کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

Published On February 25, 2025
غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی اگے لکھتے ہیں " قران کا یہی پس منظر ہے جس کی رعایت سے یہ چندباتیں اس کی شرح و تفصیل میں بطورِاصول ماننی چاہیئں (1) اول یہ کہ پورا دین خوب وناخوب کے شعور پر مبنی ان حقائق سے مل کر مکمل ہوتاہے جوانسانی فطرت میں روزِاول سے ودیعت ہیں ۔اور...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 81)

مولانا واصل واسطی رسولوں کے اتمامِ حجت کے خود ساختہ قاعدے کے متعلق ہم نے ان حضرات کے چاراصولوں کا تجزیہ گذشتہ مباحث میں کرکے دکھایا ہے کہ ان چار باتوں سے اس مدعا کا اثبات قطعا نہیں ہوتا ۔ آج اس سلسلے کی آخری اصول کے بابت ہم بات کرنا چاہتے ہیں ۔ اس بات کو ہم تین شقوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 80)

مولانا واصل واسطی اس مذکورہ بالا مسئلہ میں جناب غامدی نے چند اور باتیں بھی بطورِ اصول لکھی ہیں ۔ مگر ان میں سے بھی کوئی بات اوراصول بھی اپنے مدعا کامثبت نہیں ہے۔ جناب کی ایک عبارت کاخلاصہ یہ ہے  کہ جب کوئی نبی علیہ السلام اپنی قوم پرحجت پوری کرتا ہے   تو اس قوم پر پھر...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 79)

مولانا واصل واسطی اب ہم ان حضرات کے  اس دوسرےاصول کا جائزہ لیتے ہیں کہ اہلِ مکہ پرعذابِ الہی کانزول نبی صلی اللی علیہ وسلم اورصحابہ کے ہاتھوں نازل ہو تھا ۔ اور کیا واقعی اہلِ مکہ کے متعلق شرع میں یہ حکم تھا  کہ ان کے بچنے کے اب فقط دوہی طریقے ممکن ہیں  کہ یاتو وہ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 78)

مولانا واصل واسطی اس بات کی معمولی تفصیل ہم یہاں کرتے ہیں تاکہ مولانا مودودی سے عقیدت رکھنے والے لوگ ہماری اس بات سے دکھی نہ ہوں ۔  یہ تو معلوم ہے کہ سیدنا یونس علیہ السلام رسولوں میں سے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے کہ "وان یونس لمن المرسلین اذابق الی...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 82)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 77)

مولانا واصل واسطی اس قسط میں ہم" اتمامِ حجت "کے اس قانون کا تجزیہ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن پہلے جناب غامدی صاحب  کے عبارت کو دوبارہ دیکھنا ضروری ہے ۔ جناب غامدی لکھتے ہیں " یہ آخری مرحلہ ہے اس میں اسمان کی عدالت زمیں پر قائم ہوتی ہے ۔ خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا ہے اور...

ڈاکٹر محمد زاہد مغل

محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟
اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب دینا دینی لحاظ سے ضروری نہیں، لہذا میں جواب نہیں دوں گا (ساتھ ہی انہوں نے یہ مثال بھی بیان فرمائی کہ مثلا حضرت علی خلیفہ تھے یا نہیں اس کا جواب دینا دینی ضرورت نہیں، گویا یہ دونوں ایک قسم کی اہمیت کے حامل مسائل ہیں)۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے گویا غامدی صاحب اس مسئلے کو کوئی فلسفیانہ موشگافی وغیرہ سمجھتے ہیں۔ دینیات کے مجھ سے طالب علموں کے لئے دین کے ایک بنیادی ترین مسئلے سے متعلق ان کا یہ جواب گریز اور ادھورے پن کے سوا کچھ نہیں۔ اس جواب میں کئی سطح پر مسائل ہیں، مثلاً:
1) امت مسلمہ کے علما کا یہ موقف ہے کہ عقل و نقل میں تضاد نہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیادی ترین مسئلے پر عقل و نقل میں ہم آہنگی کی کیفیت کیا ہے؟ چنانچہ وحدت الوجود پر نقد کا شوق پورا کردینے سے اس سوال کا کوئی جواب فراہم نہیں ہوتا یہاں تک کہ متبادل بھی فراہم کیا جائے۔
2) اس مسئلے کا براہ راست تعلق قرآن مجید میں مذکور لفظ “خلق” اور “خالق” کے معنی سے ہے، یعنی خدا کے خالق ہونے کا کیا مطلب ہے؟ مسلم فلاسفہ و متکلمین اس بارے میں مختلف الخیال ہیں۔ تو کیا خلق کا معنی متعین کئے بغیر اسلامی عقیدے کا تقاضا پورا ہوسکتا ہے؟ کیا قرآن کی ان سینکڑوں آیات کا مفہوم مقرر ہوسکتا ہے جن میں یہ اور اس کے قریب المعنی الفاظ آئے ہیں (مثلا “جعل”)؟ دین میں یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ اس میں اختلاف کی بنا پر امام غزالی نے فلاسفہ کی تکفیر تک کی جبکہ ہمیں بتایا جارہا ہے کہ اس کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں!
3) پھر ربط الحادث بالقدیم اس قدر بنیادی ہے کہ اس کی درست تفہیم پر ہی توحید و شرک کا مدار ہے۔ خدا اور مخلوق میں تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ ان دونوں میں وجہ تمییز کیا ہے؟ کیا عالم کو قدیم کہنا شرک کو لازم ہے؟ صفات باری اور ذات میں کیا نسبت ہے؟ کیا خدا اور کائنات میں اتحاد کی نسبت ہے؟ کیا حلول کی نسبت ہے؟ کیا عینیت کی نسبت ہے؟ کیا غیریت کی نسبت ہے، اگر ہاں تو یہ غیریت کس نوعیت کی ہے (مثلاً کیا یہ زمانی و مکانی ہے)؟ یہ ہیں وہ بنیادی سوالات جن کا عنوان “ربط الحادث بالقدیم” ہے، کیا ان بنیادی ترین سوالات کا جواب دئیے بغیر توحید و شرک کا مفہوم مقرر ہوسکتا ہے؟ کیا ان کا جواب دئیے بغیر ان سب آیات کا ہم آہنگ مطلب مقرر ہوسکتا ہے جو اس ضمن میں قرآن کے اندر مذکور ہیں؟ الغرض ربط الحادث بالقدیم کا مسئلہ محض فلسفیانہ بحث نہیں ہے بلکہ مذہبی عقیدے کا وہ لازمی و بنیادی ستون ہے جس پر تمام عقائد کی عمارت قائم ہے، اس سے غفلت کا نتیجہ شرک ہو سکتا ہے۔
چنانچہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسا جواب علمی طور پر غیر اطمینان بخش ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی عقائد کے مباحث سے نا آشنائی کا مظہر بھی ہوگا۔ دین کے ہر سنجیدہ طالب علم پر لازم ہے کہ وہ اس کا جواب دے اور اسی وجہ سے اس امت کے سب بڑے ذہنوں نے اس سوال کو بحث کا بنیادی نکتہ بنایا ہے اور عقیدے و اصول الدین کی سب کتب میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.