لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

Published On March 4, 2024
رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

ڈاکٹر زاہد مغل

ایک تحریر میں قرآن مجید کے متعدد نظائر سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کے محاورے کی رو سے نسخ، اضافہ، تخصیص و تقیید وغیرہ تبیین کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے لئے ہم نے قرآن مجید میں مذکور احکام سے استشہاد کیا تھا۔ یہاں ہم دو مثالوں سے یہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن میں یہ لفظ لغوی طور پر ایسی وضاحت کے معنی میں بھی استعمال ہوا جو پرانی رائے میں ترمیم و تبدیلی سے عبارت ہو۔

پہلی مثال

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے “اب” سے علیحدگی کے وقت اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی مغفرت کے لئے دعا کریں گے لیکن پھر بعد میں اس سے برات اختیار کرلی۔ قرآن مجید میں اس پر ارشاد ہوا

فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ (پس جب ان پر یہ واضح ہوگیا کہ وہ یعنی ان کا اب الله کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے اعلان برات کردیا)

یہاں وجہ استدلال یہ ہے کہ لفظ “تبین” ایک ایسی وضاحت کے لئے استعمال ہوا جس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رائے بدل گئی۔ مولانا اصلاحی صاحب اس آیت پر لکھتے ہیں:

“ابراہیمؑ نے جو کچھ کیا وہ محض ایک وعدے کا ایفا تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے۔ پھر یہ اس وقت کا معاملہ ہے جب ان پر یہ بات پوری طرح واضح نہیں ہوئی تھی کہ باپ فی الحقیقت الله کا دشمن ہے۔ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی، انھوں نے اس سے اعلان براءت کر دیا۔”

لفظ بیان کے حوالے سے اگر غامدی صاحب کا موقف درست ہوتا کہ اس کا مطلب ایسی بات کا ظہور ہے جو کلام کی پیدائش کے وقت سے اس میں موجود ہوتی ہے تو قرآن میں اس مقام پر یہ لفظ استعمال نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ غامدی صاحب کے موقف کی رو سے بیان ایسا وضوح ہے جس میں تبدیلی و ترمیم کا مفہوم شامل ہی نہیں جبکہ یہاں یہ لفظ بعینہہ ایسے وضوح کے لئے لایا گیا جو رائے میں ترمیم و تبدیلی سے عبارت ہے۔

دوسری مثال

سورہ سبا میں یہ واقعہ بیان ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا علم غیب دانی کا دعوی کرنے والے جنوں کو نہ ہوسکا یہاں تک کہ جب ایک دیمک کے کیڑے نے آپ کی چھڑی کو کھایا تو آپ کا جسم مبارک گر گیا جس سے جنوں پر یہ بات واضح ہوئی اور وہ آپ کی غلامی سے آزاد ہوسکے۔ جنوں کے علم میں اس تبدیلی کی کیفیت کے لئے قرآن نے لفظ “تبین” ہی استعمال کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا:

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ ‎
(پس جب ہم نے ان پر موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو ان کی موت سے آگاہ نہیں کیا مگر زمین کے کیڑے نے جو ان کے عصا کو کھاتا تھا پس جب وہ گر پڑے تب جنوں پر واضح ہوا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔)

مولانا اصلاحی صاحب اپنی تفسیر میں اس لفظ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اشرار جن، غیب کی ٹوہ میں ہمیشہ رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ آسمانوں میں بھی، جیسا کہ سورۂ جن اور قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، استراق سمع کے لیے بیٹھتے رہے ہیں۔ اور اپنے دام فریب میں آئے ہوئے انسانوں پر انھوں نے یہ دھونس بھی جما رکھی تھی کہ ان کے پاس غیب کے اسرار سے واقف ہونے کے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن اس واقعہ نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور ان پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ آسمان تو بہت دور ہے، انھیں تو اپنے سر پر کے اتنے بڑے واقعہ کی بھی خبر نہ ہو سکی جس کے باعث انھیں غلامی کے رسوا کن عذاب میں کچھ عرصہ مزید گرفتار رہنا پڑا۔”

اسی طرح غامدی صاحب اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:

” خود جنوں پر بھی واضح ہو گیا کہ اُن کے علم کی حقیقت کیا ہے جو وہ استراق سمع سے کچھ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت جس واقعے سے کھلی، اُس کی صورت یہ معلوم ہوتی ہے کہ اپنے کسی تعمیری کام کی نگرانی کرتے ہوئے، جس میں جن بھی لگے ہوئے تھے، حضرت سلیمان کی موت کا وقت آگیا اور فرشتۂ اجل نے اُن کی روح قبض کر لی۔ اُن کے اعیان و اکابر اور اہل خاندان نے جب دیکھا کہ موت کے باوجود اُن کا جسم عصا کے سہارے بدستور قائم ہے تو اُنھوں نے اِس خیال سے کہ جنات جس کام میں لگے ہوئے ہیں، وہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے، اُنھیں اُسی حالت میں رہنے دیا۔ یہ تدبیر ایک عرصے تک کامیاب رہی۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ چنانچہ اِس اثنا میں دیمک نے عصا کو نیچے سے کھا لیا جس کے بعد سلیمان علیہ السلام کا جسد مبارک زمین پر گر پڑا۔”

یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ:

• جس شے سے جنوں کو وضوح و کشف حقیقت (یعنی تبیین) حاصل ہوئی وہ ایک فعل تھا جس کے بارے میں یہ فرض کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہوسکتی کہ وہ کلام کی پیدائش کے وقت سے اس کے الفاظ میں مفہوم ہو

• نیز اس تبیین نے جنوں پر ایسی چیز کو واضح کیا جو پہلے ان پر واضح نہ تھی

اہل علم جانتے ہیں کہ نسخ اسی حقیقت سے عبارت ہے اور قرآن نے یہاں اس مفہوم کو پیدا کرنے کے لئے لفظ “تبیین” ہی استعمال کیا ہے۔ یہاں مزید غور کیجئے کہ لفظ “تبیین” غلطی کی اصلاح کرنے والے وضوح کے معنی بھی دے رہا ہے۔

خلاصہ

قرآن مجید میں لفظ “بیان” کا یہ استعمال صاف بتارہا ہے کہ کلام عرب اور قرآن کے محاورے میں لفظ بیان کے مفہوم و حقیقت پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کہ یہ ایسے وضوح و ظہور پر استعمال نہیں ہوسکتا جو تبدیلی و ترمیم سے عبارت ہو۔ ان مثالوں سے واضح ہوا کہ لفظ “بیان” ایسے محل میں استعمال ہوتا ہے جو ترمیم و تبدیلی پر منتج ہونے والی وضاحت ہو۔ پس لفظ “بیان و تبیین” کو لغوی طور پر کسی مفروضہ مفہوم میں بند کرنے سے پہلے کم از کم قرآن میں اس کے استعمال کے نظائر پر غور کرنا چاہئے (اور فرصت ہو تو احادیث کے ذخیرے کو بھی دیکھا جانا چاہئے) نیز اپنے اس دعوے کی لغوی، عقلی و شرعی دلیل بھی دینا چاہئے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…