غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

Published On October 18, 2024
(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(2) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ  ذیل میں غامدی صاحب کے نقطہ نظر اور ان کے متند رات کا تفصیلی علمی و تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا۔ غامدی صاحب کی راے کے مندرجہ بالا بیان میں ایک بنیادی مقدمہ ان کا یہ کہنا ہے کہ زیر بحث مسئلے میں ان کے موقف...

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز عید الاضحی کی قربانی کا ارادہ کرنے والوں پر ذو الحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد سے قربانی کر لینے ایک شرما جسم کے بالوں اور ناخن کاٹنے کی پابندیاں عائد ہوتی ہیں یا نہیں، اس مسئلے میں علما و فقہا کے مابین اختلاف ہے۔ بعض فقہا و محد ثین ان دونوں افعال کو قربانی...

نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف جہاد مشہور ہے۔ غامدی صاحب کا  موقف ان سب سے بالکل الٹ ہے ۔ ایک جگہ  لکھتے  ہيں :”ارتداد كى سزا كا يہ مسئلہ محض ايك حديث كا مدعا نہ سمجهنے كى وجہ سے پيدا ہوا ہے۔ابن عباس كى روايت ہے۔ يہ حديث بخارى ميں اس طرح نقل ہوئى ہے من بدل دينه فاقتلوه ۔جو مسلمان اپنا دين بدل لے تو اسے قتل كردو “ہمارے فقہا اسے بالعموم ايك حكم قرار ديتے ہيں جس كا اطلاق ان كے نزديك ان سب لوگوں پر ہوتا ہے جو زمانہ رسالت سے لے كر قيامت تك اس زمين پر كہيں بهى اسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كريں گے۔ ان كى رائے كے مطابق ہر وہ مسلمان جو اپنى آزادانہ مرضى سے كفر اختياركرے گا، اسے اس حديث كى رو سے لازماً قتل كرديا جائے گا- اس معاملے ميں ان كے درميان اگر كوئى اختلاف ہے تو بس يہ كہ قتل سے پہلے اسے توبہ كى مہلت دى جائے گى يا نہيں اور اگر دى جائے گى تو اس كى مدت كيا ہونى چاہئے “. (برہان: صفحہ 127، مطبوعہ ستمبر 2001ء) مزيد فرماتے ہيں كہ “ليكن فقہا كى يہ رائے كسى طرح صحيح نہيں ہے- رسول اللہ كا يہ حكم تو بے شك ثابت ہے مگر ہمارے نزديك يہ كوئى حكم عام نہ تها بلكہ صرف انہى لوگوں كے ساتھ خاص تها جن ميں آپ كى بعثت ہوئى  ”  مزيد لكھتے ہيں كہ”ہمارے فقہا كى غلطى يہ ہے كہ انہوں نے قرآن و سنت كے باہمى ربط سے اس حديث كا مدعا سمجهنے كے بجائے اسے عام ٹھہرا كر ہر مرتد كى سزا موت قرار دى اور اس طرح اسلام كے حدود و تعزيرات ميں ايك ايسى سزا كا اضافہ كردياجس كا وجود ہى اسلامى شريعت ميں ثابت نہيں ہے”۔(برہان صفحہ 143، طبع 2006)
غامدی صاحب حدیث میں موجود حکم کو  حضور کے دور کیساتھ  خاص   قرار دے رہے ہیں حالانکہ  حدیث بالکل تخصیص نہیں کررہی ،  حدیث  میں لفظ  ” مَنْ (جو ) استعمال ہوا ہے،  غامدی صاحب کی  لغت میں شاید یہ’ خاص’ کے  معنی میں اورصرف  مشرکین کے لیے  استعمال ہوتا ہو  ۔  لیکن ایک اور حدیث میں یہی لفظ آیا ہے “من غش فليس منا”جس نے دھوكہ ديا، وہ ہم ميں سے نہيں” کیا یہاں بھی  وعید  دهوكہ دينے والے سے  حضور کے دور کا  خاص فرد مراد ہے؟۔ غامدی صاحب اپنی کتاب میزان میں ایک اصول بیان کرتے ہیں جسکی وہ یہاں خلاف ورزی بھی کرگئے ہیں ۔ فرماتے ہیں “کسی حدیث کا مدعا متعین کرتے وقت اس باب کی تمام روایات پیش نظر رکھی جائیں ، بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی حدیث کا ایک مفہوم سمجھتا ہے لیکن اسی باب کی تمام روایتوں کا مطالعہ کیا جائے تو وہ مفہوم بالکل دوسری صورت میں نمایا ں ہوتا ہے۔(میزان، صفحہ 73، طبع دوئم، اصول و مبادی صفحہ 72، طبع فروری 2005) انکے اسی اصول کو دیکھتے ہوئے ہم انکے سامنے  دوسری صحیح حدیث پیش کرتے ہیں ” حضرت عبداللہ بن مسعودسے روايت ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: كسى مسلمان كا خون بہانا جائز نہيں جو يہ گواہى ديتا ہو كہ اللہ كے سوا كوئى معبود نہيں اور يہ كہ ميں اللہ كا رسول ہوں ، ما سوا تين صورتوں كے:ايك يہ كہ اس نے كسى كو قتل كيا ہو، دوسرى يہ كہ وہ شادى شدہ زانى ہو اور تيسرى يہ كہ وہ اپنا دين چهوڑ كر (مسلمانوں كى) جماعت سے الگ ہوجائے-” یہ حدیث نا صرف  انکے اس مرتد کی سزا بلکہ رجم  کی سز ا کے متعلق موقف  کو بھی  غلط ثابت کررہی ہے ۔
اپنی سائیٹ پر یہاں  غامدی صاحب   کے ایک شاگرد نے ان کے موقف کے مطابق  ارتداد کے مسئلہ کو   سورة التوبہ كى جہاد کے متعلق آيت ٥ سے جوڑا ہے۔ علمى ديانت كا تقاضا تو يہ تها كہ مرتد  کے متعلق  حديث كو قرآن مجيد کی  ارتداد اور مرتدين  کے متعلق آیات سے جوڑا جاتامگر ايسا دانستہ طو رپر نہيں كيا گيا۔ بھلا مرتد كے بارے ميں مذكورہ ا حاديث کا  جہاد و قتال   کی اس آیت کیساتھ  کیا تعلق   ؟ “پهر جب حرام مہينے گزر جائيں تو ان مشركين كو جہاں پاؤقتل كردو اور اس كے لئے ان كو پكڑو اور ان كو گھيرو اور ہر گهات ميں ان كے لئے تاك لگاؤليكن اگر وہ كفر و شرك سے توبہ كرليں اور نماز كا اہتمام كريں اور زكوٰة ادا كرنے لگيں تو انہيں چهوڑ دو- بے شك اللہ مغفرت كرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے-“(سورة التوبہ :٥) کیا  یہاں مشرکین سے مراد  مرتدین ہیں؟  موصوف  نے اس آیت سے ارتداد کے مسئلہ کے لئے  معلوم نہیں کہاں سے حکم  نکال لیا؟ حالانکہ قرآن کی ہر آیت اور تقریبا ہر صحیح حدیث کا پس منظر موجود ہے اور   پھر آج تک  کسی ایک  صحابی، تابعی، مستندمفسر   کے  بھی   ارتداد کے متعلق اس حدیث کو جہاد و قتال کے متعلق اس  آیت کے ساتھ جوڑنے کا ثبوت موجود نہیں ۔ کیا  يہ بات زيادہ معقول اور قابل فہم  نہیں  كہ اس بارے ميں واضح احادیث و اقوال صحابہ اور  چودہ صديوں كے جملہ علماے اسلام كو غلط ٹھہرانے كى بجائے صرف اس نوزائيدہ عجمى شخص  کی من مانی تاویلات کو  غلط قرار دے  دياجائے ۔ ؟

بشکریہ ویب سائٹ

بنیاد پرست

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…