علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

Published On March 14, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

مولانا واصل واسطی دوسرا نکتہ جناب غامدی نے ان کے اپنے الفاظ میں یہ بیان کیاہے کہ ،، ثانیا آپ کو بتایا ہے کہ یہ دوسری قراءت قران کو جمع کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کردینے کے بعد کی جائے گی ، اور اس کے ساتھ ہی آپ اس بات کے پابند ہوجائیں گے کہ آئندہ اسی قراءت کی پیروی...

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

جاوید احمد غامدی کے فلسفیانہ افکار کا جائزہ قسط اول

عمران شاہد بھنڈر چند ہفتے قبل جاوید احمد غامدی صاحب کی ایک وڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ ایک بار پھر قرآن کے تصورِ تخلیق کو بروئے کار لاتے ہوئے’’ وجود‘‘ کے مسئلے کی وضاحت کررہے تھے ۔ غامدی صاحب اپنی بات کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ ’’قرآن سے پہلے سقراط و...

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

کیا علامہ طبری نے آیت “لتبین للناس” سے وہ مراد لی جو غامدی صاحب فرماتے ہیں؟

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب نے دو ویڈیوز میں سورۃ نحل کی آیت 43 (وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ) میں لفظ تبیین پر اپنے موقف پر دلائل دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ لغوی طور پر اس لفظ کے دو معانی ہیں: (الف) از خود کسی بات کو...

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

علامہ زمحشری کی عبارت سے غامدی صاحب کے استدلال پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل علامہ جار اللہ زمحشری (م 538 ھ) کی جس عبارت کو محترم غامدی صاحب نے مسئلہ تبیین پر اپنے مدعا کا بیان قرار دیا، اس عبارت سے کیا جانے والا استدلال بھی مخدوش بے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں: ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ يعنى ما نزل الله إليهم في الذكر مما أمروا به...

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

غامدی صاحب کا تصور تبیین اور مسئلہ حجاب پر ان کی وضاحت پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب کے تصور تبیین کی قرآن کے محاورے میں غلطی واضح کرنے کے لئے دی گئیں چھ میں سے دوسری مثال پر غامدی صاحب نے تبصرہ فرمایا ہے۔ اس مثال میں ہم نے واضح کیا تھا کہ سورۃ نور کی آیت 58 میں پردے کے احکام میں جو تبدیلی کی گئی، قرآن نے اسے تبیین...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 21)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 20)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان تین نکات کو ترتیب وار لکھتے ہیں جو جناب غامدی نے سورت القیامہ اور سورت الاعلی سے سمجھے ہیں مگر اتنی سی بات پہلے جان لیں کہ جناب غامدی نے ان دو آیات کے ترجمہ میں چند الفاظ داخل کیے ہیں  کہ وہ پھر اپنے مدعی کو ثابت کرنے میں ان کو کام آجائیں  (...

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب

 

جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا گیا تھا۔

جس چیز کو یہ وجودی خیالات کا طلسم خانہ کہہ رہے ہیں یعنی نیوپلاٹونزم اس کا آغاز مسلمانوں میں ابو نصر فارابی (م 339 ھ) اور سب سے بڑھ کر اور مؤثر انداز میں ابن سینا (م 429 ھ) سے ہوتا ہے جبکہ علم کلام کی سب بڑی روایات یعنی اعتزال، ماتریدیت و اشعریت ابن سینا کے پیدا ہونے سے پہلے ہی میچور ہوچکی تھیں۔ امام اشعری کا انتقال 324 ھ جبکہ امام ماتریدی کا 333 ھ ہے، امام طحاوی (م 321 ھ) متعدد بحثوں کے پیش نظر عقیدہ طحاویة جیسا گندھا ہوا متن بھی لکھ کر جا چکے تھے۔ الغرض ان کا یہ تجزیہ تاریخی بلنڈرز کا شکار ہے، کئی دیگر لوگوں کی طرح انہیں بھی یہ گلط فہمی لاحق ہے کہ تھافت الفلاسفة میں امام غزالی (م 505 ھ) نے گویا کسی علم کلام کی بنیاد رکھی تھی۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.