کیا قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا نہیں ہے؟

Published On May 23, 2025
سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

سنت کے تصور پر غامدی صاحب کی پر تکلف دلیل و تاویل پر تبصرہ

ڈاکٹر زاہد مغل غامدی صاحب کا کہنا ہے کہ سنت قرآن سے مستقل اعمال ہیں جو آپﷺ نے دین ابراہیمی کی روایت کی اتباع میں جاری فرمائے۔ بغور جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سنت و غیر سنت کا آخری پیمانہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جو عمل تواتر سے پہنچا وہ سنت اور دوسرا قرآن کی وہ تبیین...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی   ۔(6) غامدی کے ہاں معروف اصول تفسیر اور جمہور کے مسلمہ عقائد سے انحراف عام ہے۔ طرہ یہ کہ اپنی آرا کے لیے وہ کوئی سند یا دلیل نہیں پیش کرتے ، صرف اپنا قول فیصل صادر کر دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں سورۃ الاحزاب، آیات ۳۲ تا ۳۵ میں مذکور احکام...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 3

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی تصنیف کے آغاز میں غامدی کا چند سطری دیباچہ ہے تعلی کے اس بلند و بانگ اعلان کے طور پر: " تراجم کی تاریخ کے لحاظ سے یہ پہلا ترجمہ قرآن ہے جس میں قرآن کا نظم اس کے ترجمے ہی سے واضح ہو جاتا ہے۔ وہ اولیت کے اس خود ساختہ مقام پر ہے۔ مجھے وہ ساختہ...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 2

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل غامدی کی اردو تفسیر البیان ۲۰۱۰ء میں طبع ہوئی، جو ہزاروں مبسوط تفسیری حواشی سے مزین ہے، بد قسمتی سے جن میں سے زیادہ تر مذموم تفسیر بالرائے کے آئینہ دار ہیں۔ اس کا ثبوت رڈ غامدیت پر مشتمل متعدد کتب اور مقالات ہیں۔ میرے...

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ 4

جناب جاوید غامدی کا انگریزی ترجمہ قرآن : تجزیہ و محاکمہ

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی جناب جاوید احمد غامدی اپنے بعض مخصوص افکار کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہیں۔ البیان کے نام سے انھوں نے اردو میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور تفسیر لکھی ہے۔ اس اردو ترجمہ قرآن کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر شہزاد سلیم نے کیا ہے، ساتھ ہی البیان کے...

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

(7) عید الاضحی کی قربانی سے پہلے اور اسکے بعد کے مراسمِ عبودیت

محمد عامر گردز اس مسئلے میں غامدی صاحب کے تصور کے مطابق ام سلمہ اور ابن عمر و نی جگہ سے مروی دونوں روایتیں اگر قبول کرلی جائیں تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پہلے حدیث ام سلمہ نے قربانی کی شریعت پر مسلمانوں کے لیے دس روزہ دو پابندیوں کا اضافہ کیا اور پھر ایک دیہاتی آدمی...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب اتنی قطعیت کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ سامنے والے نے اگر کچھ پڑھا نہ ہو (اور بالعموم ان کے سامنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں)، تو وہ فورا ہی یقین کرلیتے ہیں، بلکہ ایمان لے آتے ہیں، کہ ایسا ہی ہے۔ اب مثلا ایک صاحب نے ان کی یہ بات پورے یقین کے ساتھ دہرائی کہ قرآن میں توہین کی سزا نہیں ہے، لیکن تھوڑی بحث کے بعد خود ہی مان لیا کہ بارہ سال سے تو میں نے قرآن پڑھا ہی نہیں، بچپن میں ناظرہ پڑھا تھا! ایسوں سے کیا بحث کی جائے، لیکن ایسوں کے استاذ امام کی غلطی واضح کرنے کےلیے تین سال قبل جو لکھا تھا، وہ مکرر پیشِ خدمت ہے:
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو یہ نوٹ کریں کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ قرآن کریم کو سنت کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے صحیح سوال یہ نہیں کہ قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا کیا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت نے توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے؟ اگر ہاں تو اس پر قرآن و سنت نے کیا سزا مقرر کی ہے؟
ان دو سوالات کے جوابات ڈھونڈنے سے پہلے یہ نوٹ کریں کہ قرآن و سنت میں بعض اوقات جرائم کی سزا مقرر ہوتی ہے اور بعض اوقات کسی فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے بعد اس کےلیے سزا مقرر کرنے کا اختیار مسلمانوں کی حکومت کو دیا جاتا ہے۔ اول الذکر کی مثال میں قصاص اور حدود کی سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے اور ثانی الذکر میں ان سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے جنھیں فقہاے کرام تعریر اور سیاسہ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔
اب جہاں تک توہینِ رسالت کے فعل کا تعلق ہے اس میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ قرآن و سنت کی رو سے یہ قابلِ سزا جرم ہے۔ کئی آیات اور احادیث اس ضمن میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان میں وہ آیات اور احادیث بھی شامل ہیں جو ارتداد کے متعلق ہیں کیونکہ توہینِ رسالت کا جرم یقیناً کفر ہے اور مسلمان کی جانب سے کفر کے ارتکاب پر ارتداد کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کی جانب سے توہینِ رسالت کی کوئی ایسی صورت فرض کرنی ممکن ہی نہیں جو ارتداد نہ ہو۔ البتہ غیرمسلم کی جانب سے توہینِ رسالت کا فعل ارتداد نہیں کہلا سکتا اگرچہ یہ اس کے کفر میں مزید اضافہ ہے۔
اتنی بات واضح ہوگئی ہے تو سزا کے تعین کا مسئلہ آسان ہوگیا۔
اگر مسلمان کی جانب سے اس فعل شنیع کا ارتکاب ہو تو قرآن و سنت نے ارتداد کی جو سزا مقرر کی ہے ، وہی سزا اس شخص کو دی جائے گی۔
اگر غیرمسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا تو قرآن و سنت نے اس کےلیے مناسب سزا کے تعین کا کام حکمران اور قاضی پر چھوڑا ہے۔
یہ اس صورت کا حکم ہے جب اس جرم کا ارتکاب انفرادی سطح پر ہو۔
اگر اس جرم کا ارتکاب کسی منظم جتھے کی جانب سے اجتماعی طور پر ہو، یا اس فعل کو کسی منظم جتھے کی جانب سے تائید اور تحفظ حاصل ہو ، تو اس صورت میں یہ جنگی اقدام ہے جس کے لیے قرآن و سنت نے قتال کا حکم دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
اگر اس کے جواب میں غامدی صاحب کا حلقہ یہ کہنے لگے کہ ارتداد کی سزا تو رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے ان کے براہِ راست مخاطبین کو ہی دی جاسکتی ہے، تو ان سے کہیے کہ آپ کے اس غلط مفروضے کی دھجیاں ہم پہلے بکھیر چکے ہیں۔ یہاں اس پر بحث اس لیے غیر ضروری ہے کہ اس صورت میں آپ کا دعوی یہ ہونا چاہیے کہ توہینِ رسالت/ارتداد کی سزا تو قرآن میں ہے لیکن صرف رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد ان کے براہِ راست مخاطبین کےلیے، لیکن آپ تو عوام الناس کو مغالطے میں ڈالنے کےلیے سرے سے سزا کا ہی انکار کررہے ہیں۔ تلبیس کی بدترین صورت دیکھنی ہو، تو یہ دیکھیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…