( اہلِ غزہ کے معاملے میں غامدی صاحب کی اصولی غلطیاں (قسط دوم

Published On April 21, 2025
تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

تقابل علوم و عقائد: غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

عمران شاہد بھنڈر بظاہر تو یہ بات بہت عجیب سی لگتی ہے کہ علوم و عقائد کے درمیان کوئی تقابل کیا جائے، اور پھر اس تقابل کے دوران چند غلط نتائج نکال کر اپنے عقائد کو فاتح قرار دے دیا جائے۔ مستزاد یہ کہ اس بات پر بھی زور دیا جائے کہ مذہب کا اصل موضوع ’موت‘ اور موت کے بعد...

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

غامدی صاحب اور قراءاتِ متواترہ

اپنی کتاب ' میزان ' میں لکھتے ہیں کہ ''یہ بالکل قطعی ہے کہ قرآن کی ایک ہی قراء ت ہے جو ہمارے مصاحف میں ثبت ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جو قراء تیں تفسیروں میں لکھی ہوئی ہیں یا مدرسوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، یا بعض علاقوں میں لوگوں نے اختیار کر رکھی ہیں، وہ سب اسی فتنۂ...

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب اور مسئلہ تکفیر

غامدی صاحب لکھتے ہیں "مسلمانوں کے کسی فرد کی تکفیر کا حق قرآن و سنت کی رو سے کسی داعی کو حاصل نہیں ہے، یہ ہوسکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو، لیکن وہ اگر اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفرو شرک...

غامدی صاحب اور حدیث

غامدی صاحب اور حدیث

مقدمہ 1: غامدی صاحب اپنا ایک اصول حدیث لکھتے ہیں کہ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل اور تقریر و تصویب کے اخبار آحاد جنہیں بالعموم 'حدیث' کہا جاتا ہے، ان کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ ان سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا ہرگز کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔" (...

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

غامدی صاحب اور شرعی پردہ

عور ت کے پردے کے بارے میں جناب جاوید احمدغامدی صاحب کا کوئی ایک موقف نہیں ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں :کبھی فرماتے ہیں کہ عورت کے لئے چادر، برقعے، دوپٹے اور اوڑھنی کا تعلق دورنبوی کی عرب تہذیب و تمدن سے ہے اور اسلام میں ان کے بارے میں...

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

غامدی صاحب اور مرتد کی سزا

نبى كريم صلی اللہ علیہ وسلم كی مستند احادیث كى بنا پر علماے امت كا مرتد كى سزا قتل ہونے پر اجماع ہے،  كتب ِاحاديث اور معتبر كتب ِتاريخ سے ثابت ہے كہ چاروں خلفاے راشدين نے اپنے اپنے دور ِخلافت ميں مرتدين كو ہميشہ قتل كى سزا دى ،  ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدوں کیخلاف...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پچھلی قسط کے اختتام پر لکھا گیا کہ ابھی یہ بحث پوری نہیں ہوئی، لیکن غامدی صاحب کے حلقے سے فوراً ہی جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر جواب کی طرف لپکنے کے بجاے وہ کچھ صبر سے کام لیتے اور اگلی قسط پڑھ لیتے، تو ان حماقتوں میں مبتلا نہ ہوتے جن میں وہ اب تک مبتلا ہوچکے ہیں، اور انھیں کچھ مزید ایسے پہلوؤں پر غور کا موقع مل جاتا، جن کی طرف ان کی، اور ان کے پیشوا کی، نظر نہیں جاتی۔ اس قسط میں ایسے چند پہلوؤں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ (ویسے جتنے صبر کا مطالبہ میں ان سے کررہا ہوں، وہ اس صبر کے ہزارویں بلکہ لاکھویں حصے سے بھی کم ہے، جس کا مطالبہ وہ اہلِ غزہ سے کرتے ہیں۔)
سبب، شرط اور مانع کی اس بحث میں غامدی صاحب اور ان کے متبعین ایک تو ان تصورات کے درمیان فرق کو ملحوظ نہیں رکھ رہے۔ مثلاً جہاد کےلیے استطاعت کو ضروری قرار دے کر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ استطاعت کے بغیر جہاد واجب نہیں ہوتا، اور ساتھ ہی زکوٰۃ اور حج کی مثال دیتے ہیں، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ استطاعت زکوٰۃ کےلیے تو سبب ہے (جس کی علامت نصاب کے برابر مال کی ملکیت ہے)، لیکن حج اور جہاد کے لیے استطاعت شرط ہے۔ اس فرق کو نظر انداز کرنا معمولی نہیں، بلکہ بنیادی غلطی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت کا سوال نصاب کی ملکیت سے پہلے اٹھتا ہی نہیں، جبکہ جہاد کی فرضیت کا سبب (غامدی صاحب کے بقول) دوسروں کی جانب سے ظلم و عدوان کا ارتکاب ہے۔ اس لیے جب ظلم و عدوان کا وجود پایا جائے گا، تو جہاد (بمعنیٰ قتال) کا وجوب بھی پایا جائے گا، یعنی اس ظلم و عدوان کو مسلح جنگ کے ذریعے روکنا لازم ہوگا، اور اسے لازم ماننے کے بعدیہ سوال ہوگا کہ یہ لازم کام کیسے کیا جائے؟
یہیں سے ایک اور اہم فرق پر بات ضروری ہوجاتی ہے جسے غامدی صاحب اور ان کے متبعین نظر انداز کررہے ہیں۔ وہ فرق جہاد اور حج کی فرضیت کا فرق ہے۔ یہ دونوں کام فرض ہیں اور دونوں کےلیے استطاعت سبب نہیں، بلکہ شرط ہے؛ لیکن فرق یہ ہے کہ حج فرض عین ہے، جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے۔ چنانچہ حج کی فرضیت کےلیے جب استطاعت کی بات کی جاتی ہے، تو اس سے مراد فرد کی استطاعت ہوتی ہے؛ اس کے برعکس جہاد کےلیے جب استطاعت کی بات ہوتی ہے، تو اس سے مراد پوری امت کی استطاعت ہوتی ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ وہ کیسے پوری قطعیت کے ساتھ یہ دو ٹوک فیصلہ کرسکتے ہیں کہ پوری امت مل کر بھی اسرائیل کو ظلم سے نہیں روکنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اور اس پر الگ سے تنقید کریں گے، ان شاء اللہ، لیکن اس وقت یہ بات واضح کرنی تھی کہ حج اور جہاد کے معاملے میں استطاعت کا فرق فرد کی استطاعت اور پوری امت کی استطاعت کا فرق ہے۔
سبب، شرط اور مانع کی اس بحث میں غامدی صاحب اور ان کے متبعین ایک اور اہم پہلو یہ نظر انداز کررہے ہیں۔ شریعت نے جن امور کو بعض دوسرے امور کےلیے سبب مقرر کیا ہے، ان میں بعض ایسے ہیں جو انسانوں کے افعال میں سے نہیں ہیں۔ مثلاً نماز کی فرضیت کا سبب وقت کا داخل ہونا ہے؛ روزوں کی فرضیت کا سبب رمضان کے مہینے کا شروع ہونا ہے؛ حج کی فرضیت کا سبب بیت اللہ کا وجود ہے۔ یہی معاملہ بعض شروط اور موانع کا بھی ہے۔ مثلاً زکوٰۃ کی فرضیت کےلیے ایک شرط یہ ہے کہ آدمی کے صاحبِ نصاب بننے کے بعد ایک (قمری) سال گزرے اور وہ بدستور صاحبِ نصاب رہے۔ آدمی نہ وقت کا پہیہ روک سکتا ہے، نہ اسے تیز کرسکتا ہے؛ اس لیے اس شرط کا پورا ہونا اپنے وقت پر ہی ہوگا اور انسان سے اس کے وجود میں لانے کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی معاملہ بعض موانع کا بھی ہے۔ مثلاً حیض نماز کی فرضیت یا روزوں کی ادائی کی راہ میں مانع ہے اور انسان سے اس کے وجود میں لانے یا نہ لانے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ تاہم اسباب، شروط اور موانع میں بعض ایسے ہیں جن کے وجود میں لانے یا نہ لانے کا مطالبہ انسان سے کیا جاسکتا ہے۔
اس مؤخر الذکر قسم میں بعض ایسے اسباب، شروط یا موانع بھی ہیں جن کے وجود میں لانے یا نہ لانے کا مطالبہ انسان سے کیا تو جاسکتا ہے، لیکن شریعت نے نہیں کیا۔ مثلاً زکوٰۃ کی فرضیت کا سبب نصاب کی ملکیت ہے۔ شریعت یہ حکم دے سکتی تھی کہ ہر مسلمان، یا مسلمانوں کی آبادی کا ایک خاص فی صدی حصہ، لازماً صاحبِ نصاب ہو، لیکن اس نے یہ حکم نہیں دیا۔ اسی طرح حج کی فرضیت کی ایک شرط بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہے۔ شریعت ہر مسلمان سے یہ مطالبہ کرسکتی تھی کہ وہ یہ استطاعت پیدا کرے، لیکن اس نے یہ مطالبہ نہیں کیا۔ موانع پر بھی غور کیجیے۔ کیا ادویات کے ذریعے حیض کو مؤخر نہیں کیا جاسکتا؟ خصوصاً حج یا عمرے کے وقت کئی دفعہ یہ سوال کیا جاتا ہے۔ ایسی ادویات یا تدابیر کا اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں، یا ان کےلیے کیا قیود و حدود ہیں، اس بحث میں جائے بغیر اس وقت صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ اس شرعی مانع کو دور کیا جاسکتا ہے، اور اسے دور کیا جائے، تو جس شرعی حکم کےلیے اسے مانع کی حیثیت حاصل تھی، وہ حکم اب نافذ ہوجائے گا۔ چنانچہ ایسی خاتون سے نماز کا بھی مطالبہ ہوگا اور اس کی جانب سے روزے،حج یا عمرے کی ادائی بھی درست ہوگی۔
اس اصول کا اطلاق جہاد کے مسئلے پر کیجیے۔ جہاد کی فرضیت کا سبب (بقولِ غامدی صاحب کے) ظلم و عدوان کا وجود ہے۔ یہ سبب انسانوں کے افعال میں سے ہے اور اس سبب کےلیے حکمِ تکلیفی حرمت کا ہے، یعنی ظلم و عدوان کا ارتکاب حرام ہے۔ انسانوں پر ظلم و عدوان سے اجتناب لازم ہے۔ تاہم اگر کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کے خلاف ظلم و عدوان کا ارتکاب کررہا ہے، جیسے اس وقت اسرائیل اہلِ غزہ کے خلاف کررہا ہے، تو اس گروہ، یعنی اسرائیل، کے خلاف جہاد (بمعنی قتال) کی فرضیت کا سبب وجود میں آگیا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں پر بحیثیتِ مجموعی، نہ کہ صرف اہلِ غزہ پر، جہاد (بمعنی قتال) فرض ہوگیا ہے۔ اب اگلا سوال شروط کا ہے جن میں ایک شرط استطاعت کی ہے، یعنی کیا پوری مسلمان امت اس کی استطاعت رکھتی ہے کہ وہ اسرائیل کو اس ظلم سے روکنے کےلیے مسلح جنگ کرے؟ اس سوال پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور فوراً ہی نفی میں جواب دینا محض جہالت ہے۔ تاہم ایک لمحے کےلیے فرض کیجیے کہ پوری امت میں مجموعی طور پر بھی اس کی استطاعت نہیں ہے، تو اگلا سوال یہ ہے کہ کیا اس استطاعت کا حصول شرعاً مطلوب ہے یا نہیں؟ سورۃ الانفال کی آیت پڑھیے:
وأعدّوا لھم ما استطعتم من قوۃٍ ومن رباط الخیل
(اور ان کے مقابلے میں جتنی تمھاری استطاعت ہو ہر طرح کی قوت تیار کرو، اور خصوصاً باندھے ہوئے گھوڑے)
یہاں استطاعت کے مطابق تیاری کا حکم دیا گیا ہے؛ اس لیے اس مسلح جنگ کی تیاری اور اس کےلیے ممکن حد تک قوت کا حصول شرعاً واجب ہے۔ چنانچہ اگر کسی کے خیال میں امت میں اس کی استطاعت نہیں ہے، تو وہ امت کو اس استطاعت کے حصول کا فریضہ یاد دلائے، بجاے اس کے کہ وہ عدمِ استطاعت کا عذر پیش کرکے لوگوں کو کہے کہ جہاد تو فرض ہی نہیں ہے!
اسی طرح مظلوموں کی مدد کی راہ میں ایک رکاوٹ یہ ہوسکتی ہے کہ مسلمانوں نے اس قوم کے ساتھ معاہدہ کیا ہو جس کے خلاف یہ مظلوم مدد مانگ رہے ہوں؛ لیکن ایسے بدترین ظلم کے بعد شرعاً ایسا معاہدہ اول تو باقی نہیں رہا، اور اگر باقی بھی ہو تو اسے پھینک دینا، یعنی اس کے خاتمے کا اعلان کرنا لازم ہے۔ پس شرعی حکم کے درست فہم کےلیے سبب، شرط اور مانع کی درست تفہیم اور ان کی درست ترتیب سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
ان تین فروق (سبب اور شرط کا فرق، فرض عین اور فرض کفایہ کا فرق اور سبب/شرط/مانع کے متعلق حکمِ تکلیفی کا فرق) کا نتیجہ یہ ہے کہ ظلم و عدوان کے سبب سے اسرائیل کے خلاف جہاد (بمعنی قتال) پوری امت کا اجتماعی فرض بن چکا ہے؛ اگر اس فریضے کی ادائی کےلیے امت میں استطاعت نہیں ہے، تو اس استطاعت کا حصول بھی پوری امت پر فرض ہے؛ اور اگر اس فریضے کی راہ میں کوئی معاہدہ مانع ہے، تو اس مانع کا ہٹانا بھی پوری امت پر فرض ہے۔

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…