اسلام اور ریاست: غامدی صاحب کے ’جوابی بیانیے‘ کی حقیقت : قسط اول

Published On October 31, 2024
فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

فہم نزول عیسی اور غامدی صاحب

حسن بن علی غامدی صاحب نے بشمول دیگر دلائل صحیح مسلم کی حدیث (7278، طبعہ دار السلام) کو بنیاد بناتے ہوئے سیدنا مسیح کی آمد ثانی کا انکار کیا ہے. حدیث کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی...

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

تراث ، وراثت اور غامدی صاحب : حصہ دوم

حسن بن علی اسی طرح تقسیم میراث کے دوران مسئلہ مشرکہ (حماریہ یا ہجریہ) کا وجود مسلم حقيقت ہے جس کے شواہد روایتوں میں موجود ہیں لیکن غامدی صاحب (سورۃ النساء آيت 12 اور آیت 176) كى خود ساختہ تفسیر کے نتیجے میں یہ مسئلہ سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا. اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ...

سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی بیہودہ تاویلیں

سنت نبوی اور ہمارے مغرب پرست دانشوروں کی بیہودہ تاویلیں

بشکریہ : ویب سائٹ " بنیاد پرست"۔ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم   اور جدید تہذیب  نے   مسلمانوں کے ذہنوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں ، اس کی عجیب عجیب مثالیں دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں،  یہود ونصاری نے ہمارے جوانوں کی اس حد تک برین واشنگ کردی ہے کہ  یہ    نہ صرف جدید تہذیب و...

مسئلہ تکفیر : غامدیت و قادیانیت

مسئلہ تکفیر : غامدیت و قادیانیت

عبد اللہ معتصم ایک  مسئلہ تکفیر کا ہے۔ اس میں بھی غامدی صاحب نے پوری امت سے بالکلیہ ایک الگ اور شاذ راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ صرف پیغمبر ہی کسی شخص یا گروہ کی تکفیر کر سکتا ہے۔ کسی غیرنبی، عالم، فقیہ یا مفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی شخص یا گروہ کو...

مرتد کی سزائے قتل سے انکار

مرتد کی سزائے قتل سے انکار

عبد اللہ معتصم یہ بات اسلامی قانون کے کسی واقف کار آدمی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسلام میں اس شخص کی سزا قتل ہے جو مسلمان ہوکر پھر کفر کی طرف لوٹ جائے۔ ہمارا پورا دینی لٹریچر شاہد ہے کہ قتل مرتد کے معاملے میں مسلمانوں کے درمیان کبھی دورائے نہیں پائی گئیں۔ نبیصلی اللہ علیہ...

قرآن کی من مانی تفسیر

قرآن کی من مانی تفسیر

عبد اللہ معتصم اپنے پیش رو مرزا قادیانی کی طرح غامدی صاحب بھی قرآن کی من مانی تفسیر، الفاظ کو کھینچ تان کر اپنے مطلب کی بات نکالنے میں طاق ہیں۔ قرآن کی معنوی تحریف اور جمہور امت سے ایک الگ اعتزال کی راہ اپنانا اور ایک امتیازی رائے رکھنا ان کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔...

ڈاکٹر محمد مشتاق

۔22 جنوری 2015ء کو روزنامہ جنگ نے’اسلام اور ریاست: ایک جوابی بیانیہ‘ کے عنوان سے جناب غامدی کا ایک کالم شائع کیا۔ اس’جوابی بیانیے‘ کے ذریعے غامدی صاحب نے نہ صرف ’دہشت گردی‘کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑا، بلکہ دہشت گردی پر تنقید میں آگے بڑھ کر اسلامی قانون کے مسلّمہ اصولوں اور مسلمانوں کی علمی روایت کے اساسی تصورات ہی کی نفی کردی۔ بعض علماے کرام نے ان کے جواب میں مختصر تحریریں لکھیں، لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ غامدی صاحب کے اس جوابی بیانیے کا پس منظر پیش کیا جائے کیونکہ راقم کی ناقص راے میں اس پس منظر کی وضاحت کے بغیر اس کی درست تفہیم ممکن نہیں ہے۔اس باب میں اس جوابی بیانیے کاپس منظر اسی مقصد سے پیش کیا جارہا ہے۔

آزادی سے قبل اسلامی سیاسی نظام کی بحث

۔1930ء کی دہائی میں جب برصغیر میں آزادی کی تحریک ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگئی تھی، مولانا مودودی نے ماہنامہ ترجمان القرآن میں مضامین کا ایک اہم سلسلہ شروع کیا جو بعد میں کتابی صورت میں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش کے عنوان سے شائع کیے گئے۔ اس سلسلۂ مضامین میں نہ صرف مسلمانانِ ہند کے عملی سیاسی مسائل پر بحث تھی، بلکہ سیاست و ریاست کے اہم موضوعات پر اسلامی اصولی مباحث بھی شامل تھے۔ یہ نظری بحث جلد ہی عملی جدوجہد میں تبدیل ہوگئی جب 26 اگست 1941ء کو جماعتِ اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جماعت اسلامی میں آنے سے قبل مولانا اصلاحی کا موقف متحدہ قومیت کے نظریے سے قریب تھا، جس پر مولانا مودودی نے تنقید کی، لیکن جب جماعتِ اسلامی کا قیام عمل میں لایا گیا، تو مولانا اصلاحی ابتدا سے ہی اس کا حصہ بن گئے تھے۔اگلے تقریباً ڈیڑھ عشرے تک وہ جماعتِ اسلامی کا حصہ رہے اور اس کے نظم کا حصہ بن کر عملی سیاسی جدوجہد میں بھی شریک رہے اور سیاست، ریاست اور قانون کے بعض اہم موضوعات پر مضامین اور کتب بھی لکھیں۔ نیز آپ نے مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی کے دفاع میں کتابیں بھی لکھیں۔ مولانا اصلاحی کا درج ذیل اقتباس اسلام اور ریاست کے تعلق پر ان کے موقف کی توضیح کےلیے کافی ہے

“انسانی قانون کے قانون ہونے کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ اس کو شیخِ قبیلہ یا بزرگ ِ خاندان کی منظوری حاصل ہے ، یا کسی عدالت نے اس پر عمل کیا ہے ، یاکسی حکومت نے اس کوتسلیم کیا ہے ۔ ۔۔ برعکس اس کے اسلامی قانون کی قانونیت ان چیزوں میں سے کسی چیز کی بھی محتاج نہیں ہے ۔ وہ بہرحال قانون ہے کوئی عدالت اسے مانے یا نہ مانے ، اور کوئی حکومت اسے تسلیم کرے یا نہ کرے ۔ وہ اس کائنات کے حقیقی مالک اور حکمران کا قانون ہے ۔ اگر کوئی عدالت یا حکومت اس کو تسلیم نہیں کرتی تو اس کے تسلیم نہ کرنے سے اس کی قانونیت متاثر نہیں ہوتی ،بلکہ خود وہ عدالت یا حکومت نافرمانی اور بغاوت کی مجرم ٹھہرتی ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا ہے : وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ( اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان ہیں )۔”

مولانا اصلاحی کی جماعتِ اسلامی سے علیحدگی کا سبب یہ نہیں تھا کہ اسلام اور سیاست کے متعلق آپ کا اصولی موقف تبدیل ہوگیا ہو، بلکہ اختلاف کا تعلق جماعت کے امیر کے اختیارات اور مناسب تیاری سے قبل انتخابی سیاست میں شرکت کے فیصلےسے تھا۔

اقامتِ دین اور غلبۂ دین کے متعلق مولانا اصلاحی کا موقف

جماعتِ اسلامی سے الگ ہونے کے بعد بھی مولانا اصلاحی نے نظری طور پر اسلام اور سیاست کے تعلق پر مولانا مودودی کے موقف کے ساتھ کسی جوہری اختلاف کا اظہار نہیں کیا اور عملی طور پر بھی کچھ عرصے تک مولانا اصلاحی نے پاکستانی ریاستی قوانین کی ’اسلام کاری‘ اسلامائزیشن کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ انھوں نے اس مقصد کےلیے کام نہ صرف انفرادی سطح پر، بلکہ ریاستی ادارے کا حصہ بن کر بھی کیا۔ پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ 1956ء کو نافذ کیا گیا۔ اس آئین میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پاکستان میں اسلامی احکام سے متصادم کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، نیز رائج الوقت تمام قوانین کو اسلامی احکام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس مقصد کےلیے پارلیمان کی رہنمائی اور معاونت کےلیے 22مارچ 1957ء کو ایک کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا اور مولانا اصلاحی کو اس کا رکن بنایا گیا۔ کمیشن نے کچھ عرصہ کام کیا لیکن اکتوبر 1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرکے آئین کو معطل کردیا ، تو یہ کمیشن بھی ختم ہوگیا۔

مولانا مودودی کے تصورِ دین پر تنقید

اسلام اور سیاست کے موضوع پر مولانا مودودی کے زاویۂ نظر سے مولانا اصلاحی نے تو نہیں، لیکن بعض دیگر اہلِ علم نے اختلاف کیا مگر یہ اختلاف زیادہ تر اسلوب پر گرفت یا ترجیحات کے تعین کے بارے میں تھا۔ البتہ مولانا وحید الدین خاں (م:2021ء) کی تنقید کی نوعیت مختلف تھی۔انھوں نے مولانا مودودی کے ’سیاسی اسلام‘ کو ’تعبیر کی غلطی‘ قرار دے کر ان کے تصورِ دین کو ہی ہدف بنایا۔ جناب غامدی خود کچھ عرصہ جماعتِ اسلامی سے وابستہ رہے۔ پھر کچھ گفتہ اور کچھ ناگفتہ وجوہات کی بنا پر ان کا جماعتِ اسلامی کے ساتھ تعلق ختم ہوگیا۔ 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…