تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

Published On May 5, 2025
واقعہ معراج اور غامدی صاحب

واقعہ معراج اور غامدی صاحب

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن جسمانی معراج کے انکار پر غامدی صاحب کا استدلال " وما جعلنا الرؤیا التی" کے لفظ رویا سے ہے ۔حالانکہ یہاں لفظ رویا میں خواب اور رویت بمعنی منظر دونوں کا احتمال ہے اور واقعے کے جسمانی یا روحانی ہونے پر قرآن کا بیان جہاں سے شروع...

تصوف کے ظروف پر چند غلط العام استدلال

تصوف کے ظروف پر چند غلط العام استدلال

 ڈاکٹر زاہد مغل - پہلا: جب ناقدین سے کہا جائے کہ "قرآن و سنت کو سمجھ کر احکامات اخذ (یعنی "خدا کی رضا" معلوم) کرنے کے لئے اگر یونانیوں کے وضع کردہ طرق استنباط سیکھنا سکھانا اور استعمال کرنا جائز ہے، جب کہ سنت نبوی میں انکی تعلیم کا کوئی بھی ذکر نہیں ملتا، تو صوفیاء...

کیا وحی کے ساتھ الہام، القا اور کشف بھی صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہیں؟

کیا وحی کے ساتھ الہام، القا اور کشف بھی صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہیں؟

 محمد فیصل شہزاد معترضین ایک حدیث مبارکہ سناتے ہیں، جس میں ارشاد نبوی ہے: مفہوم: "میرے بعد نبوت باقی نہیں رہے گی سوائے مبشرات کے، آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : یا رسول اﷲ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اچھے یا نیک خواب۔‘‘...

جاوید احمد غامدی صاحب کا قادیانیت اور تصوف کے بارے میں کھلا تضاد

جاوید احمد غامدی صاحب کا قادیانیت اور تصوف کے بارے میں کھلا تضاد

 محمد فیصل شہزاد اگر بات یہیں تک محدود رہتی کہ آنجناب کہتے: "مرزا نے وہی بات کی جو شروع سے صوفیاء کہتے آ رہے تھے... بلکہ ان کے کلام میں تو خدائی کے دعوے تک ملتے ہیں... تو اگر مرزا کو مرتد اورمنکر ختم نبوت کہتے ہو تو... پھر صوفیاء کے کفر کو بھی تسلیم کرو ورنہ پھر...

کیا تصوف صرف ابن عربی رحمہ اللہ کے کلام اور وحدۃ الوجود پر قائم ہے؟

کیا تصوف صرف ابن عربی رحمہ اللہ کے کلام اور وحدۃ الوجود پر قائم ہے؟

 محمد فیصل شہزاد دو دن قبل محترم احمد بشیر طاہر صاحب نے غامدی صاحب کے 2014 کے دو بیانات اپ لوڈ کیے... غامدی صاحب نے ان دونوں کلپس میں صوفیاء کرام کی فاش غلطیوں کو واضح کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے نبوت کے دعوے اور اس کی بنیادوں کو صوفیاء کے کلام سے اخذ کرنے کی بات کی ہے!...

جاوید احمد غامدی کا گھناونا انحراف متعلق بعقیدہ

جاوید احمد غامدی کا گھناونا انحراف متعلق بعقیدہ

  اول : قرآن کے مختلف مشاہدہ/تجزیے کا انکار  قرآن کی صرف ایک قرات ہی درست و متواتر ہے، باقی فتنہ عجم ہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں غامدی صاحب پوری امت میں اکیلے کھڑے ہیں اور میرے ناقص علم میں کسی قدیم فقیہہ یا عالم نے اس معاملہ میں غامدی صاحب کی ہمنوائی نہیں کی۔...

حسان بن علی

غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں
“قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر شعبہ حیات میں اتنی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ اس کے نور میں اللہ کی مرضی کے مطابق کام کر سکے.
اس کی عملی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دی ہے جو امت کے لیے اسوہ حسنہ ہے اور اس میں تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے.
عمل بالقرآن کا زمانہ رسالت و خلافت راشدہ تک ہے جس کے بعد مستبد سلاطین کے تسلط سے دینی لا مرکزیت اور انفرادیت آگئی. اس عہد کی کوئی بات خواہ حدیث ہو خواہ فقہ دینی حجت نہیں ہے ہاں قرآن یا اسوہ حسنہ کے مطابق ہونے پر قبول کی جائے گی. حدیث کا صحیح مقام ‘دینی تاریخ’ ہے اور فقہ کا ‘ہنگامی اجماع یا قیاس’ ” (ہمارے دینی علوم، صفحہ ١٢٤)
اسى طرح غامدی صاحب کے نزدیک بھی حدیث کی حیثیت ایسے تاریخی ریکارڈ کی ہے (جو مستقل طور حجت نہیں) جو نہ دين میں کوئی اضافہ کر سکتی ہے نہ کمی. ان کے نزدیک بھی دین، قرآن اور متواتر عمل (جسے وہ چند مزید شرائط کے ساتھ سنت کا عنوان دیتے ہیں اور اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں يعنى حجت مانتے ہیں) کی صورت مکمل ہے. چنانچہ اپنی کتاب میزان میں وہ لکھتے ہیں
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں ’حدیث‘ کہا جاتا ہے، اُن کے بارے میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اُن سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا. چنانچہ اِس مضمون کی تمہید میں ہم نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے. لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح ،آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم و تبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ حدیث ہی ہے” (میزان)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…