کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

Published On February 25, 2025
قرآن اور غامدی صاحب

قرآن اور غامدی صاحب

ایک تحریر میں ہم غامدی صاحب کی قرآن کی معنوی تحریف کی چند مثالیں پیش کرچکے مزید ایک تشریح ملاحظہ فرمائیں۔غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں: "موت كى سزا قرآن كى رو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى- اللہ...

رجم کی حد اور غامدی صاحب

رجم کی حد اور غامدی صاحب

اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا مقرر ہے جو کہ حد شرعی ہے  اس پر دس سے زائد صحیح احادیث موجود ہیں  جن سے  واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ آزاد زانیوں پر کوڑوں کی بجائے رجم کی سزانافذ کی۔ ۔ غامدی صاحب اسکے انکاری ہیں ۔ وہ...

جمعے کی نماز کی فرضیت اور غامدی صاحب کا غلط استدلال

جمعے کی نماز کی فرضیت اور غامدی صاحب کا غلط استدلال

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے جمعے کی نماز کی فرضیت کا بھی انکار کر دیا ہے ۔ اور روزے کی رخصت میں بھی توسیع فرما دی ہے ۔ جمعے کی نماز کی عدمِ فرضیت پر جناب کا استدلال ہے کہ مسلم ریاست میں خطبہ سربراہِ ریاست یا اسکے حکم سے اسکے نمائندے کا حق...

عورت کی امامت اور غامدی صاحب

عورت کی امامت اور غامدی صاحب

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے عورت کی امامت کو جائز قرار دے دیا ہے ۔ اور دلیل یہ ہے کہ ایسی باقاعدہ ممانعت کہیں بھی نہیں ہے کہ عورت امام نہیں بن سکتی ۔ لیکن ایسا استدلال درست نہیں ہے ۔ ہم انہیں اجماعِ امت سے منع کریں گے کہ صحابہ میں ایسا کبھی...

مسئلہ رجم اور تکفیرِ کافر

مسئلہ رجم اور تکفیرِ کافر

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن اول - جاوید احمد غامدی نے رجم کا انکار کیا ہے ۔ رجم کا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد زنا کریں تو انہیں سنگسار کیا جائے گا ۔انکا استدلال یہ ہے کہ قرآن میں زنا کی سزا رجم نہیں ہے بلکہ کوڑے ہیں ۔ " الزانیۃ الزانی فالجلدوا کل...

واقعہ معراج اور غامدی صاحب

واقعہ معراج اور غامدی صاحب

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن جسمانی معراج کے انکار پر غامدی صاحب کا استدلال " وما جعلنا الرؤیا التی" کے لفظ رویا سے ہے ۔حالانکہ یہاں لفظ رویا میں خواب اور رویت بمعنی منظر دونوں کا احتمال ہے اور واقعے کے جسمانی یا روحانی ہونے پر قرآن کا بیان جہاں سے شروع...

ڈاکٹر محمد زاہد مغل

محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟
اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب دینا دینی لحاظ سے ضروری نہیں، لہذا میں جواب نہیں دوں گا (ساتھ ہی انہوں نے یہ مثال بھی بیان فرمائی کہ مثلا حضرت علی خلیفہ تھے یا نہیں اس کا جواب دینا دینی ضرورت نہیں، گویا یہ دونوں ایک قسم کی اہمیت کے حامل مسائل ہیں)۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے گویا غامدی صاحب اس مسئلے کو کوئی فلسفیانہ موشگافی وغیرہ سمجھتے ہیں۔ دینیات کے مجھ سے طالب علموں کے لئے دین کے ایک بنیادی ترین مسئلے سے متعلق ان کا یہ جواب گریز اور ادھورے پن کے سوا کچھ نہیں۔ اس جواب میں کئی سطح پر مسائل ہیں، مثلاً:
1) امت مسلمہ کے علما کا یہ موقف ہے کہ عقل و نقل میں تضاد نہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیادی ترین مسئلے پر عقل و نقل میں ہم آہنگی کی کیفیت کیا ہے؟ چنانچہ وحدت الوجود پر نقد کا شوق پورا کردینے سے اس سوال کا کوئی جواب فراہم نہیں ہوتا یہاں تک کہ متبادل بھی فراہم کیا جائے۔
2) اس مسئلے کا براہ راست تعلق قرآن مجید میں مذکور لفظ “خلق” اور “خالق” کے معنی سے ہے، یعنی خدا کے خالق ہونے کا کیا مطلب ہے؟ مسلم فلاسفہ و متکلمین اس بارے میں مختلف الخیال ہیں۔ تو کیا خلق کا معنی متعین کئے بغیر اسلامی عقیدے کا تقاضا پورا ہوسکتا ہے؟ کیا قرآن کی ان سینکڑوں آیات کا مفہوم مقرر ہوسکتا ہے جن میں یہ اور اس کے قریب المعنی الفاظ آئے ہیں (مثلا “جعل”)؟ دین میں یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ اس میں اختلاف کی بنا پر امام غزالی نے فلاسفہ کی تکفیر تک کی جبکہ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں!
3) پھر ربط الحادث بالقدیم اس قدر بنیادی ہے کہ اس کی درست تفہیم پر ہی توحید و شرک کا مدار ہے۔ خدا اور مخلوق میں تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ ان دونوں میں وجہ تمییز کیا ہے؟ کیا عالم کو قدیم کہنا شرک کو لازم ہے؟ صفات باری اور ذات میں کیا نسبت ہے؟ کیا خدا اور کائنات میں اتحاد کی نسبت ہے؟ کیا حلول کی نسبت ہے؟ کیا عینیت کی نسبت ہے؟ کیا غیریت کی نسبت ہے، اگر ہاں تو یہ غیریت کس نوعیت کی ہے (مثلاً کیا یہ زمانی و مکانی ہے)؟ یہ ہیں وہ بنیادی سوالات جن کا عنوان “ربط الحادث بالقدیم” ہے، کیا ان بنیادی ترین سوالات کا جواب دئیے بغیر توحید و شرک کا مفہوم مقرر ہوسکتا ہے؟ کیا ان کا جواب دئیے بغیر ان سب آیات کا ہم آہنگ مطلب مقرر ہوسکتا ہے جو اس ضمن میں قرآن کے اندر مذکور ہیں؟ الغرض ربط الحادث بالقدیم کا مسئلہ محض فلسفیانہ بحث نہیں ہے بلکہ مذہبی عقیدے کا وہ لازمی و بنیادی ستون ہے جس پر تمام عقائد کی عمارت قائم ہے، اس سے غفلت کا نتیجہ شرک ہو سکتا ہے۔
چنانچہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا جواب علمی طور پر غیر اطمینان بخش ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کے مباحث سے نا آشنائی کا مظہر بھی ہوگا۔ دین کے ہر سنجیدہ طالب علم پر لازم ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور اسی وجہ سے اس امت کے سب بڑے ذہنوں نے اس سوال کو بحث کا بنیادی نکتہ بنایا ہے اور عقیدے و اصول الدین کی سب کتب میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…