مولانا فراہی کی سعی: قرآن فہمی یا عربی دانی ؟

Published On April 17, 2025
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

ڈاکٹر خضر یسین

مولانا فراہی رحمہ اللہ کی عمر عزیز کا بیشتر حصہ قرآن مجید کی خدمت میں صرف ہوا ہے۔ لیکن یہ قرآن مجید کے بجائے عربی زبان و ادب کی خدمت تھی یا تخصیص سے بیان کیا جائے تو یہ قرآن مجید کے عربی اسلوب کی خدمت تھی۔ قرآن مجید کا انتخاب صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ عربی زبان و ادب کی ایسی شاندار خدمت کا نمونہ کسی دوسری کتاب میں انجام دینا ممکن نہ تھا۔ قرآن کی عربی زبان و بیان کے معارف کی تحقیق میں سیاہ بالوں کو سفید کر لیا لیکن پوری عمر ان معارف کی جستجو میں سے نہ نکل سکے جن کا تعلق عربی زبان و بیان کے فصاحت و بلاغت کے ان معیارات سے تھا جن کا وجود زبان و بیان کے وجود میں آ جانے کے بعد وضع کیا جاتا ہے یا ذوقا دریافت کر لیا جاتا ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی فصیح و بلیغ زبان جس مقصد کے ابلاغ کے لیے اختیار کی گئی ہے یا وہ معنی جن میں “الوہی ھدایت” مقید و محدد ھے، مولانا کے مطالعے کا کبھی موضوع نہیں رھے۔ مولانا کی جستجو اور فکر افروزی “الوہی کلام” کے ندرت بیان کی وضاحت تک محدود رہی ہے۔ اس ندرت بیان کی دریافت میں مولانا کس حد تک کامیاب ہوئے، یہ ایک الگ موضوع ہے۔
مولانا کی تحقیق سے عرب و عجم کے ہزاروں مسلمانوں میں تدبر فی بیان القرآن کا ذوق پیدا ہوا اور یہ ذوق ظاہر ہے خالصتا جمالیاتی تھا۔
الوہی ھدایت جس کے پہلے مکلف و مخاطب آنجناب علیہ السلام تھے، اسے مولانا نے کبھی موضوع سخن نہیں بنایا۔ ان کی تحریروں کا ایک ایک لفظ گواہی دے رہا ہے کہ وہ قرآن کی فصاحت و بلاغت کا عاشق ہے اور اس کے لفظ لفظ کے برمحل استعمال پر جان نثار کرتا ہے، لفظ اور اس کے موزوں ترین استعمال کا ذوق انسان میں جس انفرادیت کی جستجو کا ملکہ پیدا کرتا ھے، مولانا کی تحریروں سے بالکل عیاں ھے۔ مولانا کے مسترشدین میں قرآن مجید کے فنی اور لسانی فہم و تدبر کے لحاظ سے بہت کم لوگ اس مرتبے پر پہنچے ہیں، جس پر اللہ عزو جل نے مولانا فراہی ؒ کو سر فراز فرمایا تھا۔
کاش کبھی اس طرف بھی وہ متوجہ ھوتے تو مابعد کے متوارثین فقط عربی زبان و بیان پر خود کو محدود رکھنے کے عذاب سے بچ جاتے۔ قرآن مجید “تفسیر طلب متون” کی صف میں شامل ھے کہ نہیں ھے؟ اس سوال کا جواب صرف عربی دانی سے نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے لیے اور طرح کی ذہنی محنت درکار ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…