کیا اللہ حقوق العباد معاف کر سکتا ہے ؟

Published On November 7, 2024
رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

ناقد : شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی

تلخیص : زید حسن

غامدی  صاحب کا عموم پر رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ” حقوق العباد” معاف ہی نہیں ہوتے ، درست نہیں ہے ۔ اللہ اگر چاہے تو حقوق العباد بھی معاف کر سکتا ہے ۔” ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ” میں عموم ہے ۔ البتہ” ان اللہ لا یغفر  ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک ” آیت سے پتا چلتا ہے کہ شرک کے علاوہ خدا کچھ بھی معاف کر سکتا ہے ۔

بخاری کی حدیث ہے کہ بنی اسرائیل کے سو انسانوں کے قاتل کو خدا نے معاف فرما دیا ۔ اسی طرح حج کی بابت حدیث ہے ۔

قیامت میں خدا تصفیے اور عدل کی بنا پر فیصلہ فرمائے گا ۔ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ   بعض دفعہ انسان کا کوئی عمل خدا کو پسند آ جاتا ہے تو اس سے ہونے والی حقوق العباد کے متعلق کوتاہی کا بدلہ اللہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے ۔ قیامت میں دونوں صورتوں سے تصفیہ ممکن ہے ۔ ایک یہ ہے کہ ظالم سے مظلوم کو اسکی نیکیوں کے ذریعے بدلہ دلوایا جائے اگر اللہ نے اسے معاف نہیں کیا اور اس نے توبۃ النصوح نہیں کی ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے توبہ کر لی تھی یا اللہ کو اسکا کوئی عمل پسند آگیا ہے تو اللہ مظلوم کو اپنے انعامات سے نواز کر خوش کرے گا ۔

مسند احمد کی حدیث ہے کہ ظالم اور مظلوم کھڑے ہوں گے ، اللہ مظلوم کو جنت کی نعمتیں دیکھائے گا اور کہے گا : یہ میں تجھے دینا چاہتا ہوں بشرطیکہ تو اسے معاف کر دے ۔اور یہ اس وجہ سے ہو گا کیونکہ اللہ ظالم کو معاف کر چکا ہو گا ۔

لہذا غامدی صاحب نے جو عموم قائم کیا ہے وہ درست نہیں ہے ۔

ویڈیو دیکھنے کے لئے لنک کو کلک کریں ۔

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…