تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

Published On May 5, 2025
جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(6) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب کے موقف کی تنقیح مزید اور چند اہم تجزیاتی نکات زیر بحث مسئلہ ایک تعبدی امر ہے۔ دین اسلام میں عبادات تمام تر توقیفی ہیں۔ انسانی فہم اور رائے کو ان میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جب کہ مندرجہ بالا تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ اس قضیے میں غامدی صاحب کے موقف...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(5) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(4) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز غامدی صاحب نے اپنے موقف کے لیے جن دور وایتوں کو بہ طور استدلال پیش کیا ہے، ان میں سے ایک روایت سیدہ ام سلمہ سے مروی ہے جس کا ایک متن صحیح مسلم میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: " مَنْ كَانَ لَهُ ذِبْحٌ يَذْبَحُهُ فَإِذَا...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(3) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز دین ابراہیمی سے چلے آنے والے حج یا عمرہ کے مناسک میں انڈر یا اس کے مترادف کسی نام اور عنوان سے کوئی مستقل بالذات منسک یا عبادت قطعا نہیں پائی جاتی۔ ایسی کوئی عبادت نہ نام کے اعتبار سے پائی جاتی ہے ،نہ تصور کے لحاظ سے اور نہ مصداق کے اعتبار سے مناسک حج و...

حسان بن علی

غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں
“قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر شعبہ حیات میں اتنی روشنی رکھ دیتا ہے کہ وہ اس کے نور میں اللہ کی مرضی کے مطابق کام کر سکے.
اس کی عملی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرما دی ہے جو امت کے لیے اسوہ حسنہ ہے اور اس میں تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے.
عمل بالقرآن کا زمانہ رسالت و خلافت راشدہ تک ہے جس کے بعد مستبد سلاطین کے تسلط سے دینی لا مرکزیت اور انفرادیت آگئی. اس عہد کی کوئی بات خواہ حدیث ہو خواہ فقہ دینی حجت نہیں ہے ہاں قرآن یا اسوہ حسنہ کے مطابق ہونے پر قبول کی جائے گی. حدیث کا صحیح مقام ‘دینی تاریخ’ ہے اور فقہ کا ‘ہنگامی اجماع یا قیاس’ ” (ہمارے دینی علوم، صفحہ ١٢٤)
اسى طرح غامدی صاحب کے نزدیک بھی حدیث کی حیثیت ایسے تاریخی ریکارڈ کی ہے (جو مستقل طور حجت نہیں) جو نہ دين میں کوئی اضافہ کر سکتی ہے نہ کمی. ان کے نزدیک بھی دین، قرآن اور متواتر عمل (جسے وہ چند مزید شرائط کے ساتھ سنت کا عنوان دیتے ہیں اور اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں يعنى حجت مانتے ہیں) کی صورت مکمل ہے. چنانچہ اپنی کتاب میزان میں وہ لکھتے ہیں
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کی روایتیں جو زیادہ تر اخبار آحاد کے طریقے پر نقل ہوئی ہیں اور جنھیں اصطلاح میں ’حدیث‘ کہا جاتا ہے، اُن کے بارے میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ اُن سے دین میں کسی عقیدہ وعمل کا کوئی اضافہ نہیں ہوتا. چنانچہ اِس مضمون کی تمہید میں ہم نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ یہ چیز حدیث کے دائرے ہی میں نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے. لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح ،آپ کے اسوۂ حسنہ اور دین سے متعلق آپ کی تفہیم و تبیین کے جاننے کا سب سے بڑا اور اہم ترین ذریعہ حدیث ہی ہے” (میزان)

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…