۔”فقہ القرآن” ، “فقہ السنۃ” یا “فقہ القرآن و السنۃ”؟

Published On May 23, 2025
(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

(کیا کسی کو کافر کہنا جائز نہیں؟ غامدی صاحب کے نظریہ کفر کے داخلی ابہامات (اول

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کے شاگرد جناب حسن الیاس صاحب نے ”دلیل“ پر اپنی ایک حالیہ تحریر میں شکوہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نکتہ نظر پر درست تنقید کہیں موجود ہی نہیں تو جواب کیا دیا جائے؟ لوگ یا تو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں اور یا ان کی طرف غیر متعلق دعوے منسوب کرکے اس...

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

تکفیر اور انتہا پسندی: غامدی صاحب کے حلقے سے پانچ سوال

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب کے حلقے کے اصحاب سے ایک بحث جناب طارق محمود ہاشمی صاحب کی ہوئی اور اس میں جس بات نے سخت تکلیف دی وہ یہ تھی کہ غامدی صاحب کے منتسبین میں ایک نہایت سنجیدہ بزرگ بھی ہاشمی صاحب کی بات کا جواب دینے، یا اس کی غلطی واضح کرنے، کے بجائے اس کا...

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ اور مسئلہ تکفیر: چند اعتراضات

طارق محمود ہاشمی راقم کا ایک مضمون ”دلیل“ پر شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”جاوید غامدی صاحب کا جوابی بیانیہ: تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار۔“ ہماری خوش نصیبی ہے کہ المورد کے صفِ اول کے سکالر، ہمارے محترم آصف افتخار صاحب نے جاوید غامدی صاحب کے دفاع کے لیے قلم اُٹھایا...

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

غامدی صاحب کاجوابی بیانیہ، تکفیر کے مسئلے پر فکری انتشار

طارق محمود ہاشمی تکفیر کے جواز کے بارے میں بعض متجددین نے ایک خلطِ مبحث پیدا کر دیا ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی جاوید غامدی صاحب کا ”جوابی بیانیہ“ بھی ہے، جس میں تکفیر کے مسئلے میں متشددانہ نقطہ اختیار کیا گیا ہے۔ ایک تو تکفیر کو سرے سے ممنوع قرار دیا ہے جس کی غرض یہ...

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

غامدی صاحب کا اسلام : ارتداد کی سزا

ناقد : مفتی یاسر ندیم واجدی  تلخیص : زید حسن سائل  نوید افضل   : غامدی صاحب "اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے جوابات دے رہے ہیں ۔ جس میں ارتداد کی سزا کی بابت انہوں نے فرمایا ہے کہ اس کی سزا قتل نہیں ہے ۔ اسکی تین وجوہات انہوں نے ذکر کی ہیں ۔ اول  ۔ لا اکراہ فی الدین سے...

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

فکرِ غامدی : مبادیء تدبرِ قرآن ، قرآن قطعی الدلالہ یا ظنی الدلالہ (قسط ششم)

ناقد :ڈاکٹرحافظ محمد زبیر تلخیص : وقار احمد اس ویڈیو میں ہم میزان کے باب کلام کی دلالت پر گفتگو کریں گے غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ " دنیا کی ہر زندہ زبان کے الفاظ و اسالیب جن مفاہیم پر دلالت کرتے ہیں ، وہ سب متواترات پر مبنی اور ہر لحاظ سے بالکل قطعی ہوتے ہیں ۔ لغت و...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قرآن کے کسی بھی حکم کو سنت سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے ؟ کیا جن آیات کو “آیات الاحکام” کہا جاتا ہے ان سے “احادیث الاحکام” کے بغیر شرعی احکام کا صحیح استنباط کیا جاسکتا ہے ؟ ایک reverse engineering کی کوشش جناب عمر احمد عثمانی نے کی تھی “فقہ القرآن ” کے نام سے اور ان کا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ “ہدایہ” میں جو احکام ہیں ان میں سے ایک ایک کا جائزہ لے کر دکھایا جائے کہ کون سے احکام ایسے ہیں جو “صرف قرآن” سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ بہت جلد ان کو بھی اندازہ ہوگیا کہ reverse engineering میں بھی یہ کام اتنا آسان نہیں ۔ چناں چہ جلد ہی انھیں بہت ساری روایات پر بہت تفصیلی بحثوں میں جانا پڑا ۔
ایک زمانے میں جناب غامدی صاحب حدیث ِ معاذ رضی اللہ عنہ کا حوالہ اکثر دیتے رہتے تھے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر قرآن میں حکم نہ ہو تو سنت کی طرف جایا جائے گا ۔ (ان دنوں ان کے نزدیک سنت اور حدیث میں فرق نہیں ہوا کرتا تھا ۔ نیز اس حدیث کی استنادی حیثیت پر بحث کی بھی ان کے ہاں کچھ خاص اہمیت نہیں تھی ۔ ) میرا سوال اس وقت بھی یہ تھا کہ اگر قرآن میں حکم نہ ملے تو سنت کی طرف جائیں گے لیکن اگر قرآن میں حکم ہو تو کیا وہیں رک جائیں گے اور آگے سنت کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ مثال کے طور پر قرآن نے کہا کہ “السارق” کا “ید” کاٹ دو ۔ اب کیا ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ دیکھیں کہ لغت ِ عرب میں “السارق” اور “ید” کسے کہتے ہیں ؟ یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں ان الفاظ کا مصداق کیا تھا ؟ چلیں السارق کو فی الحال بھول جاتے ہیں لیکن اگر “ید” سے مراد ہاتھ ہے ، یعنی انگلی سے لے کر شانے تک کا پورا عضو اور قرآن نے اسے کاٹنے کا حکم دیا ہے تو شانے سے کاٹ لیں ( کہ یہ پورا ہاتھ ہے ) ؟ یا کہنی سے (کہ وضو میں قرآن نے یہاں تک دھونے کا حکم دیا ہے ؟ حالانکہ دھونے اور کاٹنے کے احکام میں بہت زیادہ فرق ہے !) غامدی صاحب کا جواب کیا تھا ؟ اس پر کسی اور وقت روشنی ڈالیں گے ، ان شاء اللہ ۔ فی الوقت تو “اسلامی بینکاروں” کی توجہ درکار ہے کہ ان کے اصول فقہ کی رو سے ان سوالات کے جوابات وہ کیا دیتے ہیں ؟
اسی بنا پر امام طحاوی نے “احکام القرآن” کے نام سے جو کتاب لکھی اس کے مقدمے میں ساری بحث قرآن اور حدیث کے تعلق پر کی ہے کیونکہ جب تک یہ اصولی مسائل نہ طے کیے جائیں قرآن سے کسی حکم کا صحیح استنباط نہیں کیا جاسکتا۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…