غامدی صاحب کے تصورِ زکوٰۃ کے اندرونی تضادات

Published On May 23, 2025
فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

فلسطین ، غامدی صاحب اورانکے شاگردِ رشید

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد   دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بندِ قبا دیکھ!۔ فلسطین کے مسئلے پر غامدی صاحب اور ان کے داماد جناب حسن الیاس نے جس طرح کا مؤقف اختیار کیا ہے، اس نے بہت سے لوگوں کو حیرت کے ساتھ دکھ میں مبتلا کیا ہے، غزہ میں ہونے والی بدترین نسل کشی پر پوری دنیا مذمت...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

حسان بن علی جیسا کہ عرض کیا کہ غامدی صاحب احکام میں حدیث کی استقلالی حجیت کے قائل نہیں جیسا کہ وہ لکھتے ہیں "یہ چیز حدیث کے دائرے میں ہی نہیں آتی کہ وہ دین میں کسی نئے حکم کا ماخذ بن سکے" (ميزان) جیسے سود دینے والے کی مذمت میں اگرچہ حدیث صراحتا بیان ہوئی ليكن غامدی...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (2)

حسان بن علی اور یہ واضح رہے کہ انکارِ حجیتِ حدیث کے حوالے سے غلام احمد پرویز، اسی طرح عبداللہ چکڑالوی کا درجہ ایک سا ہے کہ وہ اسے کسی طور دین میں حجت ماننے کے لیے تیار نہیں (غلام احمد پرویز حديث کو صرف سیرت کی باب میں قبول کرتے ہیں، دیکھیے کتاب مقام حدیث) اور اس سے کم...

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

تصورِ حدیث اور غامدی صاحب کے اسلاف (1)

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ماضی کی ایک اور شخصیت غلام قادیانی، حدیث کے مقام کے تعین میں لکھتے ہیں : "مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدایتوں پر قائم ہونے کے لیے تین چیزیں ہیں. ١) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جسے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ...

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف (3)

تصور حديث اور غامدی صاحب کے اسلاف

حسان بن علی غامدی صاحب کے اسلاف میں ايک اور شخصیت، معروف بطور منکرِ حجيتِ حدیث، اسلم جيراجپوری صاحب، حقیقت حدیث بیان کرتے ہوئے اختتامیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں "قرآن دین کی مستقل کتاب ہے اور اجتماعی اور انفرادی ہر لحاظ سے ہدایت کے لیے کافی ہے وہ انسانی عقل کے سامنے ہر...

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

بخاری، تاریخ کی کتاب اور دین: غامدی صاحب کے اصولوں کی رو سے

ڈاکٹر زاہد مغل حدیث کی کتاب کو جس معنی میں تاریخ کی کتاب کہا گیا کہ اس میں آپﷺ کے اقوال و افعال اور ان کے دور کے بعض احوال کا بیان ہے، تو اس معنی میں قرآن بھی تاریخ کی کتاب ہے کہ اس میں انبیا کے قصص کا بیان ہے (جیسا کہ ارشاد ہوا: وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بعض دوستوں نے زکوٰۃ کے متعلق جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی آرا کے بارے میں کچھ سوالات کیے ہیں، جن پر وقتاً فوقتاً گفتگو ہوتی رہے گی۔ سرِ دست دو سوالات کا جائزہ لے لیتے ہیں۔
کیا زکوٰۃ ٹیکس ہے؟ اپنی کتاب “میزان” کے 2001ء کے ایڈیشن میں “قانونِ معیشت” کے باب میں غامدی صاحب فرماتے ہیں: “مسلمان یہ زکوٰۃ ادا کردیں تو ان کا وہ مال جس کے وہ جائز طریقوں سے مالک ہوئے ہیں، اللہ و رسول کی طرف سے مقرر کسی حق کے بغیر ان سے چھینا نہیں جاسکتا، یہاں تک کہ اسلامی ریاست اس زکوٰۃ کے علاوہ اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کرسکتی۔”(ص 134) 2018ء کے ایڈیشن میں قانونِ معیشت کی دفعات میں بھی یہ دفعہ نہیں پائی جاتی، البتہ “قانونِ سیاست” کے ضمن میں دینی فرائض میں یہ دفعہ، ذرا سی ترمیم کے ساتھ، موجود ہے: “اسی طرح زکوٰۃ کے بارے میں یہ سنت قائم کی ہے کہ یہی تنہا ٹیکس ہے جو مسلمانوں پر عائد کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ریاست کے مسلمان شہریوں میں سے ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو، اپنے مال، مواشی اور پیداوار میں مقررہ حصہ اپنے سرمایے سے الگ کرکے لازماً حکومت کے حوالے کردے گا اور حکومت دوسرے مصارف کے ساتھ اس سے اپنے حاجت مند شہریوں کی ضرورتیں، ان کی فریاد سے پہلے، ان کے دروازے پر پہنچ کر پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔”(ص 491) ترمیم کی بات درج ذیل عبارت سے مزید واضح ہوجاتی ہے: ” زکوٰۃ کے علاوہ، جس کی شرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کی وساطت سے مختلف اموال میں مقرر کردی ہے، وہ نہ مسلمانوں پر ان کی رضامندی کے بغیر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس عائد کرسکتے ہیں، نہ ایک مٹھی بھر گندم، ایک پیسا، ایک حبہ ان کے اموال میں سے، کسی بھی مد میں بالجبر لینے کی جسارت کرسکتے ہیں۔” (ص 494)
بہ الفاظِ دیگر، ممانعت صرف “مسلمانوں پر ان کی رضامندی کے بغیر ” ٹیکس عائد کرنے پر ہے۔ اگر مسلمانوں کے منتخب نمائندے قانون سازی کے ذریعے ٹیکس لگائیں، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اب کہاں وہ بات کہ ” اسلامی ریاست اس زکوٰۃ کے علاوہ اپنے مسلمان شہریوں پر کسی نوعیت کا کوئی ٹیکس بھی عائد نہیں کرسکتی”، اور کہاں یہ گنجائش کہ مسلمانوں کی رضامندی سے ان پر مزید ٹیکس لگائے جاسکتے ہیں! مزید وضاحت کے لیے “اشراق” کی پرانی فائلیں یا غامدی صاحب کا رسالہ “پس چہ باید کرد” اور اس کی شرح میں معز امجد صاحب کی توضیحات پڑھ لیں، یا مختصر لیکن دو ٹوک موقف کے لیے جناب ڈاکٹر محمد فاروق خان صاحب کی کتاب “اسلام کیا ہے؟” ملاحظہ کرلیں۔ اس وقت غامدی صاحب کا موقف یہ تھا کہ اگر حکومت کو کسی ایمرجنسی میں مزید رقم کی ضرورت ہو، تو وہ شہریوں سے ایمرجنسی فنڈ کے لیے چندے کی اپیل تو کرسکتی ہے لیکن ٹیکس نہیں لگاسکتی!
زکوٰۃ کو قانونِ معیشت سے نکال کر اور قانونِ عبادات میں ڈال کر بھی غامدی صاحب نے شاید غور نہیں کیا کہ اس عبادت کو حکومت کے حق کے ساتھ منسلک کرکے اور اسے ٹیکس قرار دے کر وہ ایک جانب حکومت کی جانب سے ٹیکس کی وصولی کو ایک قسم کا مذہبی تقدس فراہم کررہے ہیں اور دوسری طرف زکوٰۃ کے عبادت ہونے کے پہلو کو مسخ بھی کررہے ہیں، حالانکہ خود انھوں نے 2018ء کے ایڈیشن میں بھی “زکوٰۃ کی تاریخ” کا عنوان قائم کرکے زکوٰۃ اور صلوۃ کے تعلق اور انبیاے کرام کی تعلیمات میں ان کی حیثیت پر بحث کی ہے۔ حکومت کو مذہبی تقدس فراہم کرنے کی بات غلام احمد پرویزؔ صاحب کے نظامِ فکر میں قابلِ فہم ہے کیونکہ وہ تو حکومت کو “اللہ و رسول” اور “مرکزِ ملت”کی حیثیت دینے کے قائل تھے، لیکن غامدی صاحب کے “پوسٹ اسلامزم” میں اس کی گنجائش کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟
چنانچہ اگلا سوال یہ ہے کہ غامدی صاحب کس تصورِ ریاست کے قائل ہیں؟ کہیں وہ ریاست کی ہمہ گیریت کی بات کرتے نظر آتے ہیں، تو کہیں اسے محض بہ امرِ مجبوری قبول کرتے نظر آتے ہیں اور کہیں وہ ریاست کو فرد کی نیابت کرتے، اس کی مدد کرتے اور اس کی سرپرستی کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ امور ان کے ارتقائی سفر کے مختلف مراحل کی صورت میں ہوتے، تو کم از کم اس پہلو سے میں اعتراض نہ کرتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب بھی “میزان” کے مختلف ابواب میں وہ ریاست کے ان مختلف تصورات کے قائل نظر آتے ہیں۔ اس لیے بات تضاد کی طرف چلی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر 2001ء کے ایڈیشن میں وہ قصاص کے معاملے میں مقتول کے ورثا کو اصل فریق قرار دیتے ہیں اور ریاست کو صرف نگران اور مددگار کی حیثیت دیتے ہیں: “قتل کی اس صورت میں اسلام کا قانون یہ ہے کہ اس میں اصل مدعی حکومت نہیں، بلکہ مقتول کے اولیا ہیں۔”(ص 292) تاہم 2018ء کے ایڈیشن میں ریاست ہی اصل فریق بن چکی ہے: “اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ حکومت اگر کسی جگہ قائم نہ ہو اور قصاص کا معاملہ مقتول کے اولیا ہی سے متعلق ہوجائے، تو وہ اپنی حدود سے تجاوز کریں۔۔۔” (ص 621) یعنی پہلے موقف یہ تھا کہ اصل فریق مقتول کے ورثا ہیں لیکن اب مقتول کے ورثا ثانوی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور ان کی بات صرف وہاں ہوتی ہے جہاں مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت نہ ہو!
ایک اور مثال جرمانے کی سزا کی ہے جس پر غامدی صاحب نے الگ سے کہیں بحث نہیں کی ہے لیکن ایک مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کے جواز کے قائل ہیں: “قید، تازیانہ، جرمانہ، ان سب سزاؤں میں دو باتیں پیشِ نظر ہوتی ہیں: ایک معاشرے کی عبرت، دوسرے آیندہ کے لیے مجرم کی تادیب و تنبیہ۔” (ص 616) اب سوال یہ ہے کہ اگر 2001ء میں وہ اس کے قائل تھے کہ حکومت مسلمان شہریوں سے زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس وصول نہیں کرسکتی، تو وہ اس کے قائل کیسے ہوگئے تھے کہ حکومت کسی مسلمان شہری پر جرمانہ عائد کرسکتی ہے؟ ٹیکس اور جرمانے کے تعلق کی طرف ان کی توجہ کیوں نہیں گئی؟ ٹیکس اور جرمانے کے درمیان کئی فروق ہوں گے لیکن جس امر مشترک کی طرف یہاں توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کو ریاست کا حق سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے ان دونوں کی ادائیگی ریاست کو کی جاتی ہے۔ (اور ہاں، یہ دونوں ریاست کے ہاتھ میں عوام کے استحصال کے اہم آلات ہیں۔)
واضح رہے کہ یہاں دیت یا ارش کی مثال دینی غلط ہے کیونکہ دیت مقتول کے ورثا اور ارش مجروح کا حق ہے اور ان کی حیثیت ایک طرح سے تلافی کی ہے، جبکہ جرمانے اور ٹیکس کو ریاست کا حق سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے ان کی ادائیگی ریاست کو ہی کی جاتی ہے۔ کون سا حکم کس کے حق کے ساتھ متعلق ہے؟ یہ اس ساری بحث کا مرکزی سوال ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسی مرکزی سوال پر غامدی صاحب کوالجھنیں لاحق ہیں جس کی بنا پر ان کا پورا تصورِ زکوٰۃ ہی اندرونی تضادات کا شکار ہوگیا ہے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

غامدی صاحب کی قرآن فہمی- قسط دوم

غامدی صاحب کی قرآن فہمی- قسط دوم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

غامدی صاحب کی قرآن فہمی- قسط اول

غامدی صاحب کی قرآن فہمی- قسط اول

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE

تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط چہارم

تفسیر کے لئے بنیادی شرط اور غامدی صاحب – قسط چہارم

جاوید احمد غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک کتابچہ “مبادی تدبر قرآن” لکھا ہے ۔ جس میں انہوں نے دعوی کیا کہ قرآن جن و انس کی ہدایت کے لئے اترا ہے اسلئے ا س میں اتنے تکلفات کی ضرورت نہیں کہ اسے سمجھنے کے لئے صرف ، نحو ، شانِ نزول وغیرہ کا علم حاصل کیا جائے بلکہ قرآن اپنا فہم بنا ان علوم کی تحصیل کے خود دیتا ہے ۔
ایک دعوی انہوں نے یہ بھی کیا کہ آج تک جتنے مفسرین نے تفسیریں لکھیں ہیں وہ سب اپنے مسلک کی نمائندگی کے لئے لکھی ہیں جن میں اصلا قرآن کی تفسیر بہت کم ہے ۔
انکی پہلی بات تمام امت کے متفقہ طریقے کے خلاف ہے ۔ قرآن اگرچہ حلال و حرام جاننے کے لئے آسان ہے کیونکہ وہ بالکل واضح ہے لیکن قرآن کی ہر آیت کی تفسیر کا یہ حال نہیں ہے اسی وجہ سے حضرت ابوبکر قرآن کی بابت اپنی رائے دینے سے ڈرتے تھے ۔
دوسری بات میں انہوں نے امت کے تمام مفسرین پر نعوذ باللہ بہتان باندھا ہے ۔
https://youtu.be/z1W6pzbSn2Q?si=rHNh5f8iTA5aOtCE