دینِ اسلام ہی واحد حق ہے

Published On May 23, 2025
بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

بینکوں کا سود اور جاوید احمد غامدی صاحب

سلمان احمد شیخ جناب جاوید صاحب نے اپنے حالیہ عوامی لیکچرز میں اس بات کی تائید کی ہے کہ روایتی بینکوں سے اثاثہ کی خریداری کے لیے کسی بھی قسم کا قرض لینا اسلام میں جائز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فائنانس لیز اور مارٹگیج فائنانسنگ سب اسلام میں جائز ہیں۔ وہ یہ بھی اصرار کرتے...

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

نزول عیسی اور قرآن، غامدی صاحب اور میزان : فلسفہ اتمام حجت

حسن بن علی نزول عیسی کی بابت قرآن میں تصریح بھی ہے (وإنه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون، سورة الزخرف - 61) اور ایماء بھی (وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ،سورة النساء - 159؛ ويكلم الناس في المهد وكهلا، سورة آل عمران - 46؛ أفمن كان على بينة من ربه ويتلوه...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

ڈاکٹر محمد مشتاق ردِّ عمل کی نفسیات نائن الیون کے بعد پاکستان میں بم دھماکوں اورخود کش حملوں کا بھی ایک طویل سلسلہ چل پڑا اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات اور دیر میں بھی تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی آپریشن کیے گئے۔ جنرل مشرف اور حکومت کا ساتھ...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط سوم

ڈاکٹر محمد مشتاق بادشاہ کے بجائے بادشاہ گر یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان اسلامک فرنٹ کے تجربے کی ناکامی کے بعد بھی غامدی صاحب اور آپ کے ساتھی عملی سیاست سے یکسر الگ تھلگ نہیں ہوئے اور اگلے تجربے کےلیے انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف اور عمران خان کی طرف رخ کیا۔ ڈاکٹر...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط دوم

ڈاکٹر محمد مشتاق اتمامِ حجت اور تاویل کی غلطی ۔1980ء کی دہائی کے وسط میں جناب غامدی نے ’نبی اور رسول‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جو اس وقت میزان حصۂ اول میں شائع کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل مولانا اصلاحی کے تصور ’اتمامِ حجت‘ کی توضیح پر مبنی تھا اور اس میں انھوں نے مولانا...

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط چہارم

اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

ڈاکٹر محمد مشتاق ۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب کے دامادِ عزیز مذہب “شرک” کےلیے ان حقوق کی بات کررہے ہیں جو ایک مسلمان صرف دین “اسلام” کےلیے مان سکتا ہے۔ تو کیا آپ کے نزدیک دینِ اسلام واحد حق نہیں ہے؟
اس کے جواب میں یہ کہنا کہ دوسرے بھی تو اپنے لیے یہی سمجھتے ہیں، محض بے عقلی ہے۔ بھئی، کہتے رہیں دوسرے؛ سوال یہ تو نہیں کہ دوسرے اپنے مذہب کو واحد حق سمجھتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اسلام واحد حق ہے یا نہیں؟ اگر نہیں، تو بحث ہی ختم ہوگئی؛ اور اگر ہے، تو اس کے بعد یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ اگر ہم اپنے نظام میں یہ کچھ مانتے ہیں، تو دوسرے بھی تو پھر اپنے نظام میں وہ کچھ مانتے ہوں گے۔ بے شک وہ مانتے رہیں اور ہم یہی کہیں گے کہ ہمارے ہاں یہ حق ہے اور ان کے ہاں یہ غلط ہے۔
پیمانہ ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام ہی واحد حق ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اس پیمانے پر شرک باطل ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی۔
اس کے بعد اس سوال کا جواب کتنا آسان ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے ہاں غیر مسلموں کے ساتھ کو کیا قانونی پوزیشن دیتے ہیں؟ وہی جو دینِ حق کی رو سے انھیں دیا جاسکتا ہے۔
پھر یہ سوال کہ وہاں مسلمانوں اپنے لیے کیا قانونی پوزیشن لیں گے؟ یہ وہاں کے معروضی حالات میں وہاں کے مسلمانوں کو فیصلہ کرنے دیں اور اس کےلیے دینِ حق نے کئی بنیادی اصول دیے ہوئے ہیں جن سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کہاں تک گنجائش ہے اور کہاں گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔
ویسے کیا آپ نے یہاں اور وہاں کے متعلق لیاقت نہرو معاہدہ پڑھنے کی کبھی زحمت گوارا کی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
غامدی صاحب کے دامادِ عزیز کو کہیے کہ جیسے آپ نے بقیہ الفاظ کےلیے ہندی متبادل ڈھونڈنے کا کشٹ اٹھایا ہے، تھوڑی مزید محنت کرکے “ہرگاہ” کا ہندی متبادل بھی دیکھ لیجیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…