غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 55)

Published On March 23, 2024
غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط سوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ منصب رسالت اور اس پر متفرع احکام کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ: ۔ ۔1 ۔  منصب رسالت اور نبوت میں یہ تفریق کوئی قطعی بات نہیں ، اس سے اختلاف کی گنجائش ہے اور ہوا بھی ہے اور یہ رائے زیادہ وزنی بھی نہیں ۔ اس کی بنیاد پر قرآنی آیات و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط دوم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ   قرآن اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن میں جہاد اقدامی اور اس کے عموم اور تا ئید کے سلسلے میں واضح احکامات موجود ہیں جن سے انکار کیا جا سکتا ہے اور نہ آسانی کے ساتھ انہیں نظر انداز کیا جا...

مولانا واصل واسطی

اس مبحث میں ہم ، روزہ ، وغیرہ پر بات کریں گے ۔ جناب غامدی روزے کے متعلق لکھتے ہیں ،، وہ روزہ اسی طرح رکھتے تھے جس  طرح اب ہم رکھتے ہیں ( میزان ص 45) یہ بات بھی جناب غامدی نے حافظ محب کی کتاب سے لی ہے ۔مگر اس بات کے لیے حوالہ دینے میں خوب ڈندی ماری ہے   جس کی آگے ہم تفصیل کرلیں گے ان شاءاللہ۔ یہاں احباب کو یہ بات سمجھ لینے کی ضرورت ہے   کہ نزاع ہمارا اس بات میں نہیں ہے  کہ دیگر انبیاء کرام اور ان کی امتوں پر یہ احکام فرض تھے ، یانہیں تھے ؟ یہ تو ہمارے یہ کرم فرما بھی مانتے ہیں   کہ ان پر یہ احکام لازم تھے ۔ اور ہم بھی اس کے قائل ہیں   کیونکہ نماز ، زکوة ، روزہ ، وغیرہ احکام کی فرضیت پر قران کے نصوص موجود ہیں ۔اصل نزاع اس بات میں ہے کہ قریش اور عرب میں یہ احکام واعمال نزولِ قران کے وقت عملا موجود تھے یا نہیں ؟ وہ ان احکام واعمال کو بجالاتے تھے یا نہیں ؟ ہمارے یہ کرم فرما حافظ محب ، اور جناب غامدی اور اس کامکتب پہلی شق کے قائل ہیں کہ وہ احکام موجود تھے اور وہ لوگ ان پر عمل پیرا بھی تھے   اگرچہ تعداد میں وہ لوگ کم اورتھوڑے ہوں ۔ مگر ہمارے نزدیک یہ احکام واعمال اس معاشرے سے عملا مٹ گئے تھے  ۔ مگر کسی چیز کے عملا مٹ جانے کامطلب ذہنوں سے محو ہوجانے کا نہیں ہوتا۔ خود ہمارے اپنے ذہنوں میں گذشتہ صدیوں کے بہت ساری باتیں اور بہت سارے اعمال اپنے بزرگوں کے موجود ہیں   جن پر فعلا اب کوئی بھی شخص ہمارے معاشرے میں عمل پیرا نہیں ہے ۔ احکام واعمال کی پہچان اور معرفت کےلیے کسی چیز کا عملا موجود ہونا تو ضروری نہیں ہوتا  بلکہ ذہنوں میں اس کا خاکہ موجود ہونا کافی وشافی ہے ۔ بعض لوگ جو اس اصل موردِ نزاع کو نہیں جانتے عجیب وغریب دلائل اس باب میں فراہم کرتے ہیں۔ بطورِمثال روزہ کے متعلق  ایک عبارت حافظ محب کی دیکھ لیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ،، خدا نے صوم فرض کیا تو یہ کوئی انوکھا فرض نہیں ، یہی صوم اگلوں پربھی فرض تھا ، اس لیے قوم صلوة کی طرح صوم کے اصطلاح سے بھی واقف تھی ، قوم ہی کی اصطلاح میں تو قران اترا ہے ، وہ اصطلاح خود قران مجید سے ، عملِ متواتر سے اور تاریخِ مذہب ( یعنی حدیث ) سے یہی واضح ہوتی ہے   کہ رمضان کا چاند دیکھو تو پورے مہینے کاروزہ رکھو ، وہ اس طرح کہ صبح کاذب سے سے لے کر شام تک نہ کھاؤ نہ پیو ، عورت کے پاس نہ جاؤ ، افطار کرلو ، توپھر سب کرلو ، بس یہی صوم ہے جوفرضِ ازلی ہے ، خدا نے فرمایا ،، یاایھاالذین امنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ( البقرہ 183) (ترجمہ ) ایمان والو تم پرروزہ فرض کیاگیاہے ۔جیساکہ اگلوں پر فرض ہواتھا ، تاکہ تم پر ہیزگار بن جاؤ ،، اس سے ظاہر ہے کہ صوم فرضِ ازلی ہے ، اور یہ پرہیز گار بنانے کےلیے ہے ( شرعةالحق ص 280)  حافظ جی کی اس عبارت میں بہت مغالطے ہیں۔ ہم صرف تین کا ذکر کرتے ہیں (1) پہلا مغالطہ یہ ہے کہ امرِ نزاعی یہ نہیں ہے   کہ ماقبل لوگوں پرروزہ فرض تھا یا نہیں تھا ؟ بلکہ یہ بات ہے کہ عرب میں روزہ جیسے اسلام کا رکن عملا موجود تھا  محو ہوگیا تھااور مٹ گیا تھا ؟ آپ نے جوآیت پیش کی ہے   اس کا اس مسئلہ سے دور کابھی تعلق نہیں ہے۔ اس میں تویہ بیان ہوا ہے کہ آپ کی طرح ان پر بھی روزہ فرض کیا گیا تھا۔ اس بات کا ہم نے کب انکارکیا ہے ؟ (2) دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ حافظ محب ان کے اس عمل کو پہچاننے سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ، روزہ ان میں عملا رائج بھی تھا ۔ مگر اس کا اثبات اس آیت سے نہیں ہو سکتا ۔ اس لیے کہ یہ آیت اس بات سے بالکل غیر متعلق ہے (3) تیسرا مغالطہ یہ ہے کہ حافظ محب نے بھی باربار غامدی کی طرح عملِ متواتر کا تکرار اس کتاب میں کیا ہے ۔ ہم پوچھتے ہیں اس سے آپ کی مراد کیا ہے ؟ اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس آیت کی نزول کے بعد اس پر مسلمانوں کا تواتر سے عمل جاری رہاہے ؟ تو یہ آپ کے مدعا کو نافع بالکل نہیں ہے ۔ اور اگر آپ کی اس بات سے   اسلام اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب میں اس عمل کا تواتر مراد ہے ؟ تو یہ بلادلیل اور بے بیناد دعوی ہے۔ اس کے لیے آپ کو ٹھیک ٹھاک دلائل فراہم کرنے ہونگے ۔ معلوم ہوا کہ حافظ کی تجوری کا شور اگرچہ زیادہ تھا  مگر اس میں خزف ریزوں کے سوا کچھ بھی موجود نہیں ہے ،۔ ایک مزید بات حافظ محب کی اس عبارت میں موجود ہے جس کو ہم الگ ذکرکرنا مناسب جانتے ہیں    وہ یہ ہے کہ حافظ جی حدیث کو تاریخ سمجھتے اورتاریخ قرار دیتے ہیں ۔یہی بات پھر حافظ جی سے جناب غامدی نے بلاحوالہ لی ہے کما ھو دابہ المشھور ۔اس مورد میں حافظ جی کی چند اور عبارات بھی دیکھتے ہیں ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ،، میرے نزدیک ایسا نہیں ہے کہ اعمالِ قوم حدیث سے مستخرج ہیں ، اگرچہ اعمال قوم کی سند میں وہ پیش بھی کی جائیں کیونکہ قوم کے اعمال اجتماع حدیث سے ڈیڑھ دوصدی پیشتر سے تھے ، حدیث ایک مدت کے بعد جمع ہوئی ، ان میں بھی جو منسوب برسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ، وہ اعمالِ صحابہ اوراعمالِ قوم کی بہ سند ونسبتِ رسالت تاریخ ہے ( ایضا ص 81) دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ ،، اگر اطاعتِ  رسول کے معنی حدیث ہی کے لو تواس کو آپ نے جمع نہ کرایا ، نہ اس کی تبلیغ کی،حدیث کی کتابیں نہ رسول کی مصنفہ ہیں نہ آپ کادیا ھوا قانون ہے   بلکہ یہ تو تاریخ واخبار مصنفہِ فلان ابن فلان ہے جس کے آپ ذمہ دار نہیں ( شرعةالحق ص 159) ایک اورجگہ حافظ جی لکھتے ہیں کہ ،، اگر ہم لغات ومحاورات عملِ متواترسے ، قولِ متواتر سے ، تاریخ واخبار یعنی حدیث سے اور لغات و محاورات کی کتابوں سے ، یا تفسیر کی کتابوں سے تحقیق کریں تو جو محقق ہوگا ، اس سے جو قران کا مطلب سمجھاجائےگا ، وہ صحیح ہوگا ( ایضا ص 232) ہم نے حافظ جی کے ان شبہات پر بحث نہیں کی ہے  کہ حدیثِ رسول کے دفاع میں لکھی جانے والی تمام کتابوں میں ان سب  شبہات کے ازالے کا سامان موجود ہے ۔ جناب غامدی نے لکھا ہے کہ ،، وہ روزہ اسی طرح  رکھتے تھے ، جیسے اب ہم رکھتے ہیں ،، اس کے لیے حوالہ خیر سے بخاری ومسلم کا دیا ہے ۔ آپ ذرا ان آحادیث کو پڑھ لیں پھر جناب غامدی کی امانت ودینداری کو داد دیجئے ۔ ہم وہ حدیثیں نقل کرتے ہیں۔ بخاری کے الفاظ یہ ہیں ،، عن عائشة رضی اللہ عنھا قالت کان یوم عاشوراء تصومہ قریش فی الجاھلیة وکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصومہ فی الجاھلیة فلما قدم المدینة صامہ وامر بصیامہ فلما فرض رمضان ترک یوم عاشوراء فمن شاء صامہ ومن شاء ترکہ ( بخاری باب صوم یوم عشوراء ) یہ روایت کتاب الحج میں بھی آئی ہے ۔ اب کوئی بندہ سوچنے والا اور پوچھنے والا تو ہوگا کہ جناب غامدی سے کہے کہ بات تو اصلا رکنِ اسلام روزہ  کی چل رہی تھی  جس کی تعبیر شہرِرمضان  یعنی رمضان کامہینہ ہے ۔ آپ عاشورا کاروزہ کیسے اور کہاں سے درمیان میں لےآئے ہیں ؟ کم ازکم آپ نے بھی تو کچھ پڑھا ہوگا ؟ دعوی ودلیل میں مطابقت لازما ہونی چاہئے۔ان دونوں میں اگر ایک خاص ہو اور دوسراعام ہو تو اہلِ علم اس کو قبول نہیں کرتے ۔پھر آپ نے خود اوپر یہ بات لکھی ہے کہ ،، وہ روزہ اس طرح رکھتے ہیں جیسے اب ہم رکھتے ہیں ،، اس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ کی مراد رمضان کا روزہ ہے ، ورنہ عاشوراء کے روزے کی بات تو اس حدیث نے ختم کی ہے کہ ،، فلما فرض رمضان ترک یوم عاشوراء ،، اور عام مسلمانوں کےلیے اب وہ اس حدیث کی روسے اختیاری چیز ہے ،چاہیں تو اسے رکھیں اور چاہیں نہ رکھیں۔ پس عاشورا کا روزہ اب بعض لوگ رکھتے ہیں ، بعض نہیں رکھتے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ترک کیا تھا ، اورپھر آپ نے اس روزہ کا ذکر بھی ارکانِ اسلام ، یعنی نماز ، زکوة ، اورحج کے ضمن میں کیا ہے ؟ عاشورا کاروزہ ارکان میں کس طرح فٹ آسکتا ہے؟ مسلم میں بھی یہ روایت ہے کہ ،، ان قریشا کانت تصوم عاشوراء فی الجاھلیة ثم امررسول اللہ بصیامہ حتی فرض رمضان فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من شاء فلیصمہ ومن شاء فلیفطرہ ( مسلم باب صوم یوم عاشورا ء ) اس حدیث سے قریش کے متعلق عام روزہ رکھنے پراستدلال کرنا ایسا ہے   جیساکہ مثلا کسی  علاقے میں نکاح کارواج نہ ہو ، کلی آزادی ہو ، مگر کچھ لوگ ان میں متعہ کے عادی ہوں اس پر عمل کرتے ہوں ، ہمارا جیسا کوئی بادیہ نشین شخص   جناب غامدی جیسے عالی دماغ فنکار شخص سے سوال کرلے کہ ،، حضرت تمہارے علاقے میں نکاح کارواج ہے؟ تو وہ جھٹ سے کہیں ہاں جی بالکل ہے ۔ اس جواب سے اس سامع کو ہماری طرح یقین تو آجائے گا لیکن جب وہ خود اس شہر کے حالات سے واقف ہوجائے گا تب اسے یہ بھی یقین ہوجائے گا کہ فنکاری کتنا بڑا علم ہے ؟ آخری بات اس سلسلے میں یہ ہے کہ جناب غامدی کی ایک عبارت مبادئ تدبر سنت ، کے ،، تیسرے اصول ،، سے پیش کرچکے ہیں وتلخیصہ ھکذا ،، قران ان سنن کی تاکید تو  کرتا ہے ، ابتدا نہیں کرتا ،، مگر ہم کہتے ہیں کہ یہاں تو قران ہی نے ،، کتب علیلم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم  لعلکم تتقون ،، ( البقرہ 183) فرمایا ہے ۔ یعنی روزہ کی فرضیت ہی قران سے شروع ہوئی ہے ، تو یہ آپ کے اس  اصول کے مطابق  ،، سنت ابراہیمی ،، نہیں بن سکتی ہے ۔ آپ کیافرمائیں گے ؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…