خودکشی اور شہادت کا فرق

Published On April 10, 2025
فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں جمع و تدوین قرآن سے متعلق غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ لیا گیا ہے ، غامدی صاحب نے ، اِنَّ...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

فکرِ غامدی : قرآن فہمی کے بنیادی اصول ( قسط چہارم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم غامدی صاحب کے اصول تدبر قرآن میں میزان و فرقان میں قرات کے اختلاف پر گفتگو کریں گے غامدی...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم، حصہ دوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں زبیر احمد صاحب غامدی صاحب کے نظریہِ تفہیم و تبیین پر گفتگو فرمائی ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ غامدی...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن فہمی کے بنیادی اصول (قسط پنجم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، میزان اور فرقان (قسط سوم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد س ویڈیو میں جاوید احمد غامدی صاحب کی کتاب "میزان" کے باب مبادی تدبر قرآن میں قرآن فہمی کے لیے بیان کردہ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ایک تو فقہائے کرام اس لحاظ سے فرق کرتے ہیں کہ موت کس کے فعل سے واقع ہوئی ہے؟ اگر موت ایسے فعل سے واقع ہوئی ہے جس کی نسبت دشمن کی طرف ہوتی ہے (بفعل مضاف الی العدو)، تو یہ شہادت ہے؛ اور اگر یہ اسی شخص کے فعل سے واقع ہوئی ہے، تو اگر یہ فعل سہواً ہوا ہو، جیسے دشمن پر تلوار چلائی، وہ پیچھے ہٹا اور تلوار خود مجاہد کو لگی اور اس کی موت واقع ہوئی، تو اخروی لحاظ سے اسے شہادت کہا جائے گا، لیکن شہید کے دنیوی احکام کا اطلاق اس مجاہد پر نہیں ہوگا؛ اور اگر یہ فعل قصداً ہوا ہو، تو یہ خود کشی ہے۔
دوسرا فرق فقہاے کرام فعل کی نوعیت کے لحاظ سے بھی کرتے ہیں جسے اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے مردار کھانا حرام کیا ہے؛ لیکن جب موت کا خدشہ ہو اور کھانے کو صرف مردار ملے، تو اللہ تعالیٰ نے اتنا کھا لینے کی اجازت دی ہے کہ جان بچ جائے؛ اگر اس حالت میں یہ شخص مردار نہ کھائے اور اس کی موت واقع ہو، تو یہ خود کشی کا مرتکب ہوا ہے کیونکہ جب اللہ نے اسے مردار کھا کر جان بچانے کی اجازت دی تھی، تو اس نے جان نہ بچا کر اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس سے مختلف مثال دیکھیے۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کی بات کہنا حرام کیا ہے، لیکن کسی کو قتل کی دھمکی دے کر کفر کی بات کہنے پر مجبور کیا جائے، تو اللہ تعالیٰ نے ایسے مجبور شخص کو جان بچانے کےلیے کفر کی بات کہنے کی رخصت دی ہے، بشرطے کہ وہ دل میں ایمان پر جما رہے۔ تاہم اگر یہ شخص کفر کی بات نہ کہے اور نتیجتاً اسے قتل کیا جائے، تو یہ خود کشی کا مرتکب نہیں ہے بلکہ یہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہے۔
پہلی صورت میں رخصت پر عمل واجب ہے؛ دوسری صورت میں رخصت پر عمل محض جائز ہے؛
پہلی صورت میں رخصت پر عمل نہ کرکے یہ شخص خود کشی کا مرتکب ہوگا؛ دوسری صورت میں رخصت پر عمل نہ کرکے یہ شخص شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگا۔
اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ میں (فی الحال) نہیں بتاؤں گا۔
لیکن یہ فرق غامدی صاحب اور ان کے داماد کی سمجھ میں آجائے، تو شاید وہ “مہذب ترین فاتح” کے ناجائز لے پالک کی وکالت ترک کرکے قدسیوں کی حمایت شروع کریں؛ وما ذلک علی اللہ بعزیز!۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…