شریعت خاموش ہے “ پر غامدی صاحب کا تبصرہ”

Published On February 6, 2025
رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

ایک ویڈیو میں جناب غامدی صاحب حالیہ گفتگو میں زیر بحث موضوع پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دین یا شریعت خاموش ہونے سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ شریعت نے اس معاملے میں سرے سے کوئی حکم ہی نہیں دیا بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ شارع نے یہاں کوئی معین حکم نہیں دیا ہوتا جیسے مثلا حدود کے معاملے میں کہا کہ چور کے ہاتھ کاٹو وغیرہ۔ چنانچہ جب شریعت نے اس طرح معین حکم نہ دیا ہو تو شرع کے قواعد نیز علت پر مبنی قیاس وغیرہ کے ذریعے ایک معین حکم معلوم کیا جاتا ہے اور یہ اجتہاد ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے انسانی اعضا کی پیوندکاری کا معین حکم شارع نے بیان نہیں کیا لیکن علما قواعد شریعت وغیرہ کے ذریعے اس کا حکم معلوم کرتے ہیں۔ لہذا یہ کہا جائے گا کہ انسانی اعضا کی پیوندکاری کے معاملے میں دین خاموش ہے، یعنی اس کا معین حکم خدا نے مقرر نہیں کیا، البتہ قواعد و دینی نظائر وغیرہ کے ذریعے مجتہد اس کا حکم معلوم کرے گا۔ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ان قواعد سے معلوم کردہ حکم بھی شریعت کی گویائی ہی ہے تو یہ کہنا بھی درست ہے، لیکن غامدی صاحب اپنے خاص مفہوم والی خاموشی کے لفظ کا استعمال بہتر سمجھتے ہیں۔

غامدی صاحب کے اس جواب سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ اسے نزاع لفظی قسم کی چیز سمجھتے ہیں کیونکہ خود انہوں نے مان لیا ہے کہ اجتہاد کے ذریعے معلوم شدہ حکم دین و شریعت بمعنی حکم اللہ ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ غامدی صاحب کے مدافعین کو یہاں ٹھنڈا سانس لینا چاھئے جو اس بابت ان کے موقف کی اپنی جانب سے توجیہات کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ غامدی صاحب نے “خاموشی” (مسکوت عنہ) کے مفہوم کو جس طرح بیان کیا ہے، اصول فقہ کے ماہرین اس سے بہتر طریقے پر اسے “منطوق” اور “مفھوم” کی اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں (منطوق اور مفہوم کی تعریفات اور اقسام اصول فقہ کی کتب میں ملاحظہ کرنا چاھئے)۔ کلام کا “منطوق” معین حکم بیان کرنے سے وسیع اور جامع معنی کا حامل ہے (حنفی اصطلاح میں یہ “عبارت النص” سے قریب تصور ہے)۔ “مسکوت عنہ” کلام کے صرف منطوق کے لحاظ سے ہوتا ہے نہ کہ مفھوم کے، اور کلام میں یہ دونوں (منطوق و مفہوم) متکلم کے پیش نظر ھوتے ہیں۔ خطاب کے منطوق اور مفھوم دونوں کی نسبت متکلم ہی کی جانب ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ ایک کی شارع کی جانب اور ایک کی مجتھد کی جانب۔ اگر کوئی شخص ایسا شرعی حکم بیان کرے جس کی نسبت شارع کے خطاب کی جانب نہ ہو تو اسے بدعت کہتے ہیں نہ کہ اجتہاد۔ چنانچہ غامدی صاحب کا اس بات پر زور دینا کہ ایک خدا کا حکم ہے اور دوسرا مجتہد کا فہم، یہ کوئی بامعنی بات نہیں کیونکہ کل دین توقیف ہے۔ خدا کی جانب سے معین حکم مقرر کرنے کی کیفیت کبھی معین فرد و کیفیت کا حکم بیان کرنا ہوتا ہے اور کبھی عمومی قاعدے کی صورت جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس بھی شخص پر یہ لفظ درست ہو اس کا یہ حکم ہے۔ جیسے جب شارع نے کہا کہ “چور کے ہاتھ کاٹو” تو اس عمومی بیان کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جس پر چور کا اطلاق ہے اس کا یہ معین حکم ہے۔ چنانچہ شریعت کے قواعد دراصل اسی کیفیت پر معین افراد و کیفیات کا معین حکم بیان کررہے ہوتے ہیں اور مجتہد بس انہیں ظاہر کرتا ہے۔ لہذا ان کی اختیار کردہ تعبیر اس پہلو سے بھی اولی نہیں۔

اگر وہ یہ کہیں کہ مجتہد کے اخذ کردہ حکم میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے نیز دیگر مجتہدین کا اس کے اجتہاد سے اختلاف جائز ہوتا ہے، تو یہ فرق بھی مفید مطلب نہیں اس لئے کہ جسے وہ شریعت کا معین حکم کہتے ہیں اس کے فہم میں بھی مجتہدین کا اختلاف ہوتا ہے نیز یہاں بھی ہر اختلاف موجب کفر و تضلیل نہیں۔ خود غامدی صاحب کو بھی ایسے متعدد “معین احکام” میں اختلاف ہے نیز کتاب “میزان” میں ان کے درج کردہ معین احکام میں سے ہر ایک سے اختلاف کرنے والوں کی وہ تضلیل و تکفیر بھی نہیں کرتے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.