۔”فقہ القرآن” ، “فقہ السنۃ” یا “فقہ القرآن و السنۃ”؟

Published On May 23, 2025
غامدی صاحب کے نظریات

غامدی صاحب کے نظریات

ناقد :سید سعد قادری صاحب تلخیص : زید حسن   ایک صاحب نے استفسار کیا کہ غامدی صاحب کو سننا کیسا ہے ؟ میرے خیال سے غامدی صاحب میں لوگوں کو کشش انکے اندازِ بیان اور  پہلے سے چلتے آنے والے مذہبی تصورات کی مخالفت کی وجہ سے محسوس ہوتی ہے  کیونکہ طبائع نئی چیزوں کی طرف...

غامدی صاحب کی اصل غلطی

غامدی صاحب کی اصل غلطی

ناقد : مولانا اسحق صاحب تلخیص : زید حسن غامدی صاحب کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ سلف صالحین سے ہٹ کر خدائی پیغام کی تشریح کرتے ہیں ۔ اسکا لازمی مطلب یہ ہے کہ یا تو قرآن عربیء مبین میں نازل نہیں ہوا ( جو قرآن پر ایک طعن ہے)  کہ وہ ہدایت دینے کے لئے واضح   پیغام لانے کی بجائے...

کیا کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا؟

کیا کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا؟

محمد رفیق چوہدری دور ِ جدید کے بعض تجدد پسند حضرات نے نبی اور رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے فرق و امتیاز کی بحث کرتے ہوئے یہ نکتہ آفرینی بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کو تو اُن کی قوم بعض اوقات قتل بھی کردیتی رہی ہے مگر کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول...

اسلام ميں مرتد كى سزا اور جاويد غامدى

اسلام ميں مرتد كى سزا اور جاويد غامدى

محمد رفیق چوہدری ارتداد كے لغوى معنى 'لوٹ جانے' اور 'پهر جانے' كے ہيں - شرعى اصطلاح ميں ارتداد كا مطلب ہے: "دين اسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلينا-" يہ ارتداد قولى بهى ہوسكتا ہے اور فعلى بهى- 'مرتد' وہ شخص ہے جو دين ِاسلام كو چهوڑ كر كفر اختيار كرلے-اسلا م ميں مرتد كى...

پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

پردے کے بارے میں غامدی صاحب کی مغالطہ انگیزیاں

محمد رفیق چوہدری عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیںکبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورِنبویؐ کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث (قسط 4)

محمد رفیق چوہدری غامدی صاحب کے انکارِ حدیث کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ وہ فہم حدیث کے لئے اپنے من گھڑت اُصول رکھتے ہیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں نکلتا ہے۔ وہ حدیث اور سنت کی مسلمہ اصطلاحات کا مفہوم بدلنے کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ حدیث کو دین کا حصہ نہیں سمجھتے۔ وہ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قرآن کے کسی بھی حکم کو سنت سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے ؟ کیا جن آیات کو “آیات الاحکام” کہا جاتا ہے ان سے “احادیث الاحکام” کے بغیر شرعی احکام کا صحیح استنباط کیا جاسکتا ہے ؟ ایک reverse engineering کی کوشش جناب عمر احمد عثمانی نے کی تھی “فقہ القرآن ” کے نام سے اور ان کا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ “ہدایہ” میں جو احکام ہیں ان میں سے ایک ایک کا جائزہ لے کر دکھایا جائے کہ کون سے احکام ایسے ہیں جو “صرف قرآن” سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ بہت جلد ان کو بھی اندازہ ہوگیا کہ reverse engineering میں بھی یہ کام اتنا آسان نہیں ۔ چناں چہ جلد ہی انھیں بہت ساری روایات پر بہت تفصیلی بحثوں میں جانا پڑا ۔
ایک زمانے میں جناب غامدی صاحب حدیث ِ معاذ رضی اللہ عنہ کا حوالہ اکثر دیتے رہتے تھے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر قرآن میں حکم نہ ہو تو سنت کی طرف جایا جائے گا ۔ (ان دنوں ان کے نزدیک سنت اور حدیث میں فرق نہیں ہوا کرتا تھا ۔ نیز اس حدیث کی استنادی حیثیت پر بحث کی بھی ان کے ہاں کچھ خاص اہمیت نہیں تھی ۔ ) میرا سوال اس وقت بھی یہ تھا کہ اگر قرآن میں حکم نہ ملے تو سنت کی طرف جائیں گے لیکن اگر قرآن میں حکم ہو تو کیا وہیں رک جائیں گے اور آگے سنت کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ مثال کے طور پر قرآن نے کہا کہ “السارق” کا “ید” کاٹ دو ۔ اب کیا ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ دیکھیں کہ لغت ِ عرب میں “السارق” اور “ید” کسے کہتے ہیں ؟ یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں ان الفاظ کا مصداق کیا تھا ؟ چلیں السارق کو فی الحال بھول جاتے ہیں لیکن اگر “ید” سے مراد ہاتھ ہے ، یعنی انگلی سے لے کر شانے تک کا پورا عضو اور قرآن نے اسے کاٹنے کا حکم دیا ہے تو شانے سے کاٹ لیں ( کہ یہ پورا ہاتھ ہے ) ؟ یا کہنی سے (کہ وضو میں قرآن نے یہاں تک دھونے کا حکم دیا ہے ؟ حالانکہ دھونے اور کاٹنے کے احکام میں بہت زیادہ فرق ہے !) غامدی صاحب کا جواب کیا تھا ؟ اس پر کسی اور وقت روشنی ڈالیں گے ، ان شاء اللہ ۔ فی الوقت تو “اسلامی بینکاروں” کی توجہ درکار ہے کہ ان کے اصول فقہ کی رو سے ان سوالات کے جوابات وہ کیا دیتے ہیں ؟
اسی بنا پر امام طحاوی نے “احکام القرآن” کے نام سے جو کتاب لکھی اس کے مقدمے میں ساری بحث قرآن اور حدیث کے تعلق پر کی ہے کیونکہ جب تک یہ اصولی مسائل نہ طے کیے جائیں قرآن سے کسی حکم کا صحیح استنباط نہیں کیا جاسکتا۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…