کیا قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا نہیں ہے؟

Published On May 23, 2025
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

امام غزالی کا تصورِ کشف اور غامدی صاحب کا طریقہ واردارت

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غامدی صاحب نے تصوف کے خلاف اپنی ظاہر پرستی پر مبنی مضمون میں متفرق علماء اور صوفیاء کی الگ تھلگ عبارات کو پیش کرکے یہ منظر کشی کرنے کی کوشش کی ہے کہ "یہ سب لوگ" نبوت کے بعد نبوت کے قائل ہوگئے تھے۔ سرِدست مجھے ان سب حوالوں کا...

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

تصورِ بیان (اصولیین بمقابلہ مکتبِ فراہی)

ڈاکٹر زاہد مغل مولانا اصلاحی صاحب کتاب “مبادی تدبر حدیث” میں فرماتے  ہیں سنت قرآن کی تفسیر، تعریف اور تبیین کرتی ہے، یہ سوال بالکل خارج از بحث ہے کہ کوئی حدیث یا سنت قرآن کی ناسخ ہوسکے اس کی وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں جہاں تک حدیث کا تعلق ہے، اس میں ضعف کے اتنے پہلو...

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

غامدی صاحب اتنی قطعیت کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ سامنے والے نے اگر کچھ پڑھا نہ ہو (اور بالعموم ان کے سامنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں)، تو وہ فورا ہی یقین کرلیتے ہیں، بلکہ ایمان لے آتے ہیں، کہ ایسا ہی ہے۔ اب مثلا ایک صاحب نے ان کی یہ بات پورے یقین کے ساتھ دہرائی کہ قرآن میں توہین کی سزا نہیں ہے، لیکن تھوڑی بحث کے بعد خود ہی مان لیا کہ بارہ سال سے تو میں نے قرآن پڑھا ہی نہیں، بچپن میں ناظرہ پڑھا تھا! ایسوں سے کیا بحث کی جائے، لیکن ایسوں کے استاذ امام کی غلطی واضح کرنے کےلیے تین سال قبل جو لکھا تھا، وہ مکرر پیشِ خدمت ہے:
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے تو یہ نوٹ کریں کہ یہ سوال ہی غلط ہے۔ قرآن کریم کو سنت کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ اس لیے صحیح سوال یہ نہیں کہ قرآن کریم میں توہینِ رسالت کی سزا کیا ہے؟ بلکہ یہ ہے کہ کیا قرآن و سنت نے توہینِ رسالت کو قابلِ سزا جرم قرار دیا ہے؟ اگر ہاں تو اس پر قرآن و سنت نے کیا سزا مقرر کی ہے؟
ان دو سوالات کے جوابات ڈھونڈنے سے پہلے یہ نوٹ کریں کہ قرآن و سنت میں بعض اوقات جرائم کی سزا مقرر ہوتی ہے اور بعض اوقات کسی فعل کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کے بعد اس کےلیے سزا مقرر کرنے کا اختیار مسلمانوں کی حکومت کو دیا جاتا ہے۔ اول الذکر کی مثال میں قصاص اور حدود کی سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے اور ثانی الذکر میں ان سزاؤں کا ذکر کیا جاسکتا ہے جنھیں فقہاے کرام تعریر اور سیاسہ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں۔
اب جہاں تک توہینِ رسالت کے فعل کا تعلق ہے اس میں دو رائیں نہیں ہوسکتیں کہ قرآن و سنت کی رو سے یہ قابلِ سزا جرم ہے۔ کئی آیات اور احادیث اس ضمن میں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ان میں وہ آیات اور احادیث بھی شامل ہیں جو ارتداد کے متعلق ہیں کیونکہ توہینِ رسالت کا جرم یقیناً کفر ہے اور مسلمان کی جانب سے کفر کے ارتکاب پر ارتداد کا حکم لاگو ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کی جانب سے توہینِ رسالت کی کوئی ایسی صورت فرض کرنی ممکن ہی نہیں جو ارتداد نہ ہو۔ البتہ غیرمسلم کی جانب سے توہینِ رسالت کا فعل ارتداد نہیں کہلا سکتا اگرچہ یہ اس کے کفر میں مزید اضافہ ہے۔
اتنی بات واضح ہوگئی ہے تو سزا کے تعین کا مسئلہ آسان ہوگیا۔
اگر مسلمان کی جانب سے اس فعل شنیع کا ارتکاب ہو تو قرآن و سنت نے ارتداد کی جو سزا مقرر کی ہے ، وہی سزا اس شخص کو دی جائے گی۔
اگر غیرمسلم نے اس فعل شنیع کا ارتکاب کیا تو قرآن و سنت نے اس کےلیے مناسب سزا کے تعین کا کام حکمران اور قاضی پر چھوڑا ہے۔
یہ اس صورت کا حکم ہے جب اس جرم کا ارتکاب انفرادی سطح پر ہو۔
اگر اس جرم کا ارتکاب کسی منظم جتھے کی جانب سے اجتماعی طور پر ہو، یا اس فعل کو کسی منظم جتھے کی جانب سے تائید اور تحفظ حاصل ہو ، تو اس صورت میں یہ جنگی اقدام ہے جس کے لیے قرآن و سنت نے قتال کا حکم دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پس نوشت:
اگر اس کے جواب میں غامدی صاحب کا حلقہ یہ کہنے لگے کہ ارتداد کی سزا تو رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے ان کے براہِ راست مخاطبین کو ہی دی جاسکتی ہے، تو ان سے کہیے کہ آپ کے اس غلط مفروضے کی دھجیاں ہم پہلے بکھیر چکے ہیں۔ یہاں اس پر بحث اس لیے غیر ضروری ہے کہ اس صورت میں آپ کا دعوی یہ ہونا چاہیے کہ توہینِ رسالت/ارتداد کی سزا تو قرآن میں ہے لیکن صرف رسول کی جانب سے اتمامِ حجت کے بعد ان کے براہِ راست مخاطبین کےلیے، لیکن آپ تو عوام الناس کو مغالطے میں ڈالنے کےلیے سرے سے سزا کا ہی انکار کررہے ہیں۔ تلبیس کی بدترین صورت دیکھنی ہو، تو یہ دیکھیے۔

 

 

 

 

 

 

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…