ایک بیانیہ کئی چہرے : مغرب، منکرینِ حدیث ، قادیانیت اور غامدی فکر ؟

Published On May 28, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

مدثر فاروقی

 

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ غامدی فکر میں وہ سب نظریات کیوں جمع ہیں جو پہلے سے مختلف فتنوں کے اندر بکھرے ہوئے تھے ؟
ہم نے برسوں سے سنا تھا کہ منکرینِ حدیث کہتے ہیں : حدیث تاریخی ہے ، وحی نہیں اب یہاں بھی یہی بات سننے کو ملی ، فرق صرف اندازِ بیان کا تھا۔
مغرب نے کہا : رجم ، یہ سزا غیر انسانی ہے ، قرونِ وسطیٰ کا ظلم ہے۔
غامدی صاحب نے کہا : رجم قرآن کے خلاف ہے ، یہ سزا رسول اللہ نے صرف ایک وقتی انتظام کے طور پر دی تھی ، شریعت کا مستقل حصہ نہیں۔
سیکولر دنیا کہتی ہے : ارتداد ایک انسانی حق ہے ، سزا دینا جبر ہے۔
غامدی صاحب نے کہا : اسلام میں مرتد کی سزا نہیں ، رسول اللہ نے صرف بغاوت کرنے والے مرتدین کو قتل کیا ورنہ آزادی ہر انسان کا حق ہے۔
لبرل طبقہ کہتا ہے : موسیقی فن ہے ، روح کی غذا ہے۔
غامدی صاحب نے کہا : موسیقی فی نفسہ حرام نہیں ، اگر اس میں فحاشی نہ ہو تو جائز ہے۔
مغربی فکری یلغار : مذہبی علامتیں دقیانوسی ہیں ، داڑھی شدت پسندی کی علامت۔
غامدی صاحب نے کہا : داڑھی سنت نہیں ، دین کا حصہ نہیں ہے۔
مغربی نعرہ: پردہ جبر ہے ، عورت کی آزادی میں رکاوٹ۔
غامدی صاحب نے کہا : دوپٹہ ہمارے ہاں ایک تہذیبی روایت ہے ، اس کا کوئی شرعی حکم نہیں۔
صیہونی بیانیہ: مسجد اقصیٰ یہودیوں کی میراث ہے ، مسلمانوں کا کوئی حق نہیں۔
غامدی صاحب نے کہا : مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کا حق نہیں ، یہ صرف یہودیوں کا ہے۔
مغربی مالیاتی نظام: سودی بیمہ نظام معیشت کا جزو ہے ، اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔
غامدی صاحب نے کہا : بیمہ شریعتاً جائز ہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
مساوات پسند لبرل بیانیہ: مرد و عورت ، مسلم و غیر مسلم سب برابر ہیں عدلیہ میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔
غامدی صاحب نے کہا: گواہی میں مرد و عورت۔ ، اور مسلم و غیر مسلم کا فرق غیر ضروری ہے سب کی گواہی برابر ہے۔
عالمی امن پسند ہیومن ازم کا بیانیہ : کسی دوسرے مذہب یا اس کے عقائد پر تنقید کرنا مذہبی منافرت ہے۔
غامدی صاحب نے کہا : ہمیں کسی کے کفر کو کفر نہیں کہنا چاہیے ، ہماری زبان سے ایسی باتیں نکلنا مناسب نہیں۔ جبکہ پوری امت نے قادیانی عقیدہ کو کفر قرار دیا۔
یہاں کہا گیا : ہمیں کسی کے ایمان یا کفر پر فیصلہ دینے کا حق نہیں وہ اللہ جانے۔
غامدی صاحب کہتے ہیں دین صرف قرآن اور سنت ہے ۔
باقی سب حدیث ، اجماع ، قیاس ، فقہ تاریخ ہے وہی بات جو مغربی تھیولوجی میں “historical religion” کے نام سے مشہور ہے۔
اب آپ ہی ہمیں بتائیے کہ کیا یہ تمام باتیں انکار حدیث سے لے کر مسجد اقصیٰ تک کیا واقعی صرف “اجتہادی آرا” ہیں؟ یا یہ سب پہلے سے چلنے والی فکری یلغار کی ایک نئی اردو بولتی ، اسلامی شکل ہے۔
حدیث کا انکار ہو تو ہمیں مغرب یاد آتا ہے اور غامدی صاحب بھی وہی کہتے ہیں ، رجم کو غیر انسانی کہنا ہو تو انسانی حقوق کی تنظیمیں بولتی ہیں اور غامدی صاحب بھی وہی کہتے ہیں ، حجاب کو ثقافت کہہ دینا ہو تو فیمینزم یہی کہتا ہے ، اور غامدی فکر بھی وہی دہراتی ہے ، داڑھی کو سنت نہ ماننا ہو تو مغربی کارٹون بھی یہی علامت بناتے ہیں اور ہمارے “دانشور” بھی مرتد کو نہ چھیڑنا ہو تو سیکولرزم بھی یہی کہتا ہے ، اور “مفسرین جدید” بھی۔۔ قادیانیوں کو کافر نہ کہنا ہو تو اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی یہی چاہتی ہیں ، اور غامدی فکر بھی یہی کہتی ہے مسجد اقصیٰ یہودیوں کی ہو تو صیہونی بھی یہی کہتے ہیں ، اور ہمارے اسکالرز بھی۔
دیکھ لیجئے ، ایک طرف مغرب کھڑا ہے اور دوسری طرف غامدی صاحب جو بغیر مغرب کا نام لیے ، بغیر ان کی کتابیں ہاتھ میں لیے بالکل انہی باتوں کو “اسلامی” لبادے میں رکھ کر ، نرم زبان ، شائستہ لہجے اور فکری لطافت کے ساتھ تمہارے دل میں اتار دیتے ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ دو بالکل مختلف تہذیبیں ، دو مختلف تاریخیں ، دو الگ نظریاتی بنیادیں بالکل ایک جیسے بیانیے پر متفق ہو جائیں اور ہم اسے “اتفاق” کہہ کر نظرانداز کر دیں ؟
ہم الزام نہیں لگا رہے نہ فتوے دے رہے ہیں۔
ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں : جب ہر سُر مغربی باجے سے ملنے لگے تو ساز چاہے اپنا ہو ، دھن پھر اپنی نہیں رہتی۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…