غامدی صاحب کی انتہاپسندی

Published On July 26, 2024
لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

لفظ تبیین میں “ترمیم و تبدیلی” کا مفہوم شامل ہے: قرآن سے دو شہادتیں

ڈاکٹر زاہد مغل ایک تحریر میں قرآن مجید کے متعدد نظائر سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قرآن کے محاورے کی رو سے نسخ، اضافہ، تخصیص و تقیید وغیرہ تبیین کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے لئے ہم نے قرآن مجید میں مذکور احکام سے استشہاد کیا تھا۔ یہاں ہم دو مثالوں سے یہ واضح کرتے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

مولانا واصل واسطی دوسری بات اس حوالے سے یہ ہے کہ جناب غامدی نے لکھاہے کہ ،، لہذا یہ بات عام طور پر مانی جاتی ہے کہ ان کی کوئی تعداد متعین نہیں کی جاسکتی  بلکہ ہر وہ قراءتِ قران جس کی سند صحیح ہو ، جومصاحفِ عثمانی سے احتمالا ہی سہی موافقت رکھتی ہو ، اور کسی نہ کسی پہلو...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 32)

مولانا واصل واسطی قراءآتِ متواترہ پراعتراضات کے سلسلے کا اخری ٹکڑا یہ ہے جس میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، ان کی ابتدا ہوسکتا ہے کہ عرضہِ اخیرہ سے پہلے کی قراءآت پر بعض لوگوں کا اصرار اور ان کے راویوں کے سہو ونسیان سے ہوئی ہو  لیکن بعد میں انہی محرکات کے تحت جووضعِ...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 31)

مولانا واصل واسطی تیسری گذارش اس آخری اعتراض کے سلسلے میں یہ ہے کہ ،، لیث بن سعد ،،  کے جس خط کا حوالہ جناب غامدی نے دیا ہے  اس سے پہلے دوفقروں میں اس کا نتیجہ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ ،، اس کے ساتھ اگر ان کے وہ خصائص بھی پیشِ نظر رہیں جوامام لیث...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 30)

مولانا واصل واسطی چوتھے اعتراض میں جناب غامدی لکھتے ہیں کہ ،، یہی معاملہ ان روایتوں کا بھی ہے جو سیدنا صدیق اور ان کے بعد سیدنا عثمان کے دور میں قرآن کی جمع وتدوین سے متعلق حدیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ قران  جیسا کہ اس بحث کی ابتداء میں بیان ہوا ، اس معاملے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 33)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 29)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی مسئلہِ قراءآت پر چوتھا اعتراض یوں کرتے ہیں "کہ اس میں بعض دیگر چیزیں بھی ملاکر خوب زہرآلود جام بناکرعوام کے سامنے پلانے کےلیے رکھ دیتے ہیں ، ملاحظہ ہو ،، چہارم یہ کہ ہشام کے بارے میں معلوم ہے کہ فتحِ مکہ کے دن ایمان لائے تھے  لہذااس روایت...

 محمد عبدالاکرم سہیل

محترم جاوید احمد غامدی علم دین کے اعتبار سے دنیا کی ایک قابل قدر شخصیت ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں فرقہ بندی کو مٹانے کیلئے آپ نے جس کار تجدید کا کام انجام دیا ہے اور دین پر بات کرنے کاجو ڈھنگ آپ نے سکھایا ہے وہ نہایت ہی قابل تعریف ہے اور شاید پورے پاک و ہندمیں آپکا کوئی ثانی نہیں لہذا آپ پر تنقید گویا مجھ جیسے طالب علم کو زیب نہیں دیتا لیکن میرے کچھ اشکالات ہیں جو میں نذر قارئین کرتا ہوں۔
ایک طرف توداعش،القاعدہ اور طالبان وغیرہ جیسی تنظیمیں ہیں جو اسلامی حکومت کے نام پر ظلم و فساد کرکے انتہاپسندی پر ہیں تو دوسری طرف غامدی صاحب ہیں جو دین کا مخاطب صرف فرد کو بتلاکر،دین کا مقصد آخرت میں نجات اور اسے موت کا مسئلہ بتاکر انتہاپسندی کے دوسرے سرے کو تھامے ہوئے ہے اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ غامدی صاحب جیسے اہل علم ان تنظیموں کی انتہاپسندی کا سبب اسلامی حکومت اور اقامت دین کے نظریے کو بتاتے ہیں۔ لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اگر کوئی نصب العین کو حاصل کرنے کے لیے غلط طریقے کو اپناتا ہے تو اس کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ یہی انتہاپسندی کا سبب ہے یہ کہاں کا انصاف ہے اسکی مثال تو بالکل ایسی ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص چوری کرکے صدقہ وخیرات کرتا ہے تو اسے دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ خیرات و صدقات کے نظریہ نے ہی چوری کو جنم دیا ہے تو یہ بالکل غیر مناسب بات ہوگی۔
اب جہاں تک دین کا مخاطب فرد کی بات ہے ،تو دین کے احکامات خود اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ فرد سے بڑھ کر اجتماع سے متعلق بھی ہوں۔حرمت سود، چور کا ہاتھ کاٹنے، زانی کو کوڑے مارنے اور قاتل سے قصاص لینے کے احکام خود یہ بتا رہے ہیں کہ دین صرف افراد سے نہیں، بلکہ ان کی اجتماعیت سے بھی متعلق ہوتا ہے۔ پھر دین کے بارے میں یہ تصور کہ وہ صرف جہنم کی آگ سے بچاتا ہے بالکل ایک ادھورا تصور ہے اور انسان کی یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگروہ دین کو صرف آخرت کی زندگی میں کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہو کیونکہ انسان روح اور جسم دونوں کا مجموعہ ہے اور اس کی زندگی دنیا و آخرت دونوں میں پھیلی ہوئی ہے لہذا اگر اسے کوئی ایسا مذہب دیا جاتا جو اسکی روح اور آخرت کی زندگی کے لئے تو کامیابی کا باعث بنتا مگر اس کے جسم اور اسکی دنیاوی زندگی کو کوئی فائدہ نہ پہنچاتا تو وہ دین اس کے لئے ایک نامکمل چیز رہ جاتی اور بقول مولانا مودودی یہ سینٹ پال کے ‘دین بلا شریعت’ والے نظریہ کی بات ہوجاتی۔
جب غامدی صاحب سے دین کے سیاسی اقتدار کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہے کہ ہم لوگ معاشرے سے زیادہ ریاست کو دین دار بنانا چاہتے ہیںپھر وہ بتلاتے ہیں کہ معاشرہ میں جتنا دین ہوگا تو اسکا ظہور آپ سے آپ ریاست میں بھی ہوجائے گا اسکے لئے کوئی ہدف بناکر کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بات تو صد فیصد درست ہے کہ معاشرہ جتنا اسلامی ہوگا اتنے ہی معاشی اور سیاسی اقتدار کی جڑیں مضبوط رہیں گی لیکن یہ کہنا کہ اقتدار میں آپ سے آپ اسلام کا ظہور ہوگا یہ بات تو بالکل ہی ناممکن ہے ۔اسلئے کہ اقتدار ایک طاقت کا نام ہے اور طاقت آپ سے آپ حاصل نہیں ہوتی بلکہ اسے جدوجہد اور ہدف بناکر حاصل کرناپڑتا ہے اگر وہ آپ سے آپ حاصل ہوجائے پھر تو وہ اپنے معنی میں کوئی طاقت ہی نہیں رہی اور جہاں تک دین کے احکامات کا تعلق ہے تو وہ بغیر سیاسی اقتدار حاصل کئے ممکن ہی نہیں اور دین میں احکامات کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی ایمان و عقیدہ کی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے جہاں ایمان و عقیدہ کی خرابی کو جہنم کا راستہ بتلایا ہے تو وہیں احکامات و قوانین کو توڑنے پر دنیا و آخرت کی تباہی کی وعیدیں سنائی ہے ۔ قرآن مجید کی اس آیت نے پرغور کرنے کی ضرورت ہے، ” پس اے محمدؐ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق اِن لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اْس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے”سورہ المائدہ (5:50 )

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.