قانونِ اتمامِ حجت : ناسخِ قرآن و سنت

Published On January 14, 2025
(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ گروہ غامدی کی تاویلات (دوم

ڈاکٹر زاہد مغل ان مخالف دلائل کے بعد اب غامدی صاحب اور ان کے مقلدین کی چند تاویلات کا جائزہ لیتے ہیں جو یہ حضرات اپنےدفاع کے لیے پیش کرتے ہیں۔اول: کفر کا جوہر: ’انکار ایمان‘ یا ’عدم اقرار‘؟ درحقیقت غامدی صاحب کے نظریہ کفر کی بنیاد ہی غلط تصور پر قائم ہے۔ چنانچہ گروہ...

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟  گروہ غامدی کی تاویلات  (دوم

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

طارق محمود ہاشمی تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ...

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

ناقد : مفتی یاسر ندیم واجدی  تلخیص : زید حسن سائل  نوید افضل   : غامدی صاحب "اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے جوابات دے رہے ہیں ۔ جس میں ارتداد کی سزا کی بابت انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی سزا قتل نہیں ہے ۔ اسکی تین وجوہات انہوں نے ذکر کی ہیں ۔ اول  ۔ لا اکراہ فی الدین سے...

ڈاکٹر خضر یسین

قانون اتمام حجت ایک ایسا مابعد الطبیعی نظریہ ہے جو ناسخ قرآن و سنت ہے۔
اس “عظیم” مابعد الطبیعی مفروضے نے سب سے پہلے جس ایمانی محتوی پر ضرب لگائی ہے وہ یہ ہے کہ اب قیامت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تصدیق روئے زمین پر افضل ترین ایمانی اور دینی قدر نہیں ہے اور آنجناب علیہ السلام کی نبوت کی تکذیب روئے زمین پر انتہائی گھٹیا طرزعمل نہیں ہے۔ حالانکہ دین و ایمان کی رو سے تو یہ بات طے ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کی تصدیق اتنی ہی اہم ہے جتنی توحید خداوندی ہے۔ اب سب یار کا جلوہ ہے کعبہ ہو کہ بت خانہ۔
قرآن مجید نے آنجناب علیہ السلام کی نبوت کے منکرین کو “شر البریۃ” اور آنجناب علیہ السلام کی نبوت پر ایمان رکھنے والوں کو “خیر البریۃ” قرار دیا ہے۔ اس مابعد الطبعی مفروضے کی رو سے “خیر البریۃ” کے خیر البریۃ ہونے کا تعلق نبوت کی تصدیق سے نہیں ہے بلکہ ایک خاص وقت میں خاص افراد کے طرز عمل سے ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان بالغیب اور عیسائیت و یہودیت کا وضعی اعتقاد ایک درجے پر ہیں۔
نبوت اس نام نہاد قانون کی رو سے دائمی ہدایت نہیں ہے اور نہ ہی نبی اور امتی اس کے یکساں مکلف و مخاطب ہیں۔ نبی اور ان کے دور کے اہل ایمان کو ہدایت اور تھی اور مابعد کے اہل ایمان کو ہدایت اور ہے۔ اللہ کی ہدایت آفاقی نہیں ہے بلکہ مخصوص زمان و مکان میں اللہ نے اپنی قدرت دکھانی تھی، سو وہ دکھا دی گئی۔ وہ قدرت خداوندی جس کا مظاہر دور رسالت میں قرآن مجید کی اطاعت و اتباع میں حقیقت بن کر سامنے آیا تھا وہ کسی آفاقی قانون سعادت و شقاوت پر منحصر نہ تھی جس کی مابعد دور میں پیروی انہیں نتائج کی ضامن ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیات ارضی میں پیدا کیے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے وہ احکام دائماً منسوخ ہو چکے ہیں جن کے خطاب تکلیف کا رخ نبی علیہ السلام اور اہل ایمان کی طرف تھا۔
اس قانون کی رو سے:۔
لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت و یومن باللہ ۔۔۔۔۔۔البقرۃ ایت456۔
یہ آیت مبارکہ میں جو خبر دی گئی ہے وہ اب قیامت ناقابل یقین حد ناممکن ہے۔ قانون اتمام حجت کی رو سے منکرین نبوت پر حقیقت واضح ہوئے ہے یہ دعوی اب کوئی نہیں کر سکتا اور قرآن مجید کا یہ دعوی کہ رشد و غيی کھل کر سامنے آ چکا ہے، تفسیر طلب ایشو ہے۔
اس مابعد الطبعی مفروضے نے جس آیت کو بایں منسوخ کر دیا کہ اس کا مخاطب نبوت کی تصدیق کرنے والے اہل ایمان نہیں ہیں وہ یہ ہے:۔
قاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم
و لاتعتدوا ان اللہ لایحب الممعتدین
مذکورہ آیت کا پہلے حصہ دائماً منسوخ اور متروک ہے اور دوسرا حصہ پتہ نہیں منسوخ و متروک ہے یا نہیں ہے؟ یہ سوال اہل مورد سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ البتہ جو بات طے ہے کہ اہل ایمان اب قیامت تک “قتال فی سبیل اللہ” نہیں کر سکتے۔ چاہے اہل کفر ایسا کر رہے ہوں۔
اس نام نہاد قانون کی رو سے یہ آیت بھی اب ناقابل عمل ہے اور اسے منسوخ و متروک ماننا ضروری ہے۔
الشھر الحرام بالشھر الحرام
و الحرمات قصاص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ البقرہ 194
یہ میں نے چند آیات جن میں منزل من اللہ اخبار و احکام ہیں، وہ پیش کی ہیں۔ اگر ان تمام آیات کا میں احصاء کروں جو اس نام نہاد قانون کی زد میں آ کر منسوخ اور متروک ہو چکی ہیں تو قرآن مجید کا اسی فیصد حصہ اخبار و احکام الوہی ہدایت ہونے کے باوصف آج کے انسانوں کے لیے نانی اماں کی وہ کہانی قرار پاتا ہے جس کی فصاحت و بلاغت کی تعریف کی جا سکتی ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
بات یہ ہے کہ اہل مورد کے نزدیک انسان اپنے دائمی گناہ اوریجنل سِن کبھی باہر نہیں آ سکتا اور وہ فی سبیل اللہ کوئی عمل انجام دے ہی نہیں سکتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ اہل مورد کی یہ کم نگاہی ہے کہ وہ ایمان اور فرقہ پرستانہ تعصب میں فرق ہے، جس طرف یہ حضرات متوجہ ہونا شاید اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ایمان اور شے ہے اور فرقہ پرستانہ تعصب اور شے ہے۔ چاہے اس کی اساس سیاسی ہو، قبائلی ہو یا مذہبی وغیرہ ہو۔ اہل مورد سمجھتے ہیں اب کوئی انسان اللہ کے دین کے ساتھ مخلص ہو کر اور کتاب و سنت کی اطاعت و اتباع میں ایسی کوئی جدو جہد نہیں کر سکتا جو رسول اللہ صلی اللہ نے کی تھی۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…