ہدایتِ دین اور شرطِ تواتر

Published On November 24, 2024
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مولانا فراہی نے یہ تاویل اختیار کی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب سے اصل مقصود یہ تھا کہ وہ اپنے اکلوتے / پہلوٹھے بیٹے کو بیت اللہ کی خدمت کے لیے خاص کردیں۔ اس تاویل کے لیے ان کا بنیادی انحصار ان احکام پر ہے جوتورات میں ان لوگوں...

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

محمد خزیمہ الظاہری

دین کی ہر ہدایت کا تواتر سے منتقل ہونا ضروری نہیں ہے اور نا ہی کسی نقل ہونے والی چیز کے ثبوت کا اکلوتا ذریعہ تواتر ہے.. سب سے پہلی اصل اور بنیاد کسی بات کے ثبوت پر اطمینان ہے اور اسکے لئے ہمہ وقت تواتر کا احتیاج نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دینی لٹریچر کو نقل کرنے اور لوگوں تک پہنچانے کے لئے روایتِ حدیث کا مستقل فن وجود میں آیا ورنہ اس علم کی کوئی ضرورت نا تھی.

البتہ بہت سے لوگ ایک ناقص سوال کرتے رہتے ہیں کہ قرآن مجید کی آیات کی طرح صحیح احادیث کی تعداد بھی متعین کیوں نہیں ہے اور اگر حدیث عین دین ہے تو اس میں اختلاف کیوں ہے؟

 ایک ہی حدیث کو بسا اوقات ایک محدث صحیح اور دوسرا ضعیف کہ رہا ہوتا ہے.. گویا دین میں ہی اختلاف ہے کہ فلاں چیز دین ہے یا نہیں؟

اس اعتراض کی حقیقت یہ ہے کہ :

اوّلا : دین کی تمام بنیادیں قرآن مجید اور مسلّمہ طور پر صحیح سمجھی جانے والی احادیث میں صاف صاف مقرر ہیں.. اور احادیث کی زیادہ تعداد ایسی ہے جنکی صحت یا ضعف بھی قابلِ اطمینان حد تک واضح ہے۔

ثانیاً : جن احادیث کی صحت میں اختلاف ہے،انکا ایک حصہ ایسا ہے جس میں اختلاف واضح طور پر شذوذ کا نتیجہ ہے.. اور اختلاف کرنے والے اہل علم حدیث کے نقّاد ائمہ میں شامل نہیں ہیں۔

ثالثاً : صحت و ضعف کے لحاظ سے مختلف فیہ روایات کا ایک حصہ براہ راست قرآن مجید یا صحیح احادیث سے تائید شدہ ہے اور ضعف کی نوعیت نہایت خفیف ہے.. لہذا یہ روایات ویسے ہی صحیح نصوص اور دیگر قرائن سے تقویت پا کر مکمّل طور پر مستند ہو جاتی ہیں حتیٰ کہ ایسی روایات کو ضعیف کہنے والے علماء بھی انکے متن کو تسلیم کرتے ہیں۔

رابعاً : ان تمام چیزوں کے باوجود اگر احادیث کی ایک تعداد کے بارے میں یہ بات تسلیم کر لی جائے کہ ان کی صحت میں اختلاف کا معاملہ حل نہیں ہو رہا اور متن میں موجود حکم یا نصیحت کے دینی ھدایت میں شامل ہونے یا نا ہونے کا مسئلہ اختلاف کی بھینٹ چڑھ رہا ہے تو بھی یہ معاملہ اس اختلاف کی وجہ سے دین کی حیثیت کو مجروح نہیں کرتا۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکی نوعیت بالکل وہی ہے جو آیات و احادیث کے فہم کی نوعیت ہے کہ بہت سی نصوص کی تعبیر میں اختلاف ہو جاتا ہے مگر وہ آیات و احادیث دین کا جزو رہتی ہیں اور بہت سے مسائل کے جواز و عدم جواز میں اختلاف ہو جاتا ہے لیکن وہ مسائل دینی احکامات کی فہرست میں شامل رہتے ہیں۔

فلہذا احادیث کی صحت و ضعف میں اختلاف کی نشاندہی کر کے حدیث کی اہمیت گھٹانا اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص قرآن مجید کی آیات کے معنیٰ و مفہوم میں اختلاف کی نشاندہی کر کے قرآن مجید کے دین کی بنیاد ہونے کی حیثیت کا انکار شروع کر دے۔

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…