فکرِ فراہی کا سقم

Published On April 14, 2025
غامدی صاحب کا تصور سنت

غامدی صاحب کا تصور سنت

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کا اپریل ۲۰۰۸ء کا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں غامدی صاحب کے رفیق کار جناب محمد رفیع مفتی نے سوال و جواب کے باب میں دو سوالوں کے جواب میں سنت نبوی کے بارے میں غامدی...

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

مولانا واصل واسطی پانچویں بات اس سلسلے میں یہ ہے ۔ کہ جناب نے جوکچھ اوپر مبحوث فیہ عبارت میں لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ   ہم اس  فہرستِ سنت میں سے جس کا ذکر قران مجید میں آیا ہے ۔ اس کے مفہوم کاتعین ان روایات ہی کی روشنی میں کرتے ہیں محض قران مجید پراکتفاء نہیں کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 87)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اس عبارت میں جناب غامدی نے یہ لکھی ہے کہ "قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہواہے ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواترپر مبنی روایت سے متعین ہو ں گی ۔ انہیں قران سے براہِ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں جائے گی " ( میزان ص 47) اس بات پر بھی جناب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 86)

مولانا واصل واسطی اب دوسری مستثنی صورت کو دیکھتے ہیں: جناب غامدی لکھتے ہیں" دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگرقحبہ عورتیں ہوں توان سے نمٹنے کے لیے قران مجید کی روسے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں ۔ جو اس بات پر گواہی دیں کہ فلان عورت فی الواقع زنا کی عادی ایک...

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن...

ڈاکٹر خضر یسین

مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عربی دانی کا انکار نہیں اور نہ روایتی علوم کی متداول تنقید میں ان جواب تھا۔ لیکن وہ تمام فکری تسامحات ان میں پوری قوت کے ساتھ موجود تھے جو روایتی مذہبی علوم اور ان کے ماہرین میں پائے جاتے ہیں۔ عربی زبان و بیان کے تناظر میں قرآن مجید کے محاسن بیان کرنے والے وہ پہلے فرد نہ تھے۔ ان سے قبل بڑے صاحب ذوق اور صاحب نظر قرآن مجید کی لسانی نزاکتوں اور خوبیوں کو ان سے بہت بہتر بیان کر چکے ہیں۔
روایتی مذہبی علوم اور علماء کے ساتھ یہ المیہ رہا ہے کہ وہ فکر و فن کی حدود صحت  کا تعین کرتے ہیں اور نہ موضوع کے مختلف ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے امتیازات اور فکری مضمرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ بزعم خویش فلک بوس علوم و فنون کی عمارتیں میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ان علوم و فنون کی خشت اول ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی۔
“متشابہات” کے متعلق فراہی صاحب کا موقف واضح طور پر غلط ہے۔ وہ متشابہات کا مفہوم و مدلول اگر خود قرآن مجید سے لیتے تو ایسی غلطی نہ کرتے۔
آخرت کے متعلق قرآن مجید کا کوئی ایک بیان بھی ایسا نہیں ہے جس میں ایک سے زیادہ معنی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہوں۔ متشابہ میں معنی کی کثرت کا تدارک تاویل کے ذریعے کیا جاتا ہے اور کسی ایک معنی کو مرجح بتانے کے لیے “تاویل” کی جاتی ہے۔ یہ موؤل معنی ظنی ہوتا ہے۔ عقائد و ایمانیات کی بنیاد نہ اشتباہ پر رکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی ظن و تخمین یہاں کار آمد ہو سکتا ہے۔
مفسرین، متکلمین اور فقہاء نے جن آیات کو متشابہات فرض کر لیا ہے ان میں کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جس میں تاویل سے معنی کا تعین ناگزیر ہو۔ متشابہات کی تاویل ناگزیر ہوتی ہے۔ اس کے بغیر متشابہ متشابہ رہتا ہے۔ مزید برآں مووّل معنی کی اتباع سے قرآن مجید نے روکا ہے۔ لیکن مولانا فراہی رحمہ اللہ “متشابہات” کا مفہوم اپنی مرضی سے طے کرتے ہیں اور محکمات کو متشابہات بنا دیتے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…