کیا سیدنا علی کوئی مغلوب حکمران تھے ؟

Published On November 26, 2024
اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط سوم

ڈاکٹر محمد مشتاق بادشاہ کے بجائے بادشاہ گر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اسلامک فرنٹ کے تجربے کی ناکامی کے بعد بھی غامدی صاحب اور آپ کے ساتھی عملی سیاست سے یکسر الگ تھلگ نہیں ہوئے اور اگلے تجربے کےلیے انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی طرف رخ کیا۔ ڈاکٹر...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق اتمامِ حجت اور تاویل کی غلطی ۔1980ء کی دہائی کے وسط میں جناب غامدی نے ’نبی اور رسول‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو اس وقت میزان حصۂ اول میں شائع کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل مولانا اصلاحی کے تصور ’اتمامِ حجت‘ کی توضیح پر مبنی تھا اور اس میں انھوں نے مولانا...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق ۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی...

فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

حسن بن علی غامدی صاحب نے بشمول دیگر دلائل صحیح مسلم کی حدیث (7278، طبعہ دار السلام) کو بنیاد بناتے ہوئے سیدنا مسیح کی آمد ثانی کا انکار کیا ہے. حدیث کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی...

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

حسن بن علی اسی طرح تقسیم میراث کے دوران مسئلہ مشرکہ (حماریہ یا ہجریہ) کا وجود مسلم حقيقت ہے جس کے شواہد روایتوں میں موجود ہیں لیکن غامدی صاحب (سورۃ النساء آيت 12 اور آیت 176) كى خود ساختہ تفسیر کے نتیجے میں یہ مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا. اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ...

شاہ رخ خان

غامدی صاحب سیدنا علی -رضی اللہ عنہ- کی حکومت کے متعلق یہ تاثر دیے چلے آ رہے ہیں کہ سیدنا علیؓ اپنی سیاست میں ایک کمزور حکمران تھے۔ جب کہ ابھی تک یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ موصوف کے نزدیک سیاست کس چیز کا نام ہے؟ اگر غلبہ کی بات کی جائے تو وہ تو سیدنا علیؓ نے بنفس نفیس شریک ہو کر جمل، صِفین اور نہروان کے تمام معرکوں میں عملی طور پر حاصل کرلیا تھا، اگر اہل شام کی جانب سے صلح کی فوری پیش کش نہ ہوتی تو اسی دن تمام ریاستیں سیدنا علی کے زیر ِنگیں ہوجاتیں جیسا کہ تاریخی اور تسلیم شدہ حقائق سے ثابت ہے۔

سیدنا معاویہ -رضی اللہ عنہ- کے لشکر کو نا تو سیدنا علی -رضی اللہ عنہ- کے مقابلے میں کبھی غلبہ حاصل ہوا اور نا ہی سیدنا حسن -رضی اللہ عنہ- کے لشکر کے مقابلے میں۔ چنانچہ مسند احمد کی روایت ہے: فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ. (جب اہل شام کے کشتوں کے پشتے لگ گئے تو انہوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے لی، اور عمرو بن العاصؓ نے معاویہؓ کو مشورہ دیا کہ علیؓ کے پاس مصحف دے بھیجیں اور انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں، وہ اس سے انکار نہیں کرسکیں گے)۔ (مسند احمد 15975)
اس روایت کو شیخ ارناؤوط نے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ پھر باقی روایت میں سیدنا علیؓ کا اس پیغام کو قبول کرنے اور خوارج وغیرہ کے رد عمل کا ذکر ہے۔
ظاہر ہے حضرت عمرو بن العاصؓ نے لڑائی کے ایک دور کے بعد جو یہ مشورہ دیا تو ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ حضرت علیؓ کے لشکر کو مغلوب نہیں کرسکتے۔ اور یہ فطری امر ہے کہ ریاست کے مقابلے میں صرف ایک علاقے کے لوگ کبھی غلبہ نہیں پا سکتے۔ چناں چہ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: حضرت علی -رضی اللہ عنہ- کی بیعتِ خلافت، حضرت عثمان -رضی اللہ عنہ- کی شہادت کے بعد 35 ہجری میں ماہ ذی الحجہ کے شروع میں ہوئی، تمام مہاجرین وانصار اور جملہ حاضرین نے آپ کی بیعت کی، اُنہوں نے تمام اطراف میں اپنی بیعت سے متعلق لکھ بھیجا، سب نے سرِ تسلیم خم کیا، سوائے اہلِ شام میں سے حضرت معاویہ ؓ کے، سو اُن کے مابین وہ ہوا جو ہوا۔ (فتح الباري 7/ 72)
اس کے بعد سیدنا علیؓ بنفس نفیس کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔
اسی طرح جب سیدنا حسنؓ اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے تو حضرت عمروؓ نے امیر معاویہؓ سے جو کچھ فرمایا، وہ خود ملاحظہ کر لیجیے. صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: حسن بصریؒ کہتے ہیں کہ قسم اللہ کی جب حسن بن علی -رضی اللہ عنہما- (معاویہؓ کے مقابلے میں) پہاڑوں میں لشکر لے کر پہنچے، تو عمرو بن العاصؓ نے کہا (جو امیر معاویہؓ کے مشیر خاص تھے) کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں جو اپنے مدِ مقابل کو نیست و نابود کیے بغیر واپس نہیں جائے گا! (صحیح بخاری 2704)
حالانکہ خود سیدنا حسنؓ جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے، جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے: وَلَمْ يَكُنْ فِي نِيَّةِ الْحَسَنِ أَنْ يُقَاتِلَ أَحَدًا، وَلَكِنْ غَلَبُوهُ عَلَى رَأْيِهِ، فَاجْتَمَعُوا اجْتِمَاعًا عَظِيمًا لَمْ يُسْمَعْ بِمِثْلِهِ … (سیدنا حسنؓ کا کسی سے قتال کا ارادہ نہیں تھا، لیکن ان کے ساتھیوں کی راے ان کی راے پر غالب آگئی اور (فوج کا) اتنا بڑا اکٹھ ہوا کہ اس جیسے اکٹھ کا کسی نے سنا تک نہیں تھا۔ بلکہ قیس بن سعدؓ جو آذربائجان کے گورنر تھے صرف انہی کے پاس چالیس ہزار کا لشکر تھا)۔ (البدایہ والنھایہ)
اگر سیدنا حسنؓ نے جنگ کے ارادے سے لوگوں کو جمع کرنے کا حکم دیا ہوتا تو یہ لشکر کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا۔
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ کا لشکر کوئی 50 سے 60 ہزار کے درمیان تھا اور امیر معاویہؓ کا لشکر 20 سے 30 ہزار کے درمیان تھا، خود حضرت عمروؓ بن عاص کے بقول: پہاڑ جیسا لشکر یعنی حسن رضی اللہ عنہ کا لشکر کئی گنا بڑا تھا جسے قطعًا شکست نہیں دی جاسکتی تھی۔ نیز حدیث میں بھی صلح کا ذکر ہے اور غلبہ پانا/ شکست دینا اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔
اگر حضرت معاویہ کے ساتھ سیدنا حسن نے صلح نہ کی ہوتی اور کشمکش مسلسل جاری رکھتے تو کیا امیر معاویہ کے لیے ایک مستحکم حکومت حاصل کرنا ممکن تھا؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہی ہوگا۔ لہذا جس لڑائی کو لڑنے کے لیے سیدنا علی خود دوبارہ شریک نہ ہوئے بلکہ اپنی توجہ خوا۔رج کی سرکوبی پر مرکوز کردی، اور اس فتنے کا قلع قمع کیا، پھر سیدنا حسن اہلِ شام سے صلح کر کے حکومت سے دست بردار ہوگئے اور رسول اللہ صلی الله علیه وسلم نے ہر دو مواقع پر انہی دونوں باپ بیٹے کے مواقف کی تعریف فرمائی تھی، کیا ان اقدامات کے بغیر آئندہ کسی کے لیے مستحکم حکومت کا قیام ممکن تھا؟ کیا سیدنا حسن صلح نہ کرتے تو سارے لوگ امیر معاویہ کی بیعت پر متفق ہوجاتے؟ اگر کسی کو استحکام ملا ہے تو وہ بھی آل علی کے فیصلوں کی وجہ سے ہی ملا ہے اور جو سیدنا علی کے سیاسی مخالف رہے تو ان کو بھی علماء اہل سنت نے اجتہادی خطا کا مرتکب قرار دیا ہے، گویا وہ سیدنا علی کی بیعت نہ کرنے میں حق بجانب نہیں تھے، جس میں ظاہر ہے کہ سیدنا علی کی کوئی غلطی نہیں تھی، عند الله وہ حق بجانب ہی ہیں۔ البتہ انہوں نے اپنی توجہ ان کی طرف کردی جو ”فریقین“ کے دشمن تھے، یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں بالآخر شہید ہوگئے۔ گویا خوارج کے فتنے سے بھی دوسرے فریق کو (اور مسلم امت کو) سیدنا علی نے ہی بچایا اور ان کے اقتدار کے استحکام کی راہ یہاں سے بھی ہموار ہوئی۔
آل علی کے سیاسی اثرات کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ صحابہ کی بڑی تعداد کے مقابلے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اکیلے ڈٹے رہنے سے تاریخ کا پورا منظر نامہ ہی بدل گیا اور بیس سال کا استحکام پے درپے مخالفتوں میں بدل گیا، جب کہ یہ استحکام بھی محض آل علی کی صلح سے ممکن ہوا تھا، اور حضرت معاویہ کے بعد یزید کی تین سالہ حکومت خلفشار کا ہی شکار رہی، پھر یزید کے بیٹے معاویہ بن یزید نے خود ہی حکومت چھوڑ دی اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے 9 سال حکومت کی، یہ بات آپ کو کوئی ناصـ۔ـبی کبھی نہیں بتائے گا، پھر کم و بیش ایک صدی کی جھڑپوں کے بعد آل علی سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں نے اموی تخت کو مکمل طور پر الٹ دیا تھا۔ جب کہ درمیان میں حجاج اور ابن زیاد جیسے سفاک ترین لوگ امویوں کے وزراء رہے لیکن آل علی کے سیاسی اثر و رسوخ نے دم نہیں توڑا۔ لہذا ان حقائق کو نظر انداز کر کے محض ناصـ۔ـبیت سے متاثر ہو کر کوئی تجزیہ کرنا، نہ صرف شرعی احکام وحقائق کے ساتھ دست اندازی ہے، بلکہ تاریخ کا بھی قـ۔تل ہے۔

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.