بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

Published On April 28, 2025
سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط اول)

حسن بن علی غامدی صاحب کا فکر فراہی کے تحت یہ دعوی ہے کہ حدیث قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کر سکتی (نہ تخصیص کر سکتی ہے نہ تنسیخ) اور چونکا رسول کی ذمہ داری بیان احکام مقرر کی گئی ہے (لتبين للناس ما نزل عليهم؛ ترجمہ: تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کر دیں جو آپ پر نازل ہوا) اور...

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

معراج النبی ﷺ کے بارے میں نظریات

مفتی منیب الرحمن معراج کب ہوئی‘ اس کے بارے میں ایک سے زائدا قوال وروایات ہیں ‘ لیکن روایات کا یہ اختلاف واقعہ کی حقانیت پر اثرانداز نہیں ہوتا‘ کیونکہ اصل مقصود واقعے کا حق ہونا اور اس کا بیان ہے‘ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے تاریخ کا بیان ثابت نہیں ہے‘...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ دوم تنقید)

مفتی منیب الرحمن جنابِ غلام احمد پرویز علامہ اقبال کا یہ شعر نقل کرتے ہیں :۔ چوں فنا اندر رضائے حق شود  بندۂ مومن قضائے حق شود  یعنی جب بندہ اللہ کی رضا میں فنا ہوجاتا ہے تو وہ حق کی قضا بن جاتا ہے ‘ وہ ا لنّہایہ لابن اثیر سے حضرت عمر ِ فاروقؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں...

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

لبرل دانشور اور فلسفہء دعا ( حصہ اول تمہید)

مفتی منیب الرحمن دعا بندے اور رب کے درمیان ایک ایسا تعلق ہے جو کسی ضابطے کا پابند نہیں ہے‘ نہ نماز کی طرح اس میں عربی زبان کا التزام ہے۔ الغرض بندے کی زبان کوئی بھی ہوحتیٰ کہ گونگا بھی ہو‘ وہ اپنے رب سے براہِ راست التجا کرسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں دعا کی...

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

تفہیمِ اسلام : دو تعبیرات اتمامِ حجت اور سنت

ناقد : کاشف علی تلخیص : زید حسن غامدی صاحب سے جزئیات پر بات نہیں ہو سکتی ۔ دین کی دو تعبیرات ہیں ۔ ایک تعبیر کے مطابق اسلام سیاسی سسٹم دیتا ہے ۔ لیکن غامدی صاحب دوسری تعبیر کے نمائندہ ہیں کہ اسلام کوئی سسٹم نہیں دیتا ۔ دونوں تعبیرات کے مطابق نیچے کی جزئیات مختلف ہو...

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

منبرِ جمعہ ، تصورِ جہاد : ایک نقد

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن اول ۔ یہ کہنا کہ جمعہ کا منبر علماء سے واپس لے لینا چائیے کیونکہ اسلامی تاریخی میں جمعہ کے منبر کا علماء کے پاس ہونا کہیں ثابت نہیں ہے ، یہ سربراہِ مملکت کا حق ہے اور علماء   غداری کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان ظالموں کی منطق بالکل...

ڈاکٹر زاہد مغل

حدیث کی کتاب کو جس معنی میں تاریخ کی کتاب کہا گیا کہ اس میں آپﷺ کے اقوال و افعال اور ان کے دور کے بعض احوال کا بیان ہے، تو اس معنی میں قرآن بھی تاریخ کی کتاب ہے کہ اس میں انبیا کے قصص کا بیان ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ نیز نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ وغیرہ)، اسی طرح اس میں رسول اللہﷺ کے حین حیات رونما ہونے والے بعض واقعات کا ذکر ہے (مثلا غزوہ بدر و احد وغیرہ)، بلکہ سب سے بڑھ کر یہ کہ خود قائل کے مطابق قرآن رسول اللہﷺ کی سرگزشت انداز ہے، یعنی تاریخ کے ایک خاص دور میں گزرے ایک خاص نبی کی جدوجہد کے واقعات و احوال کا بیان۔ اس معنی میں کوئی کتاب تاریخ کی کتاب ہونا دین کی کتاب ہونے کے خلاف نہیں کیونکہ اس کا تعین اس سے ہوتا ہے کہ اس کتاب سے ثابت ہونے والی اخبار پر حکم شرعی کیا لاگو کیا جاتا ہے۔

اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اسے “دین کی کتاب نہ کہنے” کا کیا مطلب ہے؟ یہاں لفظ دین کا معنی کھولنا ہوگا۔ دین سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو آپﷺ کی نسبت سے ثابت ہیں نیز جن پر ان کے حکم کے مطابق عمل کرنا واجب ہے، چاہے وہ احکام بطریق قطعیت ثابت ہوں یا بطریق ظن، چاہے ان احکام میں سے بعض کو اصل اور بعض کو فرع و شرح کہا جائے۔ اس معنی میں بخاری و مسلم وغیرہ قرآن کی طرح دین کی کتب ہیں کہ ان میں آٌپﷺ سے منسوب ایسے امور کا بیان ہے جن سے حکم شرعی ثابت ہوتا ہے اور جو واجب الاتباع ہے۔ جب جناب غامدی صاحب سے پوچھا جائے کہ کیا حدیث کی صحت ثابت ہوجانے کے بعد اس سے معلوم ہونے والے حکم پر (چاہے وہ ان کے مخصوص نظریہ بیان کے تحت ہو) عمل کرنا واجب ہے، تو وہ کہتے ہیں جی ہاں۔ پس جب وہ خود ایسا مانتے ہیں تو اس کے بعد یہ جملہ دین کے درج بالا مفہوم میں معنی خیز نہیں کہ بخاری تاریخ کی کتاب ہے نہ کہ دین کی۔ اس لحاظ سے ان کا یہ جملہ خود ان کے اصول کی رو سے غلط ہے اور وہ خود لفظ دین کو اس معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

البتہ قائل کے نزدیک لفظ دین کا اگر کوئی اور مفہوم مراد ہو تو پھر اس کے لحاظ سے بات ہوگی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو غامدی صاحب لفظ دین کو دو طرح استعمال کرلیتے ہیں، کبھی حکم شرعی کے اس مفہوم میں جو اوپر بیان ہوا اور کبھی ان اصل و قطعی احکام کے معنی میں جو قرآن اور سنت (سنت کے ان کے خاص مفہوم) سے ثابت ہیں۔ ان قطعی الثبوت احکام کے سوا احادیث سے ثابت ہونے والے احکام کو وہ فرع کہتے ہیں اور انہیں دین سے الگ کرتے ہوئے ان کے لئے “فقہ النبی” وغیرہ بولتے ہیں۔ چنانچہ “بخاری تاریخ کی کتاب ہے نہ کہ دین کی” جملے میں امکان یہ ہے کہ دین سے وہ یہ دوسرا معنی مراد لیتے ہیں۔ اصطلاح بنانے میں اگرچہ جھگڑا نہیں، تاہم ان کا یہ استعمال خود ان کے اصول کی رو سے غیر ہم آہنگ ہے اس لئے کہ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ “آپ نے لکھا ہے کہ حدیث سے دین میں کسی حکم کا اضافہ نہیں ہوتا جس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حدیث درج بالا عام مفہوم میں دین نہیں”، تو وہ کہتے ہیں کہ چونکہ حدیث سے معلوم ہونے والے احکام دین (یعنی قرآن و سنت میں مذکور احکام کی) فرع و شرح ہیں اور جب اصل کی بات کی جائے تو فرع و شرح خود بخود اس میں شامل ہوجاتے ہیں لہذا اسے الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ معلوم ہوا کہ ان کے اصول کی رو سے جب وہ دین کو اصل و قطعیات کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اس وقت حدیث سے معلوم ہونے والے احکام خود بخود اس میں شامل ہوتے ہیں۔ چنانچہ “بخاری تاریخ کی کتاب ہے نہ کہ دین کی”، اس دوسرے مفہوم کے لحاظ سے بھی خود غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے محل نظر جملہ ہے۔

اس غیر ہم آھنگی کو دور کرنے کی ایک توجیہہ یہ کی گئی ہے کہ بخاری وغیرہ کی بنیاد قرآن و سنت کی طرح وحی نہیں حالانکہ یہ بات بھی خود غامدی صاحب کے اصول کی رو سے درست نہیں اس لئے کہ ان کا یہ ماننا ہے کہ آپﷺ پر قرآن کے سوا بھی وحی آتی تھی اور حدیث کی کتب میں آپﷺ سے متعلق جو امور بیان ہوئے ہیں ان میں ایسے بھی ہیں جو اصلآً آپﷺ نے خود پر نازل ہونے والی وحی کی روشنی میں بیان کئے یا سرانجام دئیے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان کا مبنی بر وحی ہونا بطریق قطعیت ثابت ہے یا ظن کیونکہ عمل تو غامدی صاحب کے نزدیک دونوں پر واجب ہے۔ الغرض یہ تاویل بھی غیر آہم آھنگی کو دور کرنے والی نہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…