تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

Published On November 23, 2023
داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

داڑھی کی بابت جاوید احمد غامدی صاحب کے مؤقف کا جائزہ

مولانا نیاز محمد مروت صاحب جناب جاوید غامدی صاحب نے مردوں کے داڑھی رکھنے کے معمول چلے آنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داڑھی رکھنے کی عادت کا اعتراف کیا ہے ، جو کہ حق بات ہے، بشرطیکہ طبعی عادت کے طور پر نہیں، بلکہ معمول کے طور پر داڑھی رکھنا مراد ہو، چنانچہ اس پر...

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

تفہیمِ غامدی ، خبرِ واحد اور تصورِ سنت

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب تلخیص : زید حسن اس ویڈیو میں سپیکر حافظ محمد زبیر صاحب نے " بعض افراد" کے اس دعوے کہ آپ کی تفہیمِ غامدی درست نہیں ، کو موضوعِ بحث بنایا ہے ۔ لیکن اس پر از راہِ تفنن گفتگو کرنے کے بعد چند اہم مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے اور غامدی منہج پر سوالات...

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

تراویح کے متعلق غامدی صاحب کے غلط نظریات کا رد

ڈاکٹر نعیم الدین الازہری صاحب تلخیص : زید حسن رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں امتِ مسلمہ روزے اور عبادات میں مشغول ہے ، لیکن سوشل میڈیا پر چند ایسی آوازیں گاہے بگاہے اٹھتی نظر آتی ہیں جن میں ان عبادات کا انکارکیا گیا ہے جن پر امتِ مسلمہ ہزاروں سالوں سے عمل کرنی چلی...

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

ابن عابدین شامی کی علامہ غامدی کو نصیحت

سمیع اللہ سعدی علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فتاوی شامی میں متعدد مقامات پر مسئلہ ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :۔و ھذا مما یعلم و یکتم یعنی یہ مسئلہ سیکھنا تو چاہیے ،لیکن عممومی طور پر بتانے سے گریز کیا جائے ۔فقاہت اور دین کی گہری سمجھ کا یہی تقاضا ہے کہ کتابوں میں...

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

علمِ کلام پر غامدی صاحب کی غلط فہمی

ڈاکٹر زاہد مغل صاحب   جناب غامدی صاحب علم کلام پر ماہرانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ علم بے معنی و غیر ضروری ہے اس لئے کہ یہ فلسفے کے اس دور سے متعلق ہے جب وجود کو علمیات پر فوقیت دی جاتی تھی، علم کلام وجودی فکر والوں کے طلسم خانے کا جواب دینے کے لئے وضع کیا...

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

آنلائن تراویح کا جواز : غامدی صاحب کا نیا فتوی

مفتی طارق مسعود صاحب تلخیص : زید حسن مسئلہ پوچھا گیا ہے کہ کیا تراویح کی نماز یوٹیوب پر لگا کر اسکی اقتداء میں پڑھ سکتے ہیں؟یہ غامدی صاحب نے نیا مسئلہ بیان کر دیا ہے اور اسکی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ آجکل گلوبل ویلج ہے، ایک دوسرے کی حرکات و سکنات دیکھی جا سکتی ہیں اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں

سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے

اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں

جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو موجود ہیں کہ اس کا قرآن جیسی قطعی الدلالۃ چیز کو منسوخ کردینا بالکل خلاف عقل ہے

قرآن جیسی قطعی الدلالۃ جیسی ترکیب از خود مغالطہ انگیز ہے چہ جائیکہ یہ متعلقہ دعوے کی دلیل بن سکے (فی الوقت ہمیں اس پہلو سے سروکار نہیں، اس پر الگ سے بات ہوچکی)۔ یہاں اہم بات ان کا یہ دعوی ہے کہ نسخ بیان و تبیین نہیں ہے کیونکہ ان کے مطابق سنت تبیین کرتی ہے نہ کہ نسخ۔ لیکن اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ بیان کن امور سے عبارت ہے تو اس کا جواب غامدی صاحب کے یہاں کتاب “برھان” میں ان امور کی صورت ملتا ہے

الف ۔لغوی مفہوم کا پھیلاؤ
ب ۔ جملے کی نحوی ترکیب کا تقاضا
ج ۔ سیاق و سباق
د ۔ متکلم کی عادت
ھ ۔ عقل عام

تغییر، تبدیل و نسخ کے بیان نہ ہونے سے متعلق وہ لکھتے ہیں کہ

کسی کلام کے وجود میں آنے کے بعد جو تغیر بھی اُس کلام کی طرف منسوب کیا جائے گا، آپ اُسے ’نسخ‘ کہیے یا ’تغیر و تبدل‘ ، اُسے ’تبیین‘ یا ’بیان‘ یا ’شرح‘ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

مولانا اصلاحی و غامدی صاحب کا تصور بیان مبہم ہونے کے ساتھ ساتھ ناقص و محدود بھی ہے اور یہ اصل سوالات کا جواب فراہم نہیں کرتا۔ آئیے یہاں حنفی اصولیین کے ہاں بیان کی اقسام کی روشنی میں بیان کا مفہوم سمجھتے ہیں جس سے بیان کا تصور نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔

کسی شے کا بیان دو جہات میں ہوسکتا ہے۔ فقہ چونکہ حکم شرعی سے بحث کرتی ہے، لہذا حکم کا بیان دو جہات میں ہوسکتا ہے۔

الف۔  حکم کے مفہوم کا بیان (یعنی حکم کیا اور کس چیز کا ہے) ب ۔ حکم سے متعلق بعض تفصیلات کا بیان۔ دونوں کی تفصیل یہ ہے

الف ۔ حکم کیا ہے، مثلاً فرضیت نماز

 حکم کا مفہوم لفظ سے از خود واضح ہوگا یا نہیں ہوگا۔ حکم کا مفہوم واضح نہ ہونے میں چند طرح کے امکانات کی وجہ سے ابہام کا احتمال ہوتا ہے

الف) مشترک لفظ کےاستعمال کی وجہ سے (جیسے ثلاثۃ قروء)
ب) حقیقی و مجازی معنی کے مابین احتمال کی وجہ سے (جیسے اولمستم النساء)
ج) لفظ کے معنی میں کسی ایسے شرعی مفہوم کا اضافہ ہوجانے کی وجہ سے جو لغت سے معلوم نہ ہوسکے (جیسے اقیموا الصلوۃ)

ان صورتوں میں حکم کا مفہوم مقرر کرنے کے لئے جو وضاحت لائی جائے، وہ “بیان تفسیر” ہے (امر، نہی، حقیقت مجاز، مشترک موول وغیرہ جیسی ابحاث اصول فقہ میں اس تناظر میں آتی ہیں)

ب ۔ حکم کا مطلب واضح ہونے کے بعد درج ذیل اہم امور اس کی جانب متوجہ ہوسکتے ہیں جو جواب طلب ہوتے ہیں

الف) کیا حکم اب بھی باقی ہے یا نہیں؟ یعنی نسخ کا بیان، اسے اصطلاحاً “بیانِ تبدیل” کہتے ہیں

ب) کیا حکم لفظ میں بظاہر مذکور تمام افراد پر لاگو ہے یا بعض کی تخصیص خود متکلم کے خطاب سے ثابت ہے اور جو یہ بتاتی ہے کہ متکلم نے ظاہری عموم کبھی مراد ہی نہیں لیا؟ یعنی حکم کی تخصیصات کا بیان، اسے اصطلاحاً عام کی تخصیص کی بحث کہتے ہیں

ج) کیا خود حکم پر کچھ شروط و قیود عائد ہیں؟ یعنی حکم کی تقییدات کا بیان، اسے اصطلاحاً مطلق و مقید کی بحث کہتے ہیں

د) کیا حکم میں کچھ استثناء ہے؟

 ب تا د کو اصطلاحاً “بیان تغییر” کہتے ہیں

ھ) حکم کی صحت کے لئے ضروری قضایا یا حکم سے جنم لینے والے ضروری قضایا کی تفصیلات کا بیان، اسے اصطلاحاً “بیان ضرورت” کہتے ہیں

یہ ہے کسی حکم کے بیان کا واضح ادراک۔ قرآن میں شارع کا مطلوب حکم کبھی اس سادگی کے ساتھ مذکور نہیں ہوتا کہ “نماز پڑھو”، بلکہ حکم ان تمام کلی امور (یعنی استثناءات، تخصیصات، تقییدات، تنسیخات و دیگر تقاضوں) کے ساتھ ہی مطلوب ہوتا ہے اور انہی کی وضاحت سے حکم واضح ہوتا ہے۔ یہ بحث کہ آیا سنت و حدیث سے تخصیص یا نسخ ہوسکتا ہے یا نہیں یہ ثانوی بات ہے، یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر نسخ، تخصیص، تقیید وغیرہ کس لغوی و عقلی اصول کی رو سے متکلم کے بیان سے خارج ہے؟ آخر ایک حکم کا بیان ان امور کے سوا کس چیز کا نام ہے؟ یہ کہنا کہ “بیان شرح کا نام ہے”، اس سوال کا کوئی جواب نہیں، کسی حکم کی مثلا “انتہائے مدت” بتانا بھی حکم کی شرح ہی کہلاتی ہے۔ خود قرآن نے ان سب امور کو “تبیین” قرار دیا ہے جس پر ہم الگ سے ایک تحریر لکھ چکے ہیں۔

چنانچہ کہنا پڑتا ہے کہ دیگر امور کی طرح مکتب فراہی کے ہاں بیان کی بحث بھی انڈر ڈویلپڈ ہے اور یہاں اس بات کا کلی ادراک موجود نہیں کہ آیا بیان اصلاً کن امور سے عبارت ہے اور کن سے نہیں۔ جونہی بیان و تبیین کا وہ درست مفہوم واضح ہو جائے جو اصولیین نے واضح کیا اور اس کے ساتھ یہ بات ملا لی جائے کہ سنت و حدیث قرآن کے حکم کی تبیین کرتی ہے تو معاملہ سمجھنا بالکل آسان ہوجاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زاہد صدیق مغل، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں معاشیات کے استاذ اور متعدد تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…