا کام انجام دیا ہے اور دین پر بات کرنے کاجو ڈھنگ آپ نے سکھایا ہے وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے اور شاید...

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

غلبہء دین اور جاوید احمد غامدی

شبیع الزمان  مسلمانوں کے اجتمائی ظہور کی جتنی کچھ عملی شکلیں ممکن ہو سکتی تھیں،نظم جماعت،قوم یا ریاست ان تمام سے متعلق غامدی صاحب کو جمہور علماء کے تصور سے اختلاف ہے۔نہ ہی وہ اجتماعت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی قومیت کی بناء اسلام تسلیم کرتے ہیں۔اپنی کتاب ’مقامات‘ میں...

قائلینِ جوازِ موسیقی  کے استدلالات کا جواب

قائلینِ جوازِ موسیقی کے استدلالات کا جواب

ناقد : مفتی یاسر ندیم تلخیص : زید حسن ایک  میوزیک کمپوزر  ( جو موسیقی کے جواز و عدمِ جواز کی بابت جاننے کے متمنی تھے)کے سوال کے جواب میں سپیکر نے  غامدی صاحب کے موسیقی کی بابت جواز کے تصور پر نقد کیا ہے ۔ سپیکر نے اشراق میں غامدی صاحب کے مضامین کا حوالہ دیتے ہوئے...

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

فکرِ غامدی ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول : ایک نقد (قسط دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم جاوید احمد غامدی کی کتاب میزان کے باب مبادی تدبر قرآن کا دوسرا اور تیسرا اصول "زبان کی ابانت " اور "اسلوب کی ندرت "زیر بحث لائیں گے۔زبان کی ابانت:غامدی صاحب اس بارے لکھتے ہیں کہ "قرآن عربی میں نازل ہوا ہے...

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

جاوید غامدی اور انکارِ حدیث

مصنف : پروفیسر محمد رفیق تلخیص : زید حسن اس کتاب میں ایک مقدمہ اور چودہ ابواب ہیں ۔ بابِ اول میں مصنف نے سنت کیا ہے اور کیا نہیں ؟ پر بحث کی ہے اور غامدی صاحب کے تصورِ سنت اور اس اصطلاح کے مخصوص معنی پر غامدی صاحب کے لغوی استدلالات پر بحث کی ہے ۔ دوسرے باب میں ایک اہم...

احمد الیاس

ہر ضلالت کی طرح ناصبیت بھی اپنی ہر بات کی تردید خود کرتی ہے۔ ایک طرف یہ ضد ہے کہ سسر اور برادر نسبتی کو بھی اہلبیت مانو، دوسری طرف انتہاء درجے کی بدلحاظی اور بدتمیزی کے ساتھ امام النواصب جاوید غامدی کہتے ہیں کہ داماد اہلبیت میں نہیں ہوتا لہذا علی بن ابی طالب اہلبیت میں نہیں ہیں۔

یہ بات تو دین کی تھوڑی سی فہم رکھنے والا ایک ذہین بچہ بھی بخوبی سمجھتا ہے کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم دامادِ رسول ہونے سے پہلے رسول اللہ کے بھائی اور بیٹے ہیں۔ اہلبیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مولا علی کا داخلہ سیدّہ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا سے نکاح کے سبب نہیں ہوا۔ آپ اپنی ولادت کے دن سے اہلبیت میں داخل تھے، صرف آپ نہیں بلکہ آپ کے والدین بھی اہلبیت کا حصہ ہیں۔

دامادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کی فضیلت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی فضیلتوں میں بہت بعد میں آتی ہے۔ مولا کی اولین فضیلت اللہ کا خاص اور مقرب بندہ اور اس کے دین کا بے مثال حامی و مددگار ہونا ہے۔ باقی سب فضیلتیں (بشمول رکنیتِ اہلبیتِ رسول) اس کے بعد آتی ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ رسول اللہ ص کی عائلی زندگی کے معاملات عام لوگوں کی طرح ہرگز نہیں۔ عام مسلمان بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتا اور عام شخص کی نسل بیٹی سے نہیں، صرف بیٹے سے چلتی ہے۔ رسول اللہ ص کے معاملے میں یہ دونوں اصول اللہ کے حکم سے لاگو نہیں ہوتے۔ بالکل اس طرح آپ کے اہلبیت کو بھی عربیت یا عُرف کے حوالے سے دیکھنا کھلی جہالت ہے۔

رسول اللہ ص کے اہلبیت میں ہر وہ شخص داخل ہے جسے وہ اپنے اہلبیت میں کہیں۔ مولا علی تو رسول اللہ کے خونی رشتے دار ہیں، ہم تو زید بن حارث، اسامہ بن زید اور سلمان فارسی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اہلبیت میں شمار کرتے ہیں۔ ہاں مگر اہلبیت کا مغز، اہلبیت کا وہ حصہ جسے اللہ نے رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ۔۔۔ اہل کسا، اہل مباہلہ یعنی علی و فاطمہ اور حسنین ہی ہیں۔

امہات المومنین کے اہلبیت میں سے ہونے میں بھی کوئی شک نہیں لیکن غامدی صاحب سے کروڑ درجے بہتر فہم دین رکھنے والے امام بخاری رح نے احادیث کے جو ابواب بنائے ہیں ان میں فضائل اہلبیت کی کئی خاص نوعیت کی عمومی احادیث (جن کا تعلق اہلبیت کے مرکز رشد و ہدایت ہونے سے ہے) امہات المومنین کے باب میں نہیں، حسنین کریمین کے باب میں ڈالی ہیں، حالانکہ ان میں حسنین کا نام لے کر ذکر بھی نہیں۔ یہی طرز عمل محدثین کے استاد امام احمد بن حنبل کے ہاں نظر آتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.