دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

Published On May 23, 2025
قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

قبولیتِ حدیث میں تواتر کی شرط

محمد خزیمہ الظاہری منکرین حدیث جس تواتر کا چرچا کرتے ہیں یہ از خود ہمیشہ ان اخبار و روایات کا محتاج ہوتا ہے جسے ظن و آحاد قرار دے کر انکی اہمیت گھٹائی جاتی ہے۔ متواتر چیز سے متعلق جب تک روایات اور اخبار کے ذریعے سے یہ بات معلوم نا ہو کہ گزشتہ تمام زمانوں میں وہ بات...

پردہ اور غامدی صاحب

پردہ اور غامدی صاحب

حسان بن عل اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَؕ-وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (سورۃ المائدہ آیت 50)تو کیا جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا حکم یقین والوں کے...

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

مکتبِ غامدی ، حدیث اور فہمِ قرآن

حسان بن علی اگر حدیث قرآن کے خلاف ہو تو اسے (درایتا) غیر معتبر ٹھہرایا جاتا ہے لیکن یہ تعین کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ یہ جانا جائے کہ آيا حدیث واقعتا قرآن کے خلاف ہے یا آپ کے فہم قرآن کے خلاف۔ غزوہ بدر سے متعلق مولانا اصلاحی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ مسلمان ابتدا ہی سے قریش...

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

غامدی صاحب کے نظریۂ حدیث کے بنیادی خد و خال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کئی احباب نے حدیث کے متعلق غامدی صاحب کے داماد کی چھوڑی گئی نئی پھلجڑیوں پر راے مانگی، تو عرض کیا کہ غامدی صاحب اور ان کے داماد آج کل میری کتاب کا نام لیے بغیر ان میں مذکور مباحث اور تنقید کا جواب دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انھیں یہ کوشش کرنے دیں۔...

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

غلبہ دین : غلطی پر غلطی

حسن بن علی ياأيها الذين آمنوا كونوا قوامين لله شهداء بالقسط ولا يجرمنكم شنآن قوم ألا تعدلوا اعدلوا هو أقرب للتقوى ترجمہ: اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ...

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

سنت ، بیانِ احکام اور غامدی صاحب ( قسط دوم)

حسن بن عل غامدی صاحب کے اصول حدیث قرآن میں کسی قسم کا تغیر اور تبدل نہیں کر سکتی (یعنی نہ تنسیخ کر سکتی ہے نہ تخصیص اور یہی معاملہ مطلق کی تقيید كا بھی ہے) کی روشنی میں حدیث قرآن کے مطلق (لفظ) کی تقيید نہیں کر سکتی یعنی ان کے اصول کی روشنی میں مطلق (لفظ) کی تقيید بھی...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک مسلمان صرف دین “اسلام” کےلیے مان سکتا ہے۔ تو کیا آپ کے نزدیک دینِ اسلام واحد حق نہیں ہے؟
اس کے جواب میں یہ کہنا کہ دوسرے بھی تو اپنے لیے یہی سمجھتے ہیں، محض بے عقلی ہے۔ بھئی، کہتے رہیں دوسرے؛ سوال یہ تو نہیں کہ دوسرے اپنے مذہب کو واحد حق سمجھتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اسلام واحد حق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو بحث ہی ختم ہوگئی؛ اور اگر ہے، تو اس کے بعد یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ اگر ہم اپنے نظام میں یہ کچھ مانتے ہیں، تو دوسرے بھی تو پھر اپنے نظام میں وہ کچھ مانتے ہوں گے۔ بے شک وہ مانتے رہیں اور ہم یہی کہیں گے کہ ہمارے ہاں یہ حق ہے اور ان کے ہاں یہ غلط ہے۔
پیمانہ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام ہی واحد حق ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اس پیمانے پر شرک باطل ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔
اس کے بعد اس سوال کا جواب کتنا آسان ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ کو کیا قانونی پوزیشن دیتے ہیں؟ وہی جو دینِ حق کی رو سے انھیں دیا جاسکتا ہے۔
پھر یہ سوال کہ وہاں مسلمانوں اپنے لیے کیا قانونی پوزیشن لیں گے؟ یہ وہاں کے معروضی حالات میں وہاں کے مسلمانوں کو فیصلہ کرنے دیں اور اس کےلیے دینِ حق نے کئی بنیادی اصول دیے ہوئے ہیں جن سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کہاں تک گنجائش ہے اور کہاں گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔
ویسے کیا آپ نے یہاں اور وہاں کے متعلق لیاقت نہرو معاہدہ پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا کی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
غامدی صاحب کے دامادِ عزیز کو کہیے کہ جیسے آپ نے بقیہ الفاظ کےلیے ہندی متبادل ڈھونڈنے کا کشٹ اٹھایا ہے، تھوڑی مزید محنت کرکے “ہرگاہ” کا ہندی متبادل بھی دیکھ لیجیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…