غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 29)

Published On February 29, 2024
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

مولانا واصل واسطی

جناب غامدی مسئلہِ قراءآت پر چوتھا اعتراض یوں کرتے ہیں “کہ اس میں بعض دیگر چیزیں بھی ملاکر خوب زہرآلود جام بناکرعوام کے سامنے پلانے کےلیے رکھ دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ،، چہارم یہ کہ ہشام کے بارے میں معلوم ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ایمان لائے تھے  لہذااس روایت کو مانئے تویہ بات بھی ماننا پڑتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ ، یہاں تک کہ سیدناعمر جیسے شب وروز کے ساتھی بھی اس بات کا علم نہیں رکھتے تھے کہ قران مجید کو آپ چپکے چپکے اس سے مختلف طریقے پر لوگوں کو پڑھا دیتے ہیں جس طریقے سے کم وبیش بیس سال تک وہ آپ کی زبان سے علانیہ اسے سنتے اور آپ کی ہدایت کے مطابق اسے سینوں اور سفینوں میں محفوظ کر رہے ہیں ۔ ہر شخص اندازہ کرسکتاہے کہ یہ کیسی سنگین بات ہے ؟ اور اس کی زد کہاں کہاں پڑسکتی ہے ( میزان ص 31) جناب غامدی کی ان تحریرات کو پڑھ کر بندے کا یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ زور زبردستی سے اعتراضات پیداکرنے اوربنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اب دیکھیں کہ اس اعتراض کو ہم نے پڑھا ہے ۔ اس سے دو جملے پہلے تیسرے اعتراض کے ضمن میں جناب نے خود لکھا ہے کہ ،، اس کے بعد یہ  بات توبے شک  مانی جاسکتی ہے کہ مختلف قبیلوں کو اسے اپنی اپنی زبان اورلہجے میں پڑھنے کی اجازت دی گئی  لیکن یہ بات کس طرح مانی جائے گی کہ اللہ تعالی ہی نے اسے مختلف قبیلوں کی زبان میں اتارا تھا ( میزان ص 31) گویا تیسرے اعتراض تک مشکل صرف یہ تھی کہ ،، مختلف لہجوں میں اسے کسطرح خدانے اتاراتھا ،، یہ بات تو بہرحال ممکن تھی ،، بلکہ اس کے ماننے میں شک بھی نہیں تھا کہ اس کے بعد اللہ تعالی نے سب کو اپنی اپنی زبانوں اورلہجوں میں اسے پڑھنے کی اجازت دی ہوگی ،، مگر یہاں آکر وہ مسئلہ بھی ان کے لیے مشکل بنا  جس کے ماننے میں کوئی شک بھی نہیں ہو سکتا تھا ،، اس طرح کے استشکالات سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ موصوف زور زبردستی سے اعتراضات پیداکرنے کی سعی کرتے ہیں حالانکہ اس اشکال کا حل وہی ہے جس کی طرف خود جناب غامدی نے اوپر کی عبارت میں اشارہ کیا ہے ۔محققین نے بھی ایسی ہی باتیں لکھی ہیں ۔ مثلا ابوشامہ لکھتے ہیں  کہ ،، یحتمل ان یکون قولہ ( نزل بلسان قریش ) ای ابتداء نزولہ ثم ابیح ان یقرء بلغة غیرھم کما سیاتی تقریرہ فی،، باب انزل القران علی سبعةاحرف ،، وتکملتہ ان یقال انہ نزل اولا بلسان قریش احدالاحرف السبعة ثم نزل بالاحرف السبعة الماذون فی قراء تھا تسھیلا وتیسیرا کماسیاتی بیانہ ( فتح الباری ج 10ص 11) ابوشامہ کی اس بات سے یہ معلوم ہوا کہ باقی لہجوں اور قراءآت کی اجازت بہت بعد میں دی گئی تھی یعنی فتح مکہ کے بعد ۔اور جب حقیقت یہ ہے جیساکہ آنے والی عبارتوں سے اس کی مزید توضیح ہو جائے گی  تو پھر اس اعتراض کی گنجائش کہاں سے نکل آئی ہے کہ ،، سیدنا عمر جیسے شب وروز کے ساتھی بھی اس بات کا علم نہیں رکھتے تھےکہ قران مجید کو آپ چپکے چپکے اس سے مختلف طریقے پر لوگوں کو پڑھا دیتے ہیں ( میزان ص31) جب آپ کے اپنے بقول ہشام وغیرہ فتح مکہ میں مسلمان ہوئے ہیں  تو اس وقت ہی اسے یہ قراءت پڑھائی ہوگی ؟ ان کا چپکے چپکے لوگوں کو اور طرح سے پڑھادینا  اورکم وبیش بیس سال وغیرہ سیدنا عمر اوردیگر قریبی ساتھیوں کا بے خبر رہنا  وغیرہ باتیں کہاں سے نکل آئی ہیں ؟ پھر یہ کیا ضروری ہے کہ سیدنا عمر کو سب چیزوں کاپتہ ہو ۔ان کو تین بار کے استیذان کے متعلق بھی معلوم نہ تھاجب صحابہِ کرام نے بتایا تو انھوں نے فرمایا ،، الھانی عن ھذا الصفق بالاسواق ،، یعنی بازاروں کی تجارت نے مجھے اس مسئلے سے غافل رکھا ۔ تو اس طرح ادھر بھی یہ ممکن ہے ۔ کیا لازم ہے کہ ،، نبی علیہ السلام  لوگوں کو چپکے چپکے بتاتے ہوں کما قال المعاند ۔ ایک دیگر بات یہ ہے کہ جب کسی صحابی کو ایک قراءة معلوم اور یاد ہ تو دیگر قراءتوں کا یاد کرنا تو ان پرلازم نہیں ہے ۔جناب غامدی غالبا سبعہ قراءآت کو جائز ماننے اور تسلیم کرنے والے ان سب لوگوں کے لیے ان سب قراءآت کا سیکھنا لازم سمجھتے ہیں ؟ حافظ الدنیا ابن حجر عسقلانی ابوشامہ سے نقل کرتے ہیں کہ ،، ونقل ابوشامة عن بعض الشیوخ انہ قال انزل القران اولا بلسان قریش ومن جاورھم من العرب الفصحاء ثم ابیح للعرب ان یقرؤہ بلغاتھم التی جرت عادتھم باستعمالھا علی اختلافھم فی الالفاظ والاعراب ولم یکلف احد منھم الانتقال من لغتہ الی لغةاخری للمشقة ولماکان فیھم من الحمیة ولطلب تسھیل فھم المراد کل ذلک مع اتفاق المعنی ( فتح الباری ج10 ص 33)  اس میں وہی بات کی گئی ہے کہ اجازت دیگر قراءآت کی بعد میں مل گئی ۔ پھرابن الانباری سے نقل کرتے ہیں کہ ،، ورد علیہ ( ای علی ابن قتیبہ) ابن الانباری بمثل ،، عبدالطاغوت ،، ،، ولاتقل لھما افّ ،، و ،، جبریل ،، ویدل علی ماقررہ انہ انزل اولا بلسان قریش ثم سھل علی الامة ان یقرؤہ بغیر لسان قریش وذالک بعد ان کثر دخول العرب فی الاسلام فقد ثبت ان ورود التخفیف بذالک کان بعد الھجرة کما تقدم فی حدیث ابی بن کعب ان جبریل لقی النبی علیہ الصلاةوالسلام وھوعنداضاءة بنی غفار فقال ان اللہ یامرک ان تقرئ امتک القران علی حرف فقال اسال اللہ معافاتہ ومغفرتہ فان امتی لاتطیق ذلک ،، اخرجہ مسلم ،، ( ایضا ج 10ص 34) اس روایت کے بعد کوئی معقول شخص کیونکر یہ کہہ سکتاہے کہ  ،، نبی علیہ السلام کم وبیش بس سال لوگوں کو چپکے چپکے قران کی دیگر قراءآت بتاتے تھے  اور شب وروز کے قریب صحابہ کرام کو اس کا پتہ نہیں چلتا تھا ،،  ہرشخص اندازہ کرسکتا کہ جناب غامدی کی یہ  کتنی سنگین بات ہے اور اس کی زد کہاں کہاں پڑسکتی ہے ،، ؟ اب آخر میں یہی بات ایک اور شخص سے بھی سن لیں تاکہ احبابِ کرام کا یقین پختہ ہوجائے کہ سب محققین یہی بات کرتے ہیں ۔صرف ہم نہیں کہتے ، یہ عبارت پہلے بھی غالبا ہم ایک دوسری بات کو ثابت کرنے کے لیے نقل کرچکے ہیں ۔ محققِ احناف زاہدالکوثری لکھتے ہیں کہ ،، وقد تواترت الاحادیث فی انزال القران علی سبعةاحرف لکن اختلفوا فی تفسیرھا الی نحو اربعین قولا ، لاتعویل الا علی اقل قلیل منھا ، والواقع ان القران الکریم کان ینزل معظمہ علی لغة قریش علی حرف واحد الی ان فتحت مکة وبدءالناس یدخلون فی دین اللہ افواجا ، واخذت وفود القبائل العربیةالمختلفة تتوافد ، فاذن اللہ سبحانہ علی لسان نبیہ ان یقرؤہ علی لغاتھم ولھجاتھم ، تیسیرا لھم لصعوبة تحولھم من لغتھم الی لغةالنبی علیہ الصلاةوالسلام بمرة واحدة کمایدل علی ذالک حدیث ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ عندالبخاری ومسلم والترمذی وغیرھم ( المقالات ص 31) ان عبارات سے ہمارامقصود تو یہ ثابت کرنا تھا کہ جناب غامدی کا اوپر مذکور جو اعتراض ہے اس کی کوئی حقیقت موجود نہیں ہے ۔مگر ساتھ ان اقوالِ محققین سے یہ حقیقت بھی ثابت ھوگئی ہے کہ آخری دور میں دیگر  لہجوں یا قراءتوں کی اجازت بھی انہیں مل گئی تھی  تو قراءتیں منسوخ کہاں سے ہوئیں اور کس طرح ہوئیں ؟ کما قال الغامدی فی ماسبق کہ عرضہِ اخیرہ میں تمام قراءتیں منسوخ ہوگئیں اور صرف ایک قراءت رھہے دی گئی ۔یہ بھی محض ایک خودساختہ افسانہ ہے جیسا کہ اور افسانے ہیں۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…