غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 34)

Published On March 5, 2024
جمعے کی نماز کی فرضیت اور غامدی صاحب کا غلط استدلال

جمعے کی نماز کی فرضیت اور غامدی صاحب کا غلط استدلال

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے جمعے کی نماز کی فرضیت کا بھی انکار کر دیا ہے ۔ اور روزے کی رخصت میں بھی توسیع فرما دی ہے ۔ جمعے کی نماز کی عدمِ فرضیت پر جناب کا استدلال ہے کہ مسلم ریاست میں خطبہ سربراہِ ریاست یا اسکے حکم سے اسکے نمائندے کا حق...

عورت کی امامت اور غامدی صاحب

عورت کی امامت اور غامدی صاحب

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن غامدی صاحب نے عورت کی امامت کو جائز قرار دے دیا ہے ۔ اور دلیل یہ ہے کہ ایسی باقاعدہ ممانعت کہیں بھی نہیں ہے کہ عورت امام نہیں بن سکتی ۔ لیکن ایسا استدلال درست نہیں ہے ۔ ہم انہیں اجماعِ امت سے منع کریں گے کہ صحابہ میں ایسا کبھی...

مسئلہ رجم اور تکفیرِ کافر

مسئلہ رجم اور تکفیرِ کافر

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن اول - جاوید احمد غامدی نے رجم کا انکار کیا ہے ۔ رجم کا مطلب ہے کہ شادی شدہ افراد زنا کریں تو انہیں سنگسار کیا جائے گا ۔انکا استدلال یہ ہے کہ قرآن میں زنا کی سزا رجم نہیں ہے بلکہ کوڑے ہیں ۔ " الزانیۃ الزانی فالجلدوا کل...

واقعہ معراج اور غامدی صاحب

واقعہ معراج اور غامدی صاحب

مقرر : مولانا طارق مسعود  تلخیص : زید حسن جسمانی معراج کے انکار پر غامدی صاحب کا استدلال " وما جعلنا الرؤیا التی" کے لفظ رویا سے ہے ۔حالانکہ یہاں لفظ رویا میں خواب اور رویت بمعنی منظر دونوں کا احتمال ہے اور واقعے کے جسمانی یا روحانی ہونے پر قرآن کا بیان جہاں سے شروع...

تصوف کے ظروف پر چند غلط العام استدلال

تصوف کے ظروف پر چند غلط العام استدلال

 ڈاکٹر زاہد مغل - پہلا: جب ناقدین سے کہا جائے کہ "قرآن و سنت کو سمجھ کر احکامات اخذ (یعنی "خدا کی رضا" معلوم) کرنے کے لئے اگر یونانیوں کے وضع کردہ طرق استنباط سیکھنا سکھانا اور استعمال کرنا جائز ہے، جب کہ سنت نبوی میں انکی تعلیم کا کوئی بھی ذکر نہیں ملتا، تو صوفیاء...

کیا وحی کے ساتھ الہام، القا اور کشف بھی صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہیں؟

کیا وحی کے ساتھ الہام، القا اور کشف بھی صرف نبی کے ساتھ مخصوص ہیں؟

 محمد فیصل شہزاد معترضین ایک حدیث مبارکہ سناتے ہیں، جس میں ارشاد نبوی ہے: مفہوم: "میرے بعد نبوت باقی نہیں رہے گی سوائے مبشرات کے، آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا : یا رسول اﷲ! مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اچھے یا نیک خواب۔‘‘...

مولانا واصل واسطی

جناب غامدی نے اگے کچھ مباحث بیان کیے ہیں جن کے بارے میں ہم اپنی گذارشات احباب کے سامنے پیش کرچکے ہیں ۔آگے انھوں نے ،، حدیث اور قران ،، کے زیرِ عنوان ان حدیثی مسائل پر لکھا ہے  جن کے متعلق ھہارے عام علماء کرام کا تصور یہ ہے کہ ان سے قران کے نصوص منسوخ یا مخصوص ہیں۔ ہم ان مسائل کے تذکرے میں ہی ان کے ،، لاجواب ،، استدلالات کا جائزہ احباب کے سامنے رکھیں گے تاکہ وہ دونوں راہوں کے بیچ میں صحیح فیصلہ کرسکیں ۔ جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے قران کے نسخ اوراس کی تحدید وتخصیص کا یہ مسئلہ سوء فہم اور قلتِ تدبّر کا نتیجہ ہے ، اس طر ح کا کوئی نسخ یا تحدید وتخصیص سرے سے واقع ہی نہیں ہوئی کہ اس سے قران کی یہ حیثیت کہ وہ میزان اور فرقان ہے ، کسی لحاظ سے مشتبہ قرار پائے ۔قران کے بعض اسالیب اور بعض آیات کا موقع ومحل جب لوگ سمجھ نہیں پائے توان سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےارشادات کی صحیح نوعیت بھی ان پر واضح نہیں ہوسکی ۔ اس طرح کی جتنی مثالیں بالعموم پیش کی جاتی ہیں  ان سب کا معاملہ یہی ہے ، ان میں سے بعض روایتوں کی سند پر بھی اعتراضات ہیں لیکن یہ چونکہ پیش کی جاتی ہیں  اس لیے اس سے قطع نظر ہم ان میں سے ایک ایک کو لےکر ان کے بارے میں اپنا نقطہ نظر وضاحت کے ساتھ بیان کیے دیتے ہیں ( میزان ص 35)  یہ تو جناب غامدی کے دعاوی وبیانات ہیں  مگر وہ جیساکہ ہم نے پہلے کہیں بیان کیا ہے ہمیشہ کمزور مقامات پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر لوگوں کے سامنے اس کو اس طرح پیش کرتے ہیں جیسے انھوں نے مونٹ اوریسٹ کو سرکرلیا ہو ۔اورقوی جگہوں سے کترا کر گذرتے ہیں ۔ اب اس مبحث میں ہم سینکڑوں مسائل ایسے ان کے سامنے پیش کرسکتے ہیں جن سے وہ بعافیت جان بچاکر نکلے ہیں ۔ مثلا نبی صلی اللہ علیہ السلام کے میراث کا اپنے ورثا پرتقسیم نہ ہونے کا مسئلہ ہے ۔ قران نے مردہ مسلمان شخص  کے متعلق وراثت کی عمومی بات بیان کی ہے ۔اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی کوئی تخصیص موجود نہیں ہے مگر صحابہِ کرام رضوان اللہ علیھم نے بالاجماع اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدیثِ سیدناابوبکر کی بنا پر خاص کیا ہے ۔اگر قران کی تخصیص وتحدید حدیثِ رسول سے نہیں ہوسکتی  تو ذرا اس مسئلے کی معقول توجیہ کرکے بتادیجئے ۔ اس لیے جناب نے اس مسئلہ کو میراث کے مبحث میں بھی نہیں چھیڑا بلکہ کنی کتراکر چلے ہیں ۔وہاں صرف دو مسائل کی زور زبردستی سے توجیہ کی ہے  مگر جاننے والوں پر ان کی بے بسی صاف عیاں ہے۔ احباب اسے ذرا ملاحظہ فرماکر لطف اندوز ہوں۔، وہاں ،،آباؤکم وابناؤکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا ( النساء آیت 11) والی آیت پیش کی ہے ۔ پھر اس سے ایک قاعدہ اپنی فکر کے مطابق بنایا ہے ۔پھر اس کے تحت ،، وراثتِ مسلم عن الکافر والکافر عن المسلم ،، کے مسئلہ کو رکھا ہے ۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں ۔،، لیکن ان میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجائے سراسر اذیت بن جائے ، تو اللہ تعالی کی طرف سے علتِ حکم کا یہ بیان تقاضا کرتا ہے کہ اسے وراثت سے محروم قراردیا جائے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے پیشِ نظر جزیرہ نمائے عرب کے مشرکین اوریہود ونصاری کے بارے میں فرمایا ،، لایرث المسلم الکافرولاالکافر المسلم ،، نہ مسلمان (ان میں سے ) کسی کافر کے وارث ہونگے اورنہ یہ کافر کسی مسلمان کے ،، یعنی اتمامِ حجت کے بعد جب یہ منکرینِ حق خدا اورمسلمانوں کے کھلے دشمن بن کر سامنے آگئے ہیں تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر قرابت کی منفعت بھی ان کی اورمسلمانوں کے درمیان ہمیشہ کےلیے ختم ہوگئی ۔چنانچہ یہ اب آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے ( میزان ص 523) اتنی تحریفات قران وحدیث میں کرکے بھی اگرکوئی اس طرح کی مشکلات سے جان نہ چھڑاسکے ، تو وہ انتہائی غبی شخص ہے ۔ مگر ہم ادھر جناب غامدی کےان تمام مقدمات کو فرضا علی سبیل التسلیم والتنزل ان سے مناقشہ کررہے ہیں   ورنہ ہمارے نزدیک وہ تمام مقدمات ہی باطل ہیں جن پرانھوں نے یہ مسئلہ کھڑا کیا ہے ۔لیکن وہ تفصیل پھر سہی ۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے  کہ اتمامِ حجت ہونے کے بعد بہت ساری قرابتیں ،، سراسر اذیت ،، تو کیا باعثِ اذیت بھی نہیں ہوتی بلکہ دنیا کی لحاظ سے نفع بخش ہوتی ہیں ، اور میراث بھی دنیاوی شے ہے جیسے ابوطالب کی قرابت سیدنا علی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نفع بخش تھی ۔ کیا کوئی شخص اس قرابت کے نفع بخش ہونے سے انکارکر سکتاہے ؟ وہ آخر کیوں میراث سے محروم ہونگے ؟ اسی طرح سیدنا ابوبکر کی اولاد کب ان کے لیے باعثِ آذیت تھی ؟ سراسر آذیت کو تو دور چھوڑئیے ؟ وہ کیوں وراثتِ باپ سے محروم ہوجاتے بالفرض ؟ ،، نفعِ قرابت نہ جاننا ،، الگ چیز ہے ، قرابت کا ،، آذیتِ محض ،، ہونا الگ مسئلہ ہے کہ ایک مجہول ہے ، اور دوسری معلوم بالعین والحس ہے ، مگر کسی کی  ،، قرابت ،، کا بالعین والحس نفع بخش ہونے کے بعد اسے کیوں میراث سے اس آیت کے تحت محروم کیا جاسکتا ہے ۔ اس کی وضاحت جناب غامدی نے نہیں کی ہے ؟ کیونکہ وہ لوگ ،، لاتدرون ،، کے تحت آتے ہی نہیں ہیں ؟ اور اگر آپ جواب میں کہتے ہیں کہ معلوم باالعین والحس نفع بخش چیز بھی ضرر رسان ہوسکتی ہے  کیونکہ انسان کی عقل ناقص اورعلم محدود ہے جیساکہ آپ نے لکھا بھی ہے ،، کہ سلسلہِ کلام کے بیچ میں یہ آیت ( النساء 11) جس مقصد کی لیے آئی ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں پر یہ بات واضح کردی جائے کہ انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ تقسیمِ وراثت کے معاملے میں وہ انصاف پر مبنی کوئی فیصلہ کرسکتا ، والدین اوراولاد میں سے کون بلحاظِ منفعت اس سے قریب تر ہے وہ نہیں جانتا ۔ علم وعقل میں اس کے لیے کوئی بنیاد تلاش نہیں کی جاسکتی  اس لیے یہ فیصلہ اس کا پروردگار ہی کرسکتا تھا ؟( میزان ص 522) تو پھر ہم آپ سے سوال یہ کریں گے کہ ،، طیبات اورخبائث ،، کے بارے میں آپ نے کس طرح اس کے ،، محدود علم اورناقص عقل ،، پراعتماد کرلیاہے ؟ جو لوگ والدین اوراولاد جن کو وہ روازنہ اپنے سامنے دیکھتے اورساتھ رہتے ہیں ، ان میں بھی وہ ،، اقرب نفعا ،، آپ کے بقول نہیں جان سکتے ۔وہ آخر ان ،، طیبات اوراورخبائث ،، کو کس طرح جان سکتے ہیں جو ان کے تزکیہِ قلبی ونفسی پر مثبت اور منفی اثرات ڈالتے ہیں ؟ جیسا کہ اگے قریب ہی آپ کی اپنی عبارت سامنے آجائے گی ؟ دوسراسوال یہ ہے کہ کیا اتمامِ حجت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پرہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں ہو سکتی توکیا پھر ان لوگوں سے جن پر اتمامِ حجت نہیں ہوئی ہے قتال کی اجازت شرعا درست ہوگی یا نہیں ؟ اگر درست نہیں ہے تو صحابہِ کرام نے پوری دنیا سے کیوں جنگیں کی تھی ؟ اور اگر آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے اتمام حجت ان لوگوں پرکی تھی ؟ تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی اتمامِ حجت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتمامِ حجت کی طرح تھی  یا پھر الگ تھی؟ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی تو پھر ان سب  قوموں میں جن سے جنگیں ہوئی ہیں ، اسی طرح کی اتمامِ حجت آپ کو دلائل کے ساتھ دکھانی ہوگی ۔محض خالی خولی باتوں اور دعوں سے کام نہیں چلے گا ؟ اوراگریہ اتمامِ حجت ان سے الگ ہے تو پھر اس کا اعتبارکس شرعی بنیاد پر ہے ؟ اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اتمامِ حجت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ہوسکتی ہے   تو پھر سوال یہ ہے    کہ آپ نے یہ مذکور حدیثِ میراث ان لوگوں تک کس دلیل کی بنیاد پرخاص کرلی ہے کہ جن پر صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتمامِ حجت کی تھی ؟ دیگر پر کیوں حجت نہیں ہے ؟حدیث کو عام کیوں نہیں رہنے دیا جیساکہ تمام اہلِ علم نے کیا تھا ؟ اوراس حدیث میں اس تخصیص پر آخر کونسا قرینہ موجود ہے ؟پھر آپ لوگوں کے نزدیک تو اہلِ کتاب کو اصطلاحا ،، کافر ،، نہیں کہاجاسکتا ۔ اس حدیث میں کیسے ان کو ،، الکافر ،، کہا گیا ہے؟

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…