شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

Published On February 6, 2025
کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟  غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

کیا مسئلہ “ربط الحادث بالقدیم” کا دین سے تعلق نہیں؟ غامدی صاحب کا حیرت انگیز جواب

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب سے جناب حسن شگری صاحب نے پروگرام میں سوال کیا کہ آپ وحدت الوجود پر نقد کرتے ہیں تو بتائیے آپ ربط الحادث بالقدیم کے مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں جو جواب دیا گیا وہ حیرت کی آخری حدوں کو چھونے والا تھا کہ اس سوال کا جواب...

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

۔”حقیقت نبوت”: غامدی صاحب کے استدلال کی نوعیت

ڈاکٹر محمد زاہد مغل محترم غامدی صاحب اکثر و بیشتر دعوی تو نہایت عمومی اور قطعی کرتے ہیں لیکن اس کی دلیل میں قرآن کی آیت ایسی پیش کرتے ہیں جو ان کے دعوے سے دور ہوتی ہے۔ اس کا ایک مشاہدہ حقیقت نبوت کی بحث سے ملاحظہ کرتے ہیں، اسی تصور کو بنیاد بنا کر وہ صوفیا کی تبدیع و...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ہفتم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ اقدامی جہاد اور عام اخلاقی دائرہ:۔ یہاں اس بات کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جہا د اقدامی اور اس سے متعلقہ احکامات عام اخلاقی دائرے سے باہر ہیں یا نہیں؟ خالق کا ئنات نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر پیدا کیا ہے واذ قال ربك...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط ششم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ  اقدامات صحابہ اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ قرآن وحدیث کے بعد اگلا مقدمہ یہ قائم کرتے ہیں کہ صحابہ کے جنگی اقدامات کے جغرافیائی  اہداف محدود اور متعین تھے اور وہ جہاد اور فتوحات کے دائرے کو وسیع کرنے کی بجائے محدود رکھنے کے خواہش...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط پنجم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احادیث اور غامدی صاحب کا تصور جہاد:۔ جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو کوئی بھی ایک حدیث ایسی پیش نہیں کر سکے جو اس بات کی تائید کرے کہ جہاد کے اہداف محدود ہیں اور اس مشن کے پیش نظر صرف روم اور فارس کی سلطنتیں ہیں ۔ تاہم ایک حدیث ایسی...

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

غامدی صاحب کا تصورِ جہاد ( قسط چہارم )

مولانا صفی اللہ  مظاہر العلوم ، کوہاٹ احکامات اسلام اور خطابات قرآنیہ کی عمومیت:۔ غامدی حضرات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اقدامی قتال یا اسلام ، جزیہ اور قتل کا مطالبہ سامنے رکھنا عام خلاقی دائرے سے باہر ہے اس لیے وہ آیات واحادیث جن میں اس قسم کے احکامات مذکور ہیں ان کے...

ڈاکٹر زاہد مغل

ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین حکم نہیں دیا ہوتا جیسے مثلا حدود کے معاملے میں کہا کہ چور کے ہاتھ کاٹو وغیرہ۔ چنانچہ جب شریعت نے اس طرح معین حکم نہ دیا ہو تو شرع کے قواعد نیز علت پر مبنی قیاس وغیرہ کے ذریعے ایک معین حکم معلوم کیا جاتا ہے اور یہ اجتہاد ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے انسانی اعضا کی پیوندکاری کا معین حکم شارع نے بیان نہیں کیا لیکن علما قواعد شریعت وغیرہ کے ذریعے اس کا حکم معلوم کرتے ہیں۔ لہذا یہ کہا جائے گا کہ انسانی اعضا کی پیوندکاری کے معاملے میں دین خاموش ہے، یعنی اس کا معین حکم خدا نے مقرر نہیں کیا، البتہ قواعد و دینی نظائر وغیرہ کے ذریعے مجتہد اس کا حکم معلوم کرے گا۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ان قواعد سے معلوم کردہ حکم بھی شریعت کی گویائی ہی ہے تو یہ کہنا بھی درست ہے، لیکن غامدی صاحب اپنے خاص مفہوم والی خاموشی کے لفظ کا استعمال بہتر سمجھتے ہیں۔

غامدی صاحب کے اس جواب سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اسے نزاع لفظی قسم کی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ خود انہوں نے مان لیا ہے کہ اجتہاد کے ذریعے معلوم شدہ حکم دین و شریعت بمعنی حکم اللہ ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب کے مدافعین کو یہاں ٹھنڈا سانس لینا چاھئے جو اس بابت ان کے موقف کی اپنی جانب سے توجیہات کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب نے “خاموشی” (مسکوت عنہ) کے مفہوم کو جس طرح بیان کیا ہے، اصول فقہ کے ماہرین اس سے بہتر طریقے پر اسے “منطوق” اور “مفھوم” کی اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں (منطوق اور مفہوم کی تعریفات اور اقسام اصول فقہ کی کتب میں ملاحظہ کرنا چاھئے)۔ کلام کا “منطوق” معین حکم بیان کرنے سے وسیع اور جامع معنی کا حامل ہے (حنفی اصطلاح میں یہ “عبارت النص” سے قریب تصور ہے)۔ “مسکوت عنہ” کلام کے صرف منطوق کے لحاظ سے ہوتا ہے نہ کہ مفھوم کے، اور کلام میں یہ دونوں (منطوق و مفہوم) متکلم کے پیش نظر ھوتے ہیں۔ خطاب کے منطوق اور مفھوم دونوں کی نسبت متکلم ہی کی جانب ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک کی شارع کی جانب اور ایک کی مجتھد کی جانب۔ اگر کوئی شخص ایسا شرعی حکم بیان کرے جس کی نسبت شارع کے خطاب کی جانب نہ ہو تو اسے بدعت کہتے ہیں نہ کہ اجتہاد۔ چنانچہ غامدی صاحب کا اس بات پر زور دینا کہ ایک خدا کا حکم ہے اور دوسرا مجتہد کا فہم، یہ کوئی بامعنی بات نہیں کیونکہ کل دین توقیف ہے۔ خدا کی جانب سے معین حکم مقرر کرنے کی کیفیت کبھی معین فرد و کیفیت کا حکم بیان کرنا ہوتا ہے اور کبھی عمومی قاعدے کی صورت جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس بھی شخص پر یہ لفظ درست ہو اس کا یہ حکم ہے۔ جیسے جب شارع نے کہا کہ “چور کے ہاتھ کاٹو” تو اس عمومی بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس پر چور کا اطلاق ہے اس کا یہ معین حکم ہے۔ چنانچہ شریعت کے قواعد دراصل اسی کیفیت پر معین افراد و کیفیات کا معین حکم بیان کررہے ہوتے ہیں اور مجتہد بس انہیں ظاہر کرتا ہے۔ لہذا ان کی اختیار کردہ تعبیر اس پہلو سے بھی اولی نہیں۔

اگر وہ یہ کہیں کہ مجتہد کے اخذ کردہ حکم میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے نیز دیگر مجتہدین کا اس کے اجتہاد سے اختلاف جائز ہوتا ہے، تو یہ فرق بھی مفید مطلب نہیں اس لئے کہ جسے وہ شریعت کا معین حکم کہتے ہیں اس کے فہم میں بھی مجتہدین کا اختلاف ہوتا ہے نیز یہاں بھی ہر اختلاف موجب کفر و تضلیل نہیں۔ خود غامدی صاحب کو بھی ایسے متعدد “معین احکام” میں اختلاف ہے نیز کتاب “میزان” میں ان کے درج کردہ معین احکام میں سے ہر ایک سے اختلاف کرنے والوں کی وہ تضلیل و تکفیر بھی نہیں کرتے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…