کیا قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا نہیں ہے؟

Published On May 23, 2025
غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

غامدی اور خضریاسین: تفسیر وتفہیم کے معاملے پر میرا نقطہ نظر

گل رحمان ہمدرد غامدی صاحب نے مقامات میں دبستانِ شبلی کے بارے بتایا ہے کہ اس کے دو اساسی اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ دین کی حقیقت جاننے کےلیۓ ہمیں پیچھے کی طرف جانا ہوگا ”یہاں تک کہ اُس دور میں پہنچ جاٸیں جب قرآن اتر رہا تھا اور جب خدا کا آخری پیغمبر خود انسانوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

مولانا واصل واسطی ہم نے اوپر جناب غامدی کی ایک عبارت پیش کی ہے کہ ،، چنانچہ دین کی حیثیت سے اس دائرے سے باہر کی کوئی چیز نہ حدیث ہوسکتی ہے اور نہ محض حدیث کی بنیاد پر اسے قبول کیاجاسکتاہے (میزان ص15) میں نے کہیں جناب غامدی کا اپنا قول غالبا،، اشراق ،، کے کسی شمارے میں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 4)

مولانا واصل واسطی جناب غامدی صاحب آگے اس سلسلہ میں رقم طراز ہیں کہ  " دین لاریب انھی دوصورتوں میں ہے ۔ان کے علاوہ کوئی چیز دین ہے نہ اسے دین قرار دیا جاسکتاہے ( میزان ص15)" ہم عرض کرتے ہیں کہ جناب غامدی نے دین کو بہت مختصر کر دیا ہے  کیونکہ جن 25 سنن کو انھوں...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 3)

مولانا واصل واسطی گذشتہ بحث سے معلوم ہوا کہ جناب غامدی نے ،، سنت ،، کی صرف الگ اصطلاح ہی نہیں بنائی ، بلکہ اس میں ایسے تصرفات بھی کیے ہیں جن کی بنا پر وہ بالکل الگ چیز بن گئی ہے ۔ دیکھئے کہ فقھاء اوراصولیین کی ایک جماعت نے بھی ،، حدیث ،، اور ،، سنت ،، میں فرق کیا ہے ۔...

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب  کے موقف کا تنقیدی جائزہ

ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت پر غامدی صاحب کے موقف کا تنقیدی جائزہ

وقار اکبر چیمہ   تعارف دینِ اسلام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے انسان کو عطاء کئے گئے مال میں سے صرف ایک تہائی پر اسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اس کی وصیت جس کو چاہے کر سکتا ہے۔ جبکہ باقی مال اس کی موت کے بعد اسی وراثت کے قانون کے تحت تقسیم کیا جائے گا جسے اللہ نے...

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 5)

غامدی منہج پر علمیاتی نقد ( قسط نمبر 2)

مولانا واصل واسطی ہم نے پہلی پوسٹ میں لکھاہے کہ جناب غامدی کلی طور پرمنکرِحدیث ہیں ، کہ وہ حدیث کو سرے سے ماخذِدین اور مصدرِشریعت نہیں مانتے ، انہوں نے اپنی فکرکی ترویج کے لیے جن اصطلاحات کو وضع کیاہے ان میں سے ایک اصطلاح  ،، سنت ،، کی بھی ہے ، عام علماء کرام ،، حدیث...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب اتنی قطعیت کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ سامنے والے نے اگر کچھ پڑھا نہ ہو (اور بالعموم ان کے سامنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں)، تو وہ فورا ہی یقین کرلیتے ہیں، بلکہ ایمان لے آتے ہیں، کہ ایسا ہی ہے۔ اب مثلا ایک صاحب نے ان کی یہ بات پورے یقین کے ساتھ دہرائی کہ قرآن میں توہین کی سزا نہیں ہے، لیکن تھوڑی بحث کے بعد خود ہی مان لیا کہ بارہ سال سے تو میں نے قرآن پڑھا ہی نہیں، بچپن میں ناظرہ پڑھا تھا! ایسوں سے کیا بحث کی جائے، لیکن ایسوں کے استاذ امام کی غلطی واضح کرنے کےلیے تین سال قبل جو لکھا تھا، وہ مکرر پیشِ خدمت ہے:
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو یہ نوٹ کریں کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ قرآن کریم کو سنت کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے صحیح سوال یہ نہیں کہ قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا کیا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت نے توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے؟ اگر ہاں تو اس پر قرآن و سنت نے کیا سزا مقرر کی ہے؟
ان دو سوالات کے جوابات ڈھونڈنے سے پہلے یہ نوٹ کریں کہ قرآن و سنت میں بعض اوقات جرائم کی سزا مقرر ہوتی ہے اور بعض اوقات کسی فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے بعد اس کےلیے سزا مقرر کرنے کا اختیار مسلمانوں کی حکومت کو دیا جاتا ہے۔ اول الذکر کی مثال میں قصاص اور حدود کی سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے اور ثانی الذکر میں ان سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے جنھیں فقہاے کرام تعریر اور سیاسہ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔
اب جہاں تک توہینِ رسالت کے فعل کا تعلق ہے اس میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ قرآن و سنت کی رو سے یہ قابلِ سزا جرم ہے۔ کئی آیات اور احادیث اس ضمن میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان میں وہ آیات اور احادیث بھی شامل ہیں جو ارتداد کے متعلق ہیں کیونکہ توہینِ رسالت کا جرم یقیناً کفر ہے اور مسلمان کی جانب سے کفر کے ارتکاب پر ارتداد کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کی جانب سے توہینِ رسالت کی کوئی ایسی صورت فرض کرنی ممکن ہی نہیں جو ارتداد نہ ہو۔ البتہ غیرمسلم کی جانب سے توہینِ رسالت کا فعل ارتداد نہیں کہلا سکتا اگرچہ یہ اس کے کفر میں مزید اضافہ ہے۔
اتنی بات واضح ہوگئی ہے تو سزا کے تعین کا مسئلہ آسان ہوگیا۔
اگر مسلمان کی جانب سے اس فعل شنیع کا ارتکاب ہو تو قرآن و سنت نے ارتداد کی جو سزا مقرر کی ہے ، وہی سزا اس شخص کو دی جائے گی۔
اگر غیرمسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا تو قرآن و سنت نے اس کےلیے مناسب سزا کے تعین کا کام حکمران اور قاضی پر چھوڑا ہے۔
یہ اس صورت کا حکم ہے جب اس جرم کا ارتکاب انفرادی سطح پر ہو۔
اگر اس جرم کا ارتکاب کسی منظم جتھے کی جانب سے اجتماعی طور پر ہو، یا اس فعل کو کسی منظم جتھے کی جانب سے تائید اور تحفظ حاصل ہو ، تو اس صورت میں یہ جنگی اقدام ہے جس کے لیے قرآن و سنت نے قتال کا حکم دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
اگر اس کے جواب میں غامدی صاحب کا حلقہ یہ کہنے لگے کہ ارتداد کی سزا تو رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے ان کے براہِ راست مخاطبین کو ہی دی جاسکتی ہے، تو ان سے کہیے کہ آپ کے اس غلط مفروضے کی دھجیاں ہم پہلے بکھیر چکے ہیں۔ یہاں اس پر بحث اس لیے غیر ضروری ہے کہ اس صورت میں آپ کا دعوی یہ ہونا چاہیے کہ توہینِ رسالت/ارتداد کی سزا تو قرآن میں ہے لیکن صرف رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد ان کے براہِ راست مخاطبین کےلیے، لیکن آپ تو عوام الناس کو مغالطے میں ڈالنے کےلیے سرے سے سزا کا ہی انکار کررہے ہیں۔ تلبیس کی بدترین صورت دیکھنی ہو، تو یہ دیکھیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…