حیات و نزولِ عیسی

Published On July 16, 2024
حدیث میں بیان کردہ امور: فرائض نبوت  یا احسان نبوت؟ مولانا فراہی و اصلاحی صاحبان کی رائے

حدیث میں بیان کردہ امور: فرائض نبوت یا احسان نبوت؟ مولانا فراہی و اصلاحی صاحبان کی رائے

ڈاکٹر زاہد مغل محترم غامدی صاحب نے قرآن و حدیث کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے حالیہ ویڈیوز میں فرمایا ہے کہ احادیث میں بیان شدہ قرآن کی شرح و فرع آپﷺ پر فرض نہیں تھا بلکہ یہ امور آپﷺ نے امت کے حق میں بطور رافت و وحمت اور احسان کئے (تاہم یہ سب امور امتیوں کے لئے واجب...

جاوید احمد غامدی کے منطقی مغالطے

جاوید احمد غامدی کے منطقی مغالطے

عمران شاہد بھنڈر کوئی بھی خیال جب ایک قاعدے کے تحت اصول بن جاتا ہے تو پھر صرف اس سے انکار یا اس کا استرداد اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ جن حقائق پر اس اصول کی تشکیل ہوئی ہے، انہیں باطل ثابت کر دیا جائے۔ بصورتِ دیگر منطقی اصول کی صلابت کو کچھ فرق نہیں پڑتا، البتہ معترض...

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

خوابِ ابراہیم ؑ اور مکتبِ فراہی کا موقف ( ایک نقد)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد مولانا فراہی نے یہ تاویل اختیار کی ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے خواب سے اصل مقصود یہ تھا کہ وہ اپنے اکلوتے / پہلوٹھے بیٹے کو بیت اللہ کی خدمت کے لیے خاص کردیں۔ اس تاویل کے لیے ان کا بنیادی انحصار ان احکام پر ہے جوتورات میں ان لوگوں...

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: دوسری قسط

تبیین و تخصیص اور غامدی صاحب کا موقف : دلیلِ مسئلہء رجم کا جائزہ: پہلی قسط

ڈاکٹر زاہد مغل محترم جناب غامدی صاحب “رجم  کی سزا” پر لکھے گئے اپنے  مضمون میں کہتے ہیں کہ قرآن مجید اور کلام عرب کے اِن شواہد سے صاف واضح ہوتا ہے کہ ’تبیین‘ کا لفظ کسی معاملے کی حقیقت کو کھول دینے ، کسی کلام کے مدعا کو واضح کر دینے اور کسی چیز کے خفا کو دور کر کے...

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

امریکی جہاد اور غامدی صاحب کے بدلتے بیانیے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد دو ہزار ایک (2001ء) میں غامدی صاحب نے فرمایا تھا کہ افغانستان پر امریکی حملہ دہشت گردی نہیں تھا۔ ارتقا کے منازل طے کرنے کے بعد 2019ء میں غامدی صاحب نے اسے ظلم و عدوان کےخلاف جہاد کی مثال قرار دیا! مزید دو سال بعد امریکا کو بے آبرو ہو کر...

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین جاوید احمد غامدی کے بارے میں، جس کے درجِ ذیل عقائد وخیالات ہیں اور ان کی دعوت واشاعت میں ہمہ تن مصروف ہے ۔
حیات ونزول عیسیٰ کا منکر ہے ،۔ کہتا ہے عیسیٰ علیہ السلام وفات پاگئے ہیں۔﴿میزان،ص۷۸۱﴾۔
ظہور مہدی کا بھی منکر ہے ، کہتا ہے قیامت کے قریب کوئی مہدی نہیں آئے گا۔میزان،ص۷۷۱
مرزا غلام احمد قادیانی، غلام احمد پرویز سمیت کسی کو کافر تسلیم نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ کسی بھی امتی کو کسی کی تکفیر کا حق نہیں ہے ۔اشراق، اکتوبر۲۰۰۸ء ص۷۶
حجیت حدیث کا منکر ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ حدیث سے دین میں کسی عمل یا عقیدے کا اضافہ بالکل نہیں ہوسکتا۔ حدیث شریف اور سنت رسول سے قراآن پاک کی تخصیص وتحدید کا بھی منکر ہے ۔ کہتا ہے (؟) حدیث مبارکہ میں جو چیز ﴿اس کے ﴾ علم وعقل کے مسلمات کے خلاف ہو وہ ناقابل قبول ہے ۔ میزان،ص۵۱،۶۱،۲۶
سنت کے قبول کے لیے بھی قرآن پاک کی طرح تواتر کی شرط لگاتا ہے ۔ اس کے نزدیک سنتوں کی کل تعداد صرف ۲۷ ہے ۔ باقی تمام سنتوں کا منکر ہے ۔ مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف اعمال، نفلی عبادات، مرغوب طعام، لباس وغیرہ کی سنیت کا منکر ہے ۔میزان،

جواب

حیات عیسیٰ علیہ السلام اور قربِ قیامت آپ کے نزول کا تذکرہ قرآن پاک کی متعدد آیات سے ثابت ہے، چنانچہ کلام پاک میں ہے کہ وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ․ وَمَا قَتَلُوہُ یَقِینًا، بَلْ رَفَعَہُ اللَّہُ إِلَیْہِ وَکَانَ اللَّہُ عَزِیزًا حَکِیمًا، وَإِنْ مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ إِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہِ قَبْلَ مَوْتِہِ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ یَکُونُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا․ (سورة النساء: رقم الآیة: ۱۵۷-۱۵۸-۱۵۹) کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا ہے اور نہ ہی سولی دی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھالیا ہے، اور آپ کی وفات سے قبل تمام اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے، اور یہ اسی وقت ہوگا جب کہ قربِ قیامت آپ دنیا میں تشریف لائیں، نیز حیات ونزولِ عیسیٰ علیہ السلام بکثرت احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں جو حد واتر کو پہنچ چکی ہیں، حدیث باک میں ہے: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن عیسَی لم یمتْ، وإنہ راجعٌ إلیکم قبل یوم القیامة (تفسیر البحر المحیط: ۲/۲۷۳) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یحج المہدی وہو ابن أربعین سنة الخ (العرف الوردی للسیوطی: ۲۷، ط مفتی الہی بخش) قال العلامة الشوکانی فی کتابہ ”التوضیح“ إن الأحادیث الواردة فی المہدی المنتظر متواترة والأحادیث الواردة فی الدجال متواترة والأحادیث الواردة فی نزول عیسی متواترة․
نیز احادیث متواترہ، صحیحہ اور ثابتہ کا منکر اور ان کی حجیت کو تسلیم نہ کرنے والا باجماعِ اہل ا لسنة والجماعة دائرہٴ اسلام سے خارج ہے، من أنکر المتواتر فقد کفر ومن أنکر المشہو یکفر عند البعض الخ (الہندیة، کتاب السیر الباب التاسع أحکام المرتدین/ ما یتعلق بالأنبیاء) من قال لفقیہ یذکر شیئًا من العلم أو یروي حدیثًا صحیحًا أي ثابتًا لا موضوعًا ہذا لیس بشيء کفر (شرح الفقہ الأکبر ص: ۴۷۳) الحاصل مذکور فی السوال عقائد کا حامل شخص باجماع اہل السنة والجماعة کافر ہے، دائرہٴ اسلام سے خارج ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم

فتوی : 57195

دار الافتاء دار العلوم دیوبند

Appeal

All quality educational content on this site is made possible only by generous donations of sponsors like you. In order to allow us to continue our effort, please consider donating whatever you can!

Do Your Part!

We work day in and day out to produce well-researched, evidence based, quality education so that people may gain the correct understanding of their religion. But our effort costs a lot of money! Help us continue and grow our effort so that you may share in our reward too!

Donate

You May Also Like…

No Results Found

The page you requested could not be found. Try refining your search, or use the navigation above to locate the post.