آمدِ امام مہدی

Published On July 17, 2024
تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مولانا فراہی نے یہ تاویل اختیار کی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب سے اصل مقصود یہ تھا کہ وہ اپنے اکلوتے / پہلوٹھے بیٹے کو بیت اللہ کی خدمت کے لیے خاص کردیں۔ اس تاویل کے لیے ان کا بنیادی انحصار ان احکام پر ہے جوتورات میں ان لوگوں...

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

رعایتِ صلاۃ میں غامدی صاحب کے قطعی الدلالۃ کا حال

ڈاکٹر زاہد مغل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قطعی الدلالۃ کے موضوع پر مکتب فراہی کے ابہامات پر متعدد انداز سے بات ہوچکی۔ ایک مثال لیجیے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا کہ جب تم سفر کے لئے نکلو تو تمہارے لئے نماز قصر کرنے میں کچھ حرج نہیں۔ اس آیت سے ماخوذ دیگر احکام کے علاوہ...

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

غامدی صاحب اور انکارِ حدیث

ڈاکٹر حافظ محمد زبیر دوست کا سوال ہے کہ غامدی صاحب کو "منکر حدیث" کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ جواب: دیکھیں، اصل یہ ہے کہ آپ کی "انکار حدیث" سے مراد کیا ہے؟ اگر تو انکار حدیث سے مراد کلی طور پر حدیث کا انکار ہے تو ایسا غامدی صاحب نہیں کرتے۔ بہر حال یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ...

سوال

قبل قیامت حضرت مہدی علیہ السلام کی آمد سے متعلق ٹیلی ویژن پر ایک سوال کے جواب میں علامہ غامدی نے کہا: کسی امر کے عقیدہٴ اسلامی میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر واضح طور پر ہو۔ جہاں تک امام مہدی کے عقیدہ کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ امام مہدی کی آمد کے قائلین صرف احادیث سے استدلال کرتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے کی احادیث انتہائی مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالم تو عالم ایک معقولیت پسند آدمی ان متضاد ، بے بنیاد اور مضحکہ خیزکہانیوں کو قبول نہیں کرے گا۔ میں نے اس سلسلے میں مزید تحقیق کی اور اس عالم اور اس کے طلبہ کی ویب سائٹ ملی

http://www.renaissance.com.pk ۔ درج ذیل جواب ان کے شاگرد طارق ہاشمی کا دیا ہوا ہے۔

سوال: کچھ احادیث میں یہ بات آتی ہے کہ قیامت سے قبل امام مہدی آئیں گے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ قرآن و حدیث میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسے ہم عقیدہ کا جز نہ سمجھاجائے اور اس سے متعلق احادیث موضوع ہیں؟

جواب: اسلامی تعلیمات کے دو ذرائع ہیں ؛ قرآن و حدیث۔ عام طور پر قرآن میں اسلامی عقائد ہیں اور حدیث میں اعمال کا ذکر ہے۔ قرآن میں مذکور عقائد اور حدیث میں مذکور اعمال پر کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے یہ کہنا صحیح نہیں کہ حضرت مہدی کی آمد کا عقیدہ اسلامی عقائد کا جز ہے۔ مزید برآں حضرت مہدی کی آمد کی پیشین گوئی معتبر نہیں ہے۔ دو بڑے مسلم علماء ابن خلدون اور علامہ تمنا عمادی نے روایةً و درایةً ان احادیث کی تحقیق کی ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی ساری روایتیں بے بنیاد ہیں۔

 

جواب

علامہ شوکانی نے الإذاعة ص۷۷ میں لکھا ہے فتقرر أن الأحادیث الواردة في المہدي المنتظر متواترة، والأحادیث الواردة في نزول عیسی متواترة چنانچہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو احادیث مہدی منتظر کے بارے میں آئی ہیں، وہ سب متواتر ہیں، اسی طرح وہ احادیث جو نزول عیسی کے بارے میں آئی ہیں وہ سب بھی متواتر ہیں۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح بخاری، ج۶ ص۳۵۸ میں لکھا ہے ولو تواترت الأخبار بأن المہدي من ہذہ الأمة وأن عیسی یصلی خلفہ الخ متواتر احادیث آئی ہیں کہ امام مہدی اس امت میں سے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
احادیث متواترہ سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ یقینی ہوتا ہے، عقائد کے باب میں پیش کرنا صحیح ہے، یہ مسلمہ اصول ہے، حیرت کی بات ہے کہ علامہ غامدی نے ان احادیث کو مضحکہ خیز اور بے بنیاد بتایا ہے اور ان کے شاگرد طارق ہاشمی نے امام مہدی کی آمد کی پیشین گوئی کو ہی غیر معتبر قرار دیا ہے۔ یہ دونوں اگر احادیث صحیحہ صریحہ متواترہ کا مطالعہ رکھتے اور ان کی معتبر شروح کو دیکھتے تو ایسی بات نہ لکھتے۔ احادیث متواترہ کے خلاف کسی کی بات معتبر نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم

فتوی : 875

دار الافتاء دار العلوم دیوبند

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.