جہاد، قادیانی اور غامدی صاحب، اصل مرض کی تشخیص

Published On April 21, 2025
غامدی صاحب کا تصور سنت

غامدی صاحب کا تصور سنت

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی اور ان کے مکتب فکر کے ترجمان ماہنامہ ’’اشراق‘‘ لاہور کا اپریل ۲۰۰۸ء کا شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں غامدی صاحب کے رفیق کار جناب محمد رفیع مفتی نے سوال و جواب کے باب میں دو سوالوں کے جواب میں سنت نبوی کے بارے میں غامدی...

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

ابو عمار زاہد الراشدی جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

مولانا واصل واسطی پانچویں بات اس سلسلے میں یہ ہے ۔ کہ جناب نے جوکچھ اوپر مبحوث فیہ عبارت میں لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ   ہم اس  فہرستِ سنت میں سے جس کا ذکر قران مجید میں آیا ہے ۔ اس کے مفہوم کاتعین ان روایات ہی کی روشنی میں کرتے ہیں محض قران مجید پراکتفاء نہیں کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 87)

مولانا واصل واسطی تیسری بات اس عبارت میں جناب غامدی نے یہ لکھی ہے کہ "قران میں اس کے جن احکام کا ذکر ہواہے ان کی تفصیلات بھی اسی اجماع وتواترپر مبنی روایت سے متعین ہو ں گی ۔ انہیں قران سے براہِ راست اخذ کرنے کی کوشش نہیں جائے گی " ( میزان ص 47) اس بات پر بھی جناب...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 88)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 86)

مولانا واصل واسطی اب دوسری مستثنی صورت کو دیکھتے ہیں: جناب غامدی لکھتے ہیں" دوم یہ کہ کسی معاشرے میں اگرقحبہ عورتیں ہوں توان سے نمٹنے کے لیے قران مجید کی روسے یہی کافی ہے کہ چار مسلمان گواہ طلب کیے جائیں ۔ جو اس بات پر گواہی دیں کہ فلان عورت فی الواقع زنا کی عادی ایک...

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

ابو عمار زاہد الراشدی محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ اور اس کے ساتھ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن...

حسان بن علی

بات محض حکمت عملی کے اختلاف کی نہیں کہ مسلمان فی الحال جنگ کو چھوڑ رکھیں بلکہ بات پورے ورلڈ ویو اور نظریے کی ہے کہ غامدی صاحب کی فکر میں مسلمانوں کی اجتماعی سیادت و بالادستی اساسا مفقود ہے (کہ خلافت کا تصور ان کے نزدیک زائد از اسلام تصور ہے)، اسى طرح مسلمانوں کو اغیار کی بالواسطہ یا بلا واسطہ غلامی سے نکالنے کی فکر اور اس کے لیے لائحہ عمل ان کے مقاصد میں شامل نہیں، اسى طرح نیو ورلڈ ارڈر سے بیزاری اور آزادى کی تدبیریں ان سب امور سے لا تعلقی. یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ جب آپ ایک چیز کو غلط نہیں سمجھتے تو اس کو بدلنے کی تدبیر بھی آپ کے ایجنڈے کا حصہ نہیں ہو سکتی. پہلا قدم ہی بیزاری کا ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے براءت و بیزاری کے عمل کو ہمارے لیے اسوہ قرار دیا گیا ہے. جب یہ براءت اور بیزاری ہوگی تب ہی اس سے نبرد آزما ہونے کی تدابیر اختیار کی جائیں گی.۔

ویسے غلام قادیانی (يستحق ما يستحق وعليہ ما عليہ) کو بھی اپنے وقت کے احراريوں ومجاہدوں سے چڑ تھی کیونکہ جہاں باقیوں کی دم کٹی ہے تو وہاں یکسانیت ضروری ٹھہرتی ہے. چنانچہ غلام قادیانی لکھتے ہیں

“افغان مزاج کے آدمی اس تعلیم کو برا مانیں گے مگر ہم کو اظہار حق سے غرض ہے نہ کہ خوش کرنے سے اور نہایت مضر اعتقاد جسے اسلام کی روحانیت کو بہت ضرر پہنچ رہا ہے یہ ہے کہ یہ تمام مولوی ایک ایسے مہدی کے منتظر ہیں جو تمام دنیا کو خون میں غرق کر دے اور خروج کرتے ہی قتل کرنا شروع کر دے” (روحانی خزائن جلد 8، سر الخلافہ، صفحہ 404)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں

۔”جب ہم ایک طرف سرحدی وحشی قوموں میں غازی بننے کا شوق دیکھتے ہیں تو دوسری طرف اس ملک کے مولویوں میں اپنی گورنمنٹ اور اس کے انگریزی حکام کی سچی ہمدردی کی نسبت وہ حالت ہمیں نظر نہیں آتی اور نہ وہ جوش دکھائی دیتا ہے. اگر یہ اس گورنمنٹ عالیہ کے سچے خیر خواہ ہیں تو کیوں بالاتفاق ایک فتوی تیار کر کے سرحدی ملکوں میں شائع نہیں کرتے تاان نادانوں کا یہ عذر ٹوٹ جائے کہ ہم غازی ہیں اور ہم مرتے ہی بہشت میں جائیں گے. میں سمجھ نہیں سکتا کہ مولویوں اور ان کے پیروں کا اس قدر اطاعت کا دعوی اور پھر کوئی عمدہ خدمت نہیں دکھلا سکتے بلکہ یہ کلام تو بطریق تنزل ہے. بہت سے مولوی ایسے بھی ہیں جن کی نسبت اس سے بڑھ کر اعتراض ہے. خدا ان کے دلوں کی اصلاح کرے. غرض مخلوق کے حقوق کی نسبت ہماری قوم اسلام میں سخت ظلم ہو رہا ہے جب ایک محسن بادشاہ کے ساتھ یہ سلوک ہے تو پھر اوروں کے ساتھ کیا ہوگا” (روحانی خزائن جلد 17، گورنمنٹ انگریزی اور جہاد، صفحہ 25)

اسى طرح دونوں میں ایک اور وجہ اشتراك ان کا اقدامی جہاد کا قائل نہ ہونا ہے چنانچہ غلام قادیانی کی نظم کا یہ مصرعہ اس بابت مشہور ہے کہ “دین کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال” (روحانی خزائن جلد 17، ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، صفحہ 77)

اسی طرح غلام قادیانی لکھتے ہیں

“اور نیز ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ خدا تعالی قرآن شریف میں پیش دستى کر کے لڑائی کرنا ایک سخت مجرمانہ فعل قرار دیتا ہے بلکہ مومنوں کو جا بجا صبر کا حکم دیا ہے” (روحانی خزائن، جلد 23، چشمہ معرفت،صفحہ 395)

جیسے بتایا جا چکا کہ غامدی صاحب اقدامی جہاد کے قائل نہیں اور وہ اسے اتمام حجت کے فلسفے کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص مانتے ہیں (یعنی جب رسول لوگوں پر فی الواقع حق اس طرح واضح کر دیتا ہے کہ لوگ اسے حق سمجھتے ہوئے بھی ٹھکرا دیتے ہیں تو خدا عذاب دیتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں اس عذاب کی شکل تلواروں سے دیا جانے والا عذاب تھا یعنی درحقیقت يہ محض خدا کی طرف سے عذاب کا عمل تھا جسے امت غلبہ دین کے لیے يا اسلام کی سیاسی بالادستی کے لیے کیا جانے والا جہاد سمجھتی رہی اور اس کے لیے محض ابلاغ دعوت کو ضروری سمجھا نہ کہ فی الواقع اتمام حجت کو)

اسی طرح غلام قادیانی (آمد مہدی کے پس منظر میں) لکھتے ہیں

۔”کوئی عقل اس بات کو تجویز نہیں کر سکتی کہ کوئی شخص آتے ہی بغیر اتمام حجت کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے” (روحانی خزائن جلد 8، سر الخلافہ، صفحہ 404)

ہمیں قرآن شریف کی کسی آیت میں یہ تعلیم نظر نہیں آتی کہ بے اتمام حجت مخالفوں کو قتل کرنا شروع کر دیا جائے” (روحانی خزائن جلد 8، سر الخلافہ، صفحہ 404)

اسی طرح وه لکھتے ہیں

۔”آخر جب کفار کے ظلم حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے چاہا کہ سب کو قتل کر کے اسلام کو نابود ہی کر دیں تب خدا تعالی نے اپنے پیارے نبی کو ان بھیڑیوں کے ہاتھ سے مدینہ میں سلامت پہنچا دیا. حقیقت میں وہی دن تھا کہ جب آسمان پر ظالموں کو سزا دینے کے لیے تجویز ٹھہر گئی” (روحانی خزائن جلد 8، سر الخلافہ، صفحہ 405)

غلام قادیانی سرکار کے نمک کے بڑے قدردان رہے لیکن اسی لمحے خدا کے دین سے بے وفائی اور نمک حرامی کرتے رہے. (نمک دانى کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی اپنے دین کا سودا کر اٹھے. فرعون نے موسی علیہ السلام کے سامنے یہی حربہ استعمال کرنے کی کوشش کی تھی کہ ان پر کیا جانے والا احسان جتلا کر انہیں بنی اسرائیل کی غلامی پر راضی کر لیا جائے) اسى طرح غامدی صاحب کا یہ باور کروانا کہ افغانستان میں سٹوڈنٹس نے ان اعلی اقدار جیسے (سرمایہ دارانہ) جمہوریت ، (طاقت کا) قانون کی قدر کرنے کی بجائے ان کا خون کیا، جو شیطان بزرگ نے انہیں 20 سال تک اپنے سرمائے اور وسائل کی صورت دیا تھا. یہ چڑھے سورج کو سجدہ نہیں تو اور کیا ہے!۔

اور غلام قادیانی کے الفاظ یہ ہیں

۔”اور رعیت کو اپنی محافظ گورنمنٹ کے ساتھ کسی طور سے جہاد درست نہیں ہے. اللہ تعالی ہرگز پسند نہیں کرتا کہ گورنمنٹ اپنی ایک رعیت کے جان اور مال اور عزت کی محافظ ہو اور ان کے لیے اور ان کے دین کے لیے بھی پوری پوری آزادی عبادات کے لیے دے رکھی ہو لیکن وه رعیت موقع پا کر اس گورنمنٹ کو قتل کرنے کو تیار ہو یہ دین نہیں بلکہ بے دینی ہے اور نیک کام نہیں بلکہ ایک بدمعاشی ہے خدا تعالی نے مسلمانوں کی حالت پر رحم کرے کہ جو اس مسئلے کو نہیں سمجھتے اس گورنمنٹ کے تحت میں ایک منافقانہ زندگی بسر کر رہے ہیں جو ایمانداری سے بہت بعید ہے” (روحانی خزائن جلد 8، سر الخلافہ، صفحہ 403)

درحقيقت یہ غلام قادیانی کی الہامی سوچ نہیں بلکہ سراسر غلامانہ سوچ تھی اور اس سے بھی پہلے سر سید اور ان سے لے کر آج تک ہمارے مغرب نواز مذہبى مفکرین اسی کی تاج پوشی میں مصروف ہیں.۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…