تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

Published On May 5, 2025
حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف یہ بات بہرحال غامدی صاحب کو ہی ثابت کرنی ہے کہ حاسہ باطنی سے مراد کونسی حسیات ہیں اور ان کے لیے "حس" کی اصطلاح کیوں موزوں ہے؟ سر دست یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیوں یہ اصطلاح بہت حوالوں سے غیر موزوں ہے: ۱۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ اصطلاح خلط مبحث پیدا کرتی ہے...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف جاوید صاحب جب وجودی حقائق کی تعریف کرتے ہیں تو یوں کرتے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن کا انکار ممکن نہیں ہوتا۔ اب چونکہ اس میں بہت بحث تمحیص پڑتی ہے اور بہت سے ایسے حقائق جن کو وجودی حقائق مانا جا رہا تھا اور اب اٗن کا انکار ہوگیا ہے تو وہ اس پر مزید ایک...

وجودی حقائق اور غامدی صاحب 2

وجودی حقائق اور غامدی صاحب

محمد حسنین اشرف  دوسری قسط میں غامدی صاحب وجودی حقائق کی تعریف یوں کرتے ہیں: "وجودی حقائق اٗن حقائق کو کہتے ہیں کہ آپ چاہیں تو آپ اپنا سر اٗن سے ٹکرا کر اس کو پھوڑ سکتے ہیں اٗن کا انکار نہیں کرسکتے۔" اس سے قبل انہوں نے سوال کے جواب میں ہیوم کی دیکارت پر نقد (وجودی...

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

غامدی صاحب اور الحاد کا مقدمہ

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حاسہ باطنی کی تعبیر اور غامدی صاحب

انسان کا حاسہ باطنی اور غامدی صاحب 2

محمد حسنین اشرف باطنی حواس پر غامدی صاحب گفتگو کچھ یوں فرماتے ہیں: "جس طریقے سے ظآہری حواس کو لوگوں نے حواس کی تعبیر دی ہے، اگر آپ غور کریں تو وہ باطنی حواس کو بھی دیے ہوئے ہیں۔ ہم عام زبان میں کہتے ہیں کہ میری حس جمالیات اس سے متاثر ہوئی ہے۔ میرے حاسہ اخلاقی نے یہ...

حسان بن علی

غامدی صاحب کے اسلاف میں ماضی کی ایک اور شخصیت غلام قادیانی، حدیث کے مقام کے تعین میں لکھتے ہیں :
“مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لیے تین چیزیں ہیں.
١) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جسے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی لاشوں سے پاک ہے.
٢) دوسری سنت اور اس جگہ اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہو کر بات کرتے ہیں یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز. سنت سے مراد ہماری صرف انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تواتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی.
٣) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث مراد ہماری وہ آثار ہیں جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبا ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعے سے جمع کیے گئے. پس سنت اور حدیث میں ما به الامتیاز یہ ہے کہ سنت ایک عملی طریق ہے جو اپنے ساتھ تواتر رکھتا ہے جس كو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے جاری کیا اور یقینی مراتب میں قرآن شریف سے دوسرے درجے پر ہے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف کی اشاعت کے لیے مامور تھے ایسا ہی سنت کی اقامت کے لیے بھی معمول تھے پس جیسا کہ قرآن شریف یقینی ہے ایسا ہی سنت معمولہ متواترہ بھی یقینی ہے. یہ دونوں خدمات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بجا لائے اور دونوں کو اپنا فرض سمجھا … پس عملی نمونہ جو اب تک امت میں تعامل کے رنگ میں مشہود و محسوس ہے اسی كا نام سنت ہے لیکن حدیث كو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے روبرو نہیں لکھوایا اور نہ اس کی جمع کرنے کے لیے کوئی اہتمام کیا… اس میں شک نہیں ہو سکتا کہ اکثر حدیثوں کی جمع کرنے والے بڑے متقی اور پرہیزگار تھے انہوں نے جہاں تک ان کی طاقت میں تھا حدیثوں کی تنقید کی اور ایسی حدیثوں سے بچنا چاہا جو ان کی رائے میں موضوعات میں سے تھی اور ہر ایک مشتبہ الحال راوی کی حدیث نہیں لی. بہت محنت کی مگر تاہم چونکا وہ ساری کاروائی بعد از وقت تھی اس لیے وہ سب ظن کے مرتبے پر رہی بايں ہمہ یہ سخت نا انصافی ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ وہ سب حدیثیں لغو اور نکمی اور بے فائدہ اور جھوٹی ہیں بلکہ ان حدیثوں کے لکھنے میں اس قدر احتیاط سے کام لیا گیا ہے اور اس قدر تحقیق اور تنقید کی گئی ہے جس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں پائی جاتی … پس مذہب اَسلم یہی ہے کہ نہ تو اس زمانے کے اہل حدیث کی طرح حدیثوں کی نسبت یہ تقاضا رکھا جائے قرآن پر وه مقدم ہیں اور نیز اگر ان کے قصے صریح قرآن کے بیانات سے مخالف پڑیں تو ایسا نہ کریں کہ حدیثوں کے قصوں کو قرآن پر ترجیح دی جاوے اور قرآن کو چھوڑ دیا جاوے اور نہ حدیثوں کو مولوی عبداللہ چکڑوالوی کے عقیدے کی طرح محض لغو اور باطل ٹھہرایا جائے بلکہ چاہیے کہ قرآن اور سنت کو حدیثوں پر قاضی سمجھا جائے اور جو حدیث قرآن و سنت کے مخالف نہ ہو اس کو بسر چشم قبول کیا جائے یہی صراط مستقیم ہے” (روحانی خزائن جلد 19، ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، صفحہ ٢١٠، ٢١١، ٢١٢)
اب تک کی بحث سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ درجہ ذیل ہیں
١) غامدی صاحب اسی طرح غلام قادیانی کے نزدیک، حدیث اور سنت میں ( باعتبار مصدر تشریع) فرق ہے. (مولانا امین احسن صلاحی کا بھی یہی نقطہ نظر ہے، دیکھیے مبادی تدبر حدیث)
٢) غامدی صاحب اسی طرح غلام قادیانی کے نزدیک، سنت کے لیے متواتر ہونا اور عملی نوعیت کا ہونا ضروری ہے (غامدی صاحب اس متواتر عمل میں کچھ مزید شرائط کا اضافہ کر کے اسے سنت کا عنوان دیتے ہیں)
٣) غامدی صاحب اسى طرح اسلم جيراجپوری صاحب اور غلام قاديانى کے نزدیک، حدیث کو دين سمجھ کر جمع نہیں کیا گیا اور اگر ایسا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کا اہتمام فرماتے.
٤) غامدی صاحب اسى طرح اسلم جيراجپوری صاحب کے نزدیک، دین قرآن اور عملی تواتر (جسے وہ چند مزید شرائط کے ساتھ سنت کا ہی عنوان دیتے ہیں) میں محصور ہے.
٥) غامدی صاحب اسى طرح اسلم جيراجپوری صاحب اور غلام قاديانى، حدیث کو قرآن اور عملی تواتر سے جاری کردہ احکامات کی تبيين وتفہیم میں حجت مانتے ہیں.
٦) غامدی صاحب اسى طرح اسلم جيراجپوری صاحب اور غلام قاديانى کے نزدیک، تمام حدیث اخبار احاد کی کیٹگری میں ہیں. ان کے نزدیک کوئی حدیث مشہور یا متواتر کی کیٹگری میں شامل نہیں. یعنی تمام حدیثیں ظنى ثبوت ہی ٹھہرتی ہیں (اور یہی رجحان مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کا ہے)
٧) غامدی صاحب اسى طرح اسلم جيراجپوری صاحب کے نزدیک، حدیث کسی نئے حکم کے لیے ماخذ نہیں بن سکتی یا دوسرے لفظوں میں مستقل بذات احکام کے لیے حدیث حجت نہیں. (مولانا امین احسن اصلاحی اور غلام قادیانی اسے حجت قرار دیتے ہیں)
٨) اسی طرح جملہ منکرین اور مستخفین حدیث کی طرف سے قرآن کارڈ کا استعمال کہ اپنے محتمل فہم قرآن يعنى ظنى الدلالة کو حدیث کے قطعى الدلالة بيان پر ترجیح دیتے ہوئے حدیث کا انکار یا حدیث کی ظاہر معنی کے خلاف تاویل اور اس سب کی وجہ حدیث کو ظنى الثبوت ٹھہرانا، چاہے وہ خبر مشہور یا متواتر ہی کیوں نہ ہو.
اس قدر اصولی اشتراک سے واضح ہو جاتا ہے کہ غامدی صاحب کے چشمہ ناصافی کے سوتے کہاں سے پھوٹتے ہیں. اس کے باوجود وہ خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں سلف صالحین سے جوڑا جائے نہ کہ سلف طالحين سے. چنانچہ اسى معصومیت میں وہ فرماتے ہیں
“یہ محض اصطلاحات کا اختلاف ہے، ورنہ حقیقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو میرے اور ائمۂ سلف کے موقف میں سرمو کوئی فرق نہیں ہے. میرے ناقدین اگر میری کتاب ‘میزان’ کا مطالعہ دقت نظر کے ساتھ کرتے تو اِس چیزکو سمجھ لیتے اور اُنھیں کوئی غلط فہمی نہ ہوتی. یہ توقع اب بھی نہیں ہے” (مقامات)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…