۔”فقہ القرآن” ، “فقہ السنۃ” یا “فقہ القرآن و السنۃ”؟

Published On May 23, 2025
ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ریاست و فرد اور فکرِ غامدی کا تضاد

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب نہایت دلچسپ مفکر ہیں، انکے نزدیک ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر (سواۓ دو معاملات، اقامتِ صلاۃ اور زکوۃ) افراد پر جبر کرے، مثلا انکے نزدیک ریاست افراد سے پردہ کرنے کا تقاضا نہیں کرسکتی۔ مگر دوسری طرف یہ ریاست کا حق اس قدر وسیع...

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

“غامدی صاحب کا اصول “قطعی الدلالہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد غامدی صاحب بڑے شدّ و مدّ کے ساتھ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن پورے کا پورا قطعی الدلالہ ہے، یعنی اس کا ایک ہی مفہوم ہے اور اس کا کوئی دوسرا مفہوم نہیں ہوسکتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر پورے قرآن کو قطعی الدلالہ نہ مانا جائے تو وہ میزان اور...

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

(Surrogate Mother) کرائے کی ماں

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب نے سروگیسی  یعنی کسی دوسری عورت کی کوکھ یا رحم کرائے پر لینے کو جائز قرار دیا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب: میں نے غامدی صاحب کا وہ ویڈیو کلپ دیکھا ہے اور غالبا جو میں نے دیکھا ہے، یہ اس موضوع پر ان کا...

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

وحی و عقل ، چند قابلِ لحاظ پہلو

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا "عقل اور وحی" کے تعلق پر مبنی ایک  پروگرام دیکھا جس میں وہ سائلین کے ساتھ اسی بحث میں پھنسے رہے کہ عقل پرائمری سورس آف علم ہے یا وحی اور پوری گفتگو عقل اور انسان سے متعلق چند غلط مفروضات پر مبنی تھی۔ مذھب اور عقل کے تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

کیا قرآن کے کسی بھی حکم کو سنت سے الگ کرکے سمجھا جاسکتا ہے ؟ کیا جن آیات کو “آیات الاحکام” کہا جاتا ہے ان سے “احادیث الاحکام” کے بغیر شرعی احکام کا صحیح استنباط کیا جاسکتا ہے ؟ ایک reverse engineering کی کوشش جناب عمر احمد عثمانی نے کی تھی “فقہ القرآن ” کے نام سے اور ان کا بنیادی آئیڈیا یہ تھا کہ “ہدایہ” میں جو احکام ہیں ان میں سے ایک ایک کا جائزہ لے کر دکھایا جائے کہ کون سے احکام ایسے ہیں جو “صرف قرآن” سے اخذ کیے گئے ہیں ۔ بہت جلد ان کو بھی اندازہ ہوگیا کہ reverse engineering میں بھی یہ کام اتنا آسان نہیں ۔ چناں چہ جلد ہی انھیں بہت ساری روایات پر بہت تفصیلی بحثوں میں جانا پڑا ۔
ایک زمانے میں جناب غامدی صاحب حدیث ِ معاذ رضی اللہ عنہ کا حوالہ اکثر دیتے رہتے تھے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگر قرآن میں حکم نہ ہو تو سنت کی طرف جایا جائے گا ۔ (ان دنوں ان کے نزدیک سنت اور حدیث میں فرق نہیں ہوا کرتا تھا ۔ نیز اس حدیث کی استنادی حیثیت پر بحث کی بھی ان کے ہاں کچھ خاص اہمیت نہیں تھی ۔ ) میرا سوال اس وقت بھی یہ تھا کہ اگر قرآن میں حکم نہ ملے تو سنت کی طرف جائیں گے لیکن اگر قرآن میں حکم ہو تو کیا وہیں رک جائیں گے اور آگے سنت کی طرف نہیں دیکھیں گے ؟ مثال کے طور پر قرآن نے کہا کہ “السارق” کا “ید” کاٹ دو ۔ اب کیا ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ دیکھیں کہ لغت ِ عرب میں “السارق” اور “ید” کسے کہتے ہیں ؟ یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ زمانۂ جاہلیت میں ان الفاظ کا مصداق کیا تھا ؟ چلیں السارق کو فی الحال بھول جاتے ہیں لیکن اگر “ید” سے مراد ہاتھ ہے ، یعنی انگلی سے لے کر شانے تک کا پورا عضو اور قرآن نے اسے کاٹنے کا حکم دیا ہے تو شانے سے کاٹ لیں ( کہ یہ پورا ہاتھ ہے ) ؟ یا کہنی سے (کہ وضو میں قرآن نے یہاں تک دھونے کا حکم دیا ہے ؟ حالانکہ دھونے اور کاٹنے کے احکام میں بہت زیادہ فرق ہے !) غامدی صاحب کا جواب کیا تھا ؟ اس پر کسی اور وقت روشنی ڈالیں گے ، ان شاء اللہ ۔ فی الوقت تو “اسلامی بینکاروں” کی توجہ درکار ہے کہ ان کے اصول فقہ کی رو سے ان سوالات کے جوابات وہ کیا دیتے ہیں ؟
اسی بنا پر امام طحاوی نے “احکام القرآن” کے نام سے جو کتاب لکھی اس کے مقدمے میں ساری بحث قرآن اور حدیث کے تعلق پر کی ہے کیونکہ جب تک یہ اصولی مسائل نہ طے کیے جائیں قرآن سے کسی حکم کا صحیح استنباط نہیں کیا جاسکتا۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…