محمد خزیمہ الظاہری
پہلے بھی عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے باقاعدہ طور پر دو چہرے رکھے ہوئے ہیں. ایک انہیں دکھانے کے لئے جو آپ کو منکر حدیث کہتے ہیں اور یہ چہرہ دکھا کر انکار حدیث کے الزام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میزان میں بارہ سو روایتیں ہیں وغیرہ وغیرہ.۔
دوسرا چہرہ دکھاتے ہیں عام حالات میں اور حدیث کی دینی حیثیت پر ملحدانہ گفتگو کرتے ہیں.۔
بہر حال ماضی کے جتنے بھی علماء کے اقوال آج تک غامدی صاحب نے اپنی تائید میں پیش کئے ہیں, کسی ایک کا بھی موقف نہیں کہ : حدیث دین نہیں. بلکہ سب کے ہاں حدیث دین ہے اور عین دین ہے اور عین وحی ہے.۔
اس پر مستزاد یہ ہے کہ حدیث کے ذخیرے کو محض تاریخ باور کرانا صریح تجاہل ہے کیونکہ دنیا میں تاریخ کے لئے کبھی اتنا اہتمام اور اسقدر استناد مہیا ہی نہیں کیا گیا جتنی استنادی حیثیت حدیث میں پہنچائی گئی ہے یعنی حدیث کا ثبوت تاریخی معیارات سے اسی قدر بلند ہے جسقدر قرآن کا ثبوت عام تاریخی معیارات سے بلند تر ہے.
ایسی صورت میں تاریخ کے ساتھ حدیث کو ملانا ہی نا انصافی پر مبنی ہے.۔
اس بیانیے کی دوسری خرابی یہ ہے کہ رسول اللہ کی مجالس میں دی گئی تعلیمات کو عین دین ماننے سے انکار کیا جا رہا ہے جبکہ پیغمبر کی ہر بات میں اصل یہ ہے کہ وہ دین ہے اور جو بات پیغمبر نے دین کی غرض سے نہیں کی اس پر دلیل چاہیے کہ کس بنا پر اسے دینی حیثیت سے الگ کیا جا رہا ہے مگر انہوں نے بغیر دلیل کے محض اپنے بناوٹی مقدمات سے پورے ذخیرے کو ہی دینی حیثیت سے باہر کر دیا ہے.۔